جاسوس ٹیکنالوجی جو ہم سب استعمال کر رہے ہیں

ٹم ہارفورڈ  جمعرات 29 اگست 2019
ٹیگز دروازے کھول سکتے ہیں، اوزاروں، آلات اور یہاں تک کہ دواؤں کو بھی ٹریک کر سکتے ہیں۔ فوٹو: فائل

ٹیگز دروازے کھول سکتے ہیں، اوزاروں، آلات اور یہاں تک کہ دواؤں کو بھی ٹریک کر سکتے ہیں۔ فوٹو: فائل

ماسکو 4 اگست 1945، دوسری عالمی جنگ کا یورپی باب ختم ہوچکا تھا اور امریکہ اور سوویت یونین اپنے مستقبل کے تعلقات پر غور کر رہے تھے۔

امریکی سفارت خانے میں سوویت یونین کی ینگ پائینیئر آرگنائزیشن سے تعلق رکھنے والے نوجوان لڑکوں کے ایک گروہ نے دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان دوستی کی علامت کے طور پر ایک تحفہ پیش کیا۔ انھوں نے اس وقت روس میں امریکی سفیر ایویرل ہیریمین کو ہاتھ سے تیار کردہ امریکی مہر کا ایک طغرہ پیش کیا۔ اسے بعد میں صرف ’دی تھِنگ‘ کہا جانے لگا تھا۔

ظاہر ہے کہ ہیریمین کے دفتر نے لکڑی سے بنے ہوئے اس آرائشی پیس کی تلاشی لی ہوگی کہ کہیں اس میں خفیہ آلات تو نصب نہیں، مگر نہ اس میں تاریں ملیں نہ بیٹریاں، تو اس سے کیا نقصان ہو سکتا تھا؟ چنانچہ ہیریمین نے اس چیز کو نمایاں جگہ پر اپنے سٹڈی روم کی دیوار پر آویزاں کردیا جہاں سے یہ اگلے سات سال تک ان کی ذاتی گفتگو سنتی رہی۔انھیں کبھی یہ احساس نہیں ہوسکتا تھا کہ یہ ڈیوائس 20 ویں صدی کے ذہین ترین دماغوں میں سے ایک لیون تھیریمین نے بنائی تھی۔ وہ اپنے نام پر موجود انقلابی برقی آلہ موسیقی کے لیے مشہور تھے جو بغیر چھوئے بجایا جا سکتا تھا۔

وہ امریکا میں اپنی اہلیہ لیوینیا ولیمز کے ساتھ رہتے تھے مگر پھر 1938ء میں سوویت یونین واپس لوٹ آئے۔ ان کی اہلیہ نے بعد میں بتایا کہ لیون کو اغوا کیا گیا تھا لیکن کچھ بھی ہو، انھیں فوراً ہی ایک جیل کیمپ میں کام سے لگا دیا گیا جہاں انھیں سن سکنے والی دیگر ڈیوائسز کے ساتھ ساتھ ’دی تھِنگ‘ ڈیزائن کرنے کے لیے مجبور کیا گیا۔

کچھ عرصے بعد امریکی ریڈیو آپریٹرز نے پایا کہ امریکی سفیر کی گفتگو ہوا کی لہروں پر نشر ہو رہی تھی مگر یہ نشریات کافی ناقابلِ پیشگوئی تھیں: ریڈیو کی لہریں کہاں سے نشر ہورہی ہیں، یہ جاننے کے لیے جب سفارتخانے کی تلاشی لی گئی تو کوئی خفیہ آلہ نہیں مل سکا۔ اس راز کی تلاش میں ابھی مزید کچھ عرصہ لگنے والا تھا۔

سفیر کی گفتگو سن سکنے والی ڈیوائس ’دی تھنگ‘ کے اندر تھی۔ اور یہ ایک انتہائی سادہ سا اینٹینا تھا جس پر ایک چاندی کی جھلی چڑھا کر مائیک بنا دیا گیا تھا، اور ایک چھوٹے سے خانے میں چھپا دیا گیا تھا۔ اس میں نہ کوئی بیٹری اور نہ ہی توانائی کا کوئی دوسرا ذریعہ موجود تھا کیونکہ ’دی تھنگ‘ کو اس کی ضرورت ہی نہیں تھی۔

جب سوویت سائنسدان امریکی سفارتخانے کی جانب ریڈیو لہریں پھینکتے تو یہ ڈیوائس فعال ہوجاتی۔ یہ اپنی جانب آنے والے سگنلز سے توانائی حاصل کرتی اور گفتگو واپس نشر کرتی۔ جب سوویت سگنل بند ہوجاتا تو یہ ڈیوائس بھی خاموش ہوجاتی۔

تھیریمین کے پراسرار آلہ موسیقی کی طرح ’دی تھنگ‘ بھی شاید ایک ٹیکنالوجیکل پہیلی معلوم ہوتی ہو، مگر اپنی جانب آنے والے ریڈیو سگنلز سے فعال ہو کر معلومات واپس بھیجنے والی ڈیوائس کا تصور اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں ریڈیو فریکوئنسی آئیڈینٹیفکیشن (آر ایف آئی ڈی) ٹیگز تقریباً ہر جگہ ہی استعمال ہو رہے ہیں۔

میرے پاسپورٹ میں بھی ایک ٹیگ ہے، اور ایسا ہی ایک ٹیگ میرے کریڈٹ کارڈ میں بھی ہے جس کی وجہ سے کسی آر ایف آئی ڈی ریڈر کے پاس گھما کر ہی ادائیگی کی جا سکتی ہے۔ لائبریری کی کتابوں میں بھی اکثر ٹیگز ہوتے ہیں جبکہ ایئرلائنز اکثر مسافروں کا سامان ٹریک کرنے کے لیے جبکہ دکانیں سامان چوری ہونے سے بچانے کے لیے اس کا استعمال کرتی ہیں۔

ان میں سے کچھ میں کرنٹ کا ذریعہ موجود ہوتا ہے مگر تھیریمین کے آلے کی طرح ان میں سے زیادہ تر اپنی جانب آنے والے کسی ریڈیو سگنل سے توانائی حاصل کرتے ہیں۔ اس سے ان کی قیمت کم ہوجاتی ہے اور کم قیمت ہونا ہی ان کی مقبولیت کی وجہ ہوتا ہے۔

دوسری عالمی جنگ کے دوران اتحادی طیاروں نے آر ایف آئی ڈی کی ہی ایک صورت استعمال کی تھی۔ ریڈار جب کسی طیارے پر لہریں پھینکتا تو ٹرانسپونڈر کہلانے والا ایک آلہ ریڈار کی جانب ایک سگنل واپس بھیجتا جس سے یہ مطلب لیا جاتا کہ ’ہم تمہارے ساتھی ہیں، ہمیں مار مت گرانا۔‘ مگر جب سلیکون سے بننے والے سرکٹس کی سائز میں کمی ہونے لگی تو ایسے ٹیگز کا تصور بھی عام ہوا جنھیں آپ طیارے سے کہیں کم قیمت چیزوں پر بھی لگا سکتے ہیں۔

بار کوڈز کی طرح آر ایف آئی ڈی ٹیگز کو بھی کسی چیز کی فوراً شناخت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مگر بار کوڈز کے برعکس انھیں خودکار انداز میں سکین کیا جا سکتا ہے اور انھیں مخصوص روشنی کی سیدھ میں رکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کچھ ٹیگز کو کئی فٹ دور سے پڑھا جا سکتا ہے، کچھ کو غلطیوں کے ساتھ ہی مگر مجموعوں کی صورت میں بھی پڑھا جا سکتا ہے اور ان میں صرف بار کوڈ کے علاوہ اور بھی بہت کچھ محفوظ کیا جا سکتا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف کسی چیز کو پہچانا جا سکتا ہے، بلکہ اس ٹیگ میں یہ بھی محفوظ کیا جا سکتا ہے کہ یہ مخصوص چیز کہاں اور کس دن تیار کی گئی تھی۔

آر ایف آئی ڈی ٹیگز کو 1970 کی دہائی میں ریل کے ڈبوں اور مویشیوں پر نظر رکھنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا مگر سنہ 2000 کی ابتداء تک ٹیسکو، وال مارٹ اور امریکی محکمہ دفاع نے مطالبہ کرنا شروع کر دیا کہ ان کے سپلائرز فراہم کیے جانے والے سامان پر ٹیگز لازماً چسپاں کریں چنانچہ نتیجتاً آر ایف آئی ڈی ٹیگز ہر جگہ نظر آنے لگے۔کچھ جوشیلے افراد نے تو اپنے جسموں میں بھی آر ایف آئی ڈی ٹیگز لگوا لیے جن کی مدد سے ان کے لیے دروازے کھولنا یا صرف ہاتھ کے اشارے سے سب وے میں سوار ہونا آسان ہوگیا۔

1999 میں گھریلو استعمال کی اشیا بنانے والی کمپنی ’پروکٹر اینڈ گیمبل‘ میں کام کرنے والے کیوین ایشٹن نے آر ایف آئی ڈی کے گرد گھوم رہے اس تمام جوش و جذبے کے لیے ایک نئی اصطلاح ایجاد کی۔ انھوں نے کہا کہ آر ایف آئی ڈی بالآخر ہمیں انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی) کی جانب لے جائے گا، یعنی ایک ایسی دنیا جس میں ہر چیز دوسری چیز سے منسلک ہوگی۔

مگر جلد ہی آر ایف آئی ڈی کے بارے میں سارا جوش و خروش چمک دھمک والی مصنوعات کی جانب مُڑ گیا جس میں2007 ء میں متعارف ہونے والے سمارٹ فون، سمارٹ واچ، سمارٹ تھرموسٹیٹ، سمارٹ سپیکر اور یہاں تک کہ سمارٹ کارز تک شامل ہیں۔ یہ تمام مصنوعات جدید ہیں، کمپیوٹنگ کی بے پناہ قوت رکھتی ہیں، مگر اس کے علاوہ یہ مہنگی بھی ہوتی ہیں اور انھیں کافی توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔

جب ہم آج انٹرنیٹ آف تھنگز کی بات کرتے ہیں تو ہم آر ایف آئی ڈی کی بات نہیں کرتے بلکہ ان ڈیوائسز کی بات کرتے ہیں۔ یہ اتنی پیچیدہ انجینیئرنگ والی ایک دنیا ہوگی جس میں آپ کا ٹوسٹر بلاوجہ آپ کے فرج سے رابطے میں ہوگا جبکہ ریموٹ کنٹرولڈ سیکس ٹوائز آپ کی ان عادات کے بارے میں بھی معلومات رکھتے ہوں گے جنھیں ہم نہایت ذاتی نوعیت کی سمجھتے ہیں۔

ایک ایسے دور میں رہنے کی وجہ سے ہمیں شاید حیران نہیں ہونا چاہیے جسے ماہرِ سماجیات شوشانہ زوبوف سرویلینس کیپٹل ازم یا ’جاسوسانہ سرمایہ داری‘ کہتی ہیں۔ اس دور میں لوگوں کی ذاتی زندگی پر نظر رکھنا ایک مقبول کاروباری ماڈل ہے مگر اس تمام جوش اور فکر کے درمیان آر ایف آئی ڈی خاموشی سے اپنے کام میں مصروف ہے اور میں شرط لگا کر کہہ سکتا ہوں کہ اس کے عروج کے دن ابھی آگے ہیں۔

انٹرنیٹ آف تھنگز کے بارے میں ایشٹن کا نقطہ نظر سادہ تھا: کمپیوٹرز کو اگر صرف برقی دنیا کے بجائے حقیقی دنیا کے بارے میں فہم پیدا کرنی ہو تو انھیں ڈیٹا کی ضرورت ہوگی۔انسانوں کے پاس اس ڈیٹا کے ساتھ کام کرنے سے زیادہ بہتر دوسرے کام ہیں، چنانچہ ایسی چیزیں بنائی جائیں گی جو خود ہی کمپیوٹر کو یہ معلومات فراہم کریں جس سے حقیقی دنیا ڈیجیٹل معنوں میں زیادہ قابلِ فہم بن جائے گی۔

کئی لوگوں کے پاس اب سمارٹ فونز ہیں مگر چیزوں کے پاس سمارٹ فون نہیں ہوتے۔ آر ایف آئی ڈی ان چیزوں کو ٹریک کرنے کا ایک کم قیمت طریقہ ہوسکتا ہے۔اگر زیادہ تر ٹیگز صرف یہ بھی کریں کہ اپنے پاس سے گزرتے آر ایف آئی ڈی ریڈر کو یہ کہہ دیں ’میں یہاں ہوں!‘، تو یہ کمپیوٹرز کے لیے حقیقی دنیا کے بارے میں جاننے کے لیے کافی ہوگا۔

ٹیگز دروازے کھول سکتے ہیں، اوزاروں، آلات اور یہاں تک کہ دواؤں کو بھی ٹریک کر سکتے ہیں، پیداوار کو خودکار بنا سکتے ہیں، اور چھوٹی ادائیگیوں کو فوری کروا سکتے ہیں۔ آر ایف آئی ڈی کے پاس بھلے سمارٹ واچ یا خود چلنے والی گاڑی جتنی قوت اور لچک نہیں ہوگی مگر یہ کم قیمت اور چھوٹی ٹیکنالوجی ہے، اتنی کم قیمت اور اتنی چھوٹی کہ اسے سینکڑوں ارب چیزوں کو ٹیگ کرنے میں استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس کے لیے بیٹریوں کی ضرورت بھی نہیں ہوگی۔ کوئی بھی شخص جو یہ سمجھتا ہے کہ اس سے فرق نہیں پڑتا، اسے دوبارہ لیون تھیریمن کے بارے میں پڑھنا چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔