کراچی میں پانی کی قلت کا معاملہ سندھ اسمبلی تک پہنچ گیا

اسٹاف رپورٹر  جمعرات 29 اگست 2019
مختلف ارکان اسمبلی نے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیے، نجی اسکول میں بچے کی ہلاکت کے واقعے پر تحقیقاتی کمیشن بنانے کی قرارداد منظور۔ فوٹو:فائل

مختلف ارکان اسمبلی نے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیے، نجی اسکول میں بچے کی ہلاکت کے واقعے پر تحقیقاتی کمیشن بنانے کی قرارداد منظور۔ فوٹو:فائل

کراچی: سندھ اسمبلی میں بدھ کو اپوزیشن کی جانب سے شہر میں پانی کی قلت کا معاملہ بھرپور طریقے سے اٹھایا گیا۔

پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی خرم شیر زمان نے اپنے ایک توجہ دلاؤ نوٹس کے ذریعے کہا کہ حب ڈیم بھرنے کے باوجود کراچی میں پانی کی دستیابی ممکن نہیں ہورہی، پانی کے بحران کا یہ عالم ہے لوگ تنگ آکر ہمارے گھروں اور کاروبار پر آکر کھڑے ہوجاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پانی کے اتنے مسائل ہیں ایم ڈی واٹر بورڈ سے مل مل کر تھک گئے۔ کراچی واٹر بورڈ کو فکس کرنا پڑے گا اگرپورے پاکستان میں کوئی سب سے ز یادہ کرپٹ ادارہ ہوگا تو یہ ہی ہے، اگر اینٹی کرپشن کچھ نہیں کرسکتی تو ہم نیب یا اینٹی کرپشن کو کہیں پھر کہا جائے گا کہ مداخلت کی جاتی ہے، خرم شیرزمان نے سوال کیا کہ واٹر بورڈ میں افسران کے کاروبار ہیں۔ واٹر ٹینکرز کے پیچھے کون لوگ ہیں؟

خرم شیرزمان نے بڑے جذباتی انداز میں کہا کہ آخر ہم کہاں جائیں کیاخودکشی کرلیں، یہ مسائل کیسے حل ہونگے، افسر سالوں سے بیٹھے ہیں انہیں کوئی نہیں ہٹاتا، وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ واقعی پانی کی قلت کے سبب مسائل ہیں اور پانی جتنا ہے وہ اتنا بھی نہیں کہ پورے شہر کو پورا کیا جائے، واٹر بورڈ کا ایک نیا بورڈبنا رہے ہیں جس میں سب کو شامل کریں گے،دبئی میں ایک اجلاس کرکے آئے ہیں چاہتے ہیں سب لوگ آن بورڈ ہوں۔

وزیر بلدیات نے کہا کہ کے فور اور واٹر سیلینیشن کے مسائل جب تک حل نہیںہوں گے تب تک مسائل رہیں گے، پی ٹی آئی کے عدیل شہزاد نے اورنگی ٹاؤں میں پانی اور سیوریج کے مسائل سے متعلق اپناتوجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا۔

وزیر بلدیات ناصر شاہ نے کہا کہ اورنگی میں ایشوز ہیں، 45 آنچ کی کچھ لائیں تبدیل کی ہیں اور مزید بھی کام کرارہے ہیں،کورنگی میں بارہ ہزار روڈ پر بھاری گاڑیوں کے سبب حادثات کے حوالے سے ہاشم رضا نے ایک توجہ دلاؤنوٹس پیش کرتے ہوئے کہا کہ کورنگی میں بھاری گاڑیوں کی وجہ سے حادثات معمول بن گئے ہیں۔

وزیر بلدیات نے اس ضمن میں مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی کرائی، پی ٹی آئی کے رابستان خان نے اپنے توجہ دلاؤنوٹس کے ذریعے سرجانی میں سیوریج کے سنگین مسائل کی جانب توجہ مبذول کرائی، ان کا کہنا تھا کہ سرجانی کے مختلف علاقوں میں سیوریج واٹرگھروں میں داخل ہورہا ہے۔وزیر بلدیات ناصر شاہ نے کہا کہ جن مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے حکومت سندھ کا محکمہ بلدیات انھیں حل کرنے کے لیے سنجیدہ کو شش کررہا ہے۔

علاوہ ازیں کراچی کے نجی اسکول کے سوئمنگ پول میں ڈوب کر جان بحق ہونے والے بچے کا معاملہ سندھ اسمبلی پہنچ گیا۔

پی ٹی آئی کے رکن سندھ اسمبلی بلال غفار کی قرارداد سندھ اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کرلی، قرارداد کے ذریعے واقعہ پر تحقیقاتی کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا گیا، اسپیکر آغا سراج درانی کی صدارت میں سندھ اسمبلی کے اجلاس میں ارکان کے حلقوں میں جاں بحق افراد، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف اور شہدا کے ایصال ثواب کی دعا کی گئی۔

اجلاس میں نجی اسکول کے سوئمنگ پول میں ڈوب کر جاںبحق ہونے والے معصوم بچے کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی،کیماڑی کے معروف عالم دین کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔