زراعت کے فروغ کی نئی ٹیکنالوجیز

سید بابر علی  اتوار 1 ستمبر 2019
سائنس دانوں کی کاوشیں دنیا سے بھوک اور افلاس کا خاتمہ کرپائیں گی؟

سائنس دانوں کی کاوشیں دنیا سے بھوک اور افلاس کا خاتمہ کرپائیں گی؟

بھوک اور افلاس انسانیت کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ بدقسمتی سے آج کی دنیا میں یہ بلائیں تیزی سے اپنا دائرہ بڑھا رہی ہیں۔

اس صورت حال کی ایک اہم وجہ دنیا کی آبادی کا بڑھنا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ دنیا کی آبادی میں تیزی سے ہونے والے اضافے نے سائنس دانوں کو فارمنگ کے ایسے طریقوں کے بارے میں سوچنے پر مجبور کردیا ہے جنہیں استعمال کر کے نہ صرف پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا جائے، بل کہ زراعت کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق اس وقت دنیا کی آبادی سات ارب ستر کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے، اور یہ سالانہ ایک اعشاریہ بارہ فی صد کے حساب سے بڑھ رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے جولائی 2019کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں ہر روز 3لاکھ83 ہزار656 بچے جنم لے رہے ہیں اور شرح اموات شرح پیدائش کی نصف سے بھی کم ہے، دنیا بھر میں روزانہ ہونے والی اموات کی تعداد 1لاکھ59ہزار160 ہے۔ اس لحاظ سے دنیا کی آبادی میں شامل ہونے والے انسانوں کی تعداد2لاکھ 24ہزار496 ہے ، یعنی ہر 38سیکنڈ میں ایک فرد کا اضافہ ہورہا ہے۔

ا س شرح سے 2030 تک دنیا کی آبادی 8ارب، 2040تک 9ارب اور2050 تک دس ارب سے تجاوز کرجائے گی اور زرعی پیدوار 18فی صد تک کم ہوجائے گی۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے برائے خوراک اور زراعت (ایف اے او) کی جانب سے رواں سال ’دی اسٹیٹ آف فوڈ سیکیوریٹی اینڈ نیوٹریشن ان دی ورلڈ‘ کے عنوان سے جاری ہونے رپورٹ کے مطابق دنیا کے 8کروڑ بیس لاکھ افراد پیٹ بھر کر کھانے سے محروم ہیں، ایک طرف لوگوں کو پیٹ بھر کر کھانا نصیب نہیں تو دوسری جانب دنیا کا ایک خطہ بھی ایسا نہیں جو موٹاپے اور زائد وزن کی وبا سے متاثر نہ ہو۔ ایف اے او کے مطابق مستقبل میں غذائی قلت سے بچنے کے لیے خوراک کی پیداوار کو بڑھا کر 70 سے 80 فی صد تک لے جانا ہوگا۔

لیکن مویشیوں کی افزائش اور فصلوں کے لیے زمین درکار ہے اور ہم (انسان) پہاڑوں کی چوٹیوں، برفانی علاقوں اور صحراؤں کو چھوڑ کر زمین کا ممکنہ حد تک رقبہ استعمال کرچکے ہیں۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ساتھ بنی نوع انسان بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے سطح زمین کا چالیس فی صد سے زائد باغات، کھیت کھلیان اور مویشیوں کی گلہ بانی کے لیے مختص کرچکا ہے، غذائی ضروریات پوری کرنے کے چکر میں انسانوں نے کرہ ارض کا پورا ماحولیاتی توازن متاثر کرکے آبی اور جنگلی حیات کو معدومی کے خطرے سے دوچار کردیا ہے۔

اگر ہم اجناس کے حصول کے لیے اسی طرح ماحول کو تباہ کرتے رہے تو وہ دن دور نہیں جب انسانوں کے لیے قابل رہائش جگہ کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا۔ زراعت بھی ماحولیاتی مسائل سے جُڑا اہم مسئلہ ہے۔ ان انسانی سرگرمیوں کا نتیجہ ماحولیاتی تبدیلیوں کی شکل میں بھی سامنے آرہا ہے۔ موسموں میں ہونے والی شدت پیداوار میں کمی کا موجب بن رہی ہے۔ عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق زراعت سے پیدا ہونے والی نان کاربن ڈائی آکسائیڈ گرین ہائوس گیسز کی شرح اس وقت 19سے 29 فی صد تک ہے۔ اور اگر اس پر قابو نہیں پایا گیا تو اس میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

پاکستان، بنگلادیش، بھارت اور جنوب ایشیائی خطے کے بہت سے ترقی پذیر ممالک میں آج بھی کسان کھیتی باڑی کے لیے قبل مسیح کے زمانے کے طریقے اپنائے ہوئے ہیں، وہ آج بھی ہل چلانے کے لیے بیلوں کا استعمال کر رہے ہیں۔ ہم دنیا بھر میں صرف کھیتی باڑی کے جدید طریقے اپناکر بھی زیادہ اجناس حاصل کر سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں کراپ روٹیشن (ایک زمین پر مختلف فصلیں اُگانا، تاکہ اسے بنجر ہونے سے بچایا جاسکے) سے زراعت کے میدان میں نمایاں تبدیلی آسکتی ہے۔

بنا کسی تعطل کے ایک ہی زمین پر مسلسل ایک ہی فصل اگانے سے پودے مٹی میں موجود تمام نائٹروجن کھاکر زمین کو بنجر چھوڑ دیتے ہیں۔ اس مسئلے کا حل بہت سادہ ہے کہ یا تو زمین کو کھاد کی شکل میں زیادہ سے زیادہ نائٹروجن فراہم کی جائے یا پھر زمین پر اَگلی فصل اُس وقت تک کاشت نہ کی جائے جب تک مٹی دوبارہ جان نہ پکڑ لے۔ ان دونوں طریقوں سے زیادہ اچھی فصل پیدا ہوگی، تاہم فرٹیلائزر استعمال کرنے کا طریقۂ کار دیہی علاقوں میں کاشت کاری والے چھوٹے کسانوں کے لیے تھوڑا منہگا ہے۔

ماہرزراعت جوئیل بورنے کے مطابق گندم، چاول اور بھٹے کی فی ایکٹر پیداوار سے ہمیں بالترتیب 30 لاکھ،74لاکھ اور 75لاکھ کیلوریز حاصل ہوتی ہیں، دوسری جانب اگر ہم شکرقندی اور آلو کی فصل کاشت کرتے ہیں تو ان سے حاصل ہونے والی فی ایکٹر پیداوار مذکورہ اجناس سے کہیں زیادہ ہے۔ شکرقندی ایک کروڑ تین لاکھ اور آلو92 لاکھ کیلوریز فی ایکٹر فراہم کرتے ہیں اور ان کی فصل بے جان مٹی اور موسمی حالات برداشت کرنے کی بھی اہل ہوتی ہے۔

یورپ میں آنے والے صنعتی انقلاب کے بعد بڑھتی آبادی کی غذائیت پوری کرنے کے لیے ایک طویل عرصے تک شکرقندی کو بنیادی اناج کے طور پر فراہم کیا گیا۔ شکر قندی اور آلو کی انہی خصوصیات کی بنا پر چینی حکومت نے آلو کو قومی غذا کا حصہ بنانے اور 2008میں اسے مستقبل کی غذا قرار دیا گیا تھا اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ ایف اے او بھی مستقبل میں غذائی قلت سے بچنے کے لیے دنیا بھر میں آلو کی کاشت کرنے والے کسانوں کی حوصلہ افزائی کررہا ہے۔ لہٰذا ہمیں جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے زراعت کے طریقہ کار میں بڑے پیمانے پر تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔

ماضی میں غذائی سائنس دان زراعت کو بہتر بنانے کے بہت سے طریقوں پر کام کرتے رہے ہیں، لیکن اگر ہم زراعتی انقلاب کی بات کریں تو غالباً نارمین بورلاگ (نوبیل انعام یافتہ امریکی ماہرحیاتیات) ہی وہ پہلا شخص تھا جس نے اس مسئلے کو پہلے ہی بھانپ لیا تھا۔ یہ 1940کے وسط کی بات ہے جنوب وسطی میکسیکو میں آبادی کے بڑھنے سے اناج کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہورہا تھا۔ نارمین نے زیادہ پیداوار اور بیماریوں کے خلاف مدافعت رکھنے والے بیج کسانوں میں تقسیم کیے۔

کسان اُس وقت حیرت زدہ رہ گئے جب انہوں نے بورلاگ کے بیج کو نائٹروجن کھاد کے ساتھ استعمال کیا اور فصل پہلے سے کہیں زیادہ آئی۔ نارمین کے اس طریقہ کار کو بہت پذیرائی حاصل ہوئی اور 1963تک میکسیکو میں پیدا ہونے والی گندم کی فصل میں 95فی صد بیج نارمین کے لگے۔ 1944 سے 1963کے عرصے میں میکسیکو میں گندم کی پیداوار چھے گُنا بڑھ چکی تھی۔ 1960کے وسط میں نارمین نے جنوب ایشیائی خطے کا رُخ کیا، جو بڑھتی ہوئی آبادی اور پیداوار میں عدم توازن کے سبب غذائی قلت کا سامنا کر رہا تھا۔ نارمین نے اپنے ری انجنیئر کیے گئے بیج یہاں (جنوبی ایشیا) میں متعارف کروائے۔ ان بیجوں سے پیدا ہونے والی فصل کے نتائج بہت ہی حیرت انگیز تھے۔ محض پانچ سال بعد ہی انڈیا اور پاکستان میں گندم کی پیداوار دگنی ہوچکی تھی۔

1974تک یہ دونوں ممالک اناج کی پیداوار میں خودکفیل ہوچکے تھے۔ بورلاگ کا طریقہ کار جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں بھی تیزی سے پھیل گیا۔ نارمین نے مونوکروپنگ (ایک ہی زمین پر سال ہا سال ایک ہی فصل اُگانا) اور نائٹروجن کھاد کے زیادہ استعمال کی حوصلہ افزائی کی۔ ان دونوں سے مختصر مدت کے لیے زیادہ فصل تو حاصل کی جاسکتی ہے، لیکن طویل عرصے ان کا استعمال زمین کی زرخیزی کو کم کر دیتا ہے۔ قحط سے تحفظ کے لیے بورلاگ کی توجہ چاول اور بھٹے پر رہی۔ اسی وجہ سے نارمین نے اُن اجناس کو نظرانداز کردیا جن کے بارے میں اب ہم جانتے ہیں کہ وہ زیادہ پُرغذائیت (زیادہ کیلوریزوالی) ہیں اور ان اجناس (آلو اور شکر قندی) سے کم رقبے پر زیادہ کیلوریز حاصل کی جاسکتی ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اب فارمنگ کے طریقہ کار میں تبدیلی ناگزیر ہے، اب ہم ٹیکنالوجی کی مدد سے اسی قطعہ زمین پر 70فی صد زیادہ کیلوریز پیدا کر سکتے ہیں۔ کم جگہ اور کم پانی کے ساتھ زیادہ سے زیادہ اجناس کے حصول نے ایک نئی اپروچ ’کلائمیٹ اسمارٹ ایگری کلچر‘ کو جنم دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے برائے خوراک اور زراعت (ایف اے او) کے مطابق اس اپروچ سے ماحولیاتی تبدیلیوں کے ساتھ غذائی تحفظ کو یقینی بنانے اور زراعتی نظام، قدرتی مناظر، زرعی زمین، لائیو اسٹاک، جنگلات اور ماہی پروری کو زیادہ بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

٭ کم خرچ بالانشین
انٹرنیٹ آف تھنگس (آئی او ٹی)، (باہمی طور پر جُڑا ایک نظام جو کمپیوٹر ڈیوائسز، میکانیکی اور ڈیجیٹل مشینوں، آبجیکٹس اور انسانوں کو ایک جداگانہ شناخت مہیا کرتے ہوئے نیٹ ورک پر ڈیٹا منتقل کرنے کا اہل بناتا ہے اور اس میں انسانوں سے انسان یا انسانوں سے کمپیوٹر کے کسی باہمی عمل کی ضرورت نہیں ہوتی) سے جڑے کلائمیٹ اسمارٹ ایگری کلچر (سی ایس اے) سے کم وسائل کے ساتھ زیادہ پیداوار حاصل کی جاسکے گی۔ عالمی بینک کے مطابق سی ایس اے کا ہدف بیک وقت تین کام یابیاں حاصل کرنا ہے۔
1۔پیداوار میں اضافہ
اس ہدف میں غذا اور غذائیت کے تحفظ میں بہتری کے لیے زیادہ فصل پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں خصوصا گزربسر کے لیے زراعت پر انحصار کرنے والے دنیا کے 75فی صد غریبوں کی آمدن میں اضافہ کرنا ہے۔
2۔ریسیلینس (resilience)میں اضافہ
کسانوں میں قحط، طاعون، بیماریوں اور دیگر صدمات کی زدپذیری میں کمی کرنے، اور مختصر سیزن، خراب موسم جیسے طویل المدتی ذہنی دبائو کا سامنا کرتے ہوئے پیداواری گنجائش میں اضافہ کرتے ہوئے فصلیں اگانے میں بہتری لانا۔
3۔درجۂ حرارت میں کمی
پیدا ہونے والی فی کلو یا فی حرارہ پیداوار پر حرارت میں کمی کی کوشش کرنا، جنگلات کے کٹائو کی روک تھام اور ماحول سے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر مضر گیسوں میں تخفیف کے لیے نئے طریقوں کی شناخت۔
زراعت میں بہتری لانے کے لیے ماضی میں کئی اصول اور ٹیکنالوجیز اپنائی گئیں لیکن سی ایس اے اپروچ ان سے جدا گانہ حیثیت رکھتی ہے۔ اول، اس میں نمایاں فوکس ماحولیاتی تبدیلی پر کیا گیا ہے۔ دوم، سی ایس اے ایک نظم و ترتیب کے ساتھ پیداواری صلاحیت، موافقت اور تخفیف کے درمیان ٹریڈ آف اور باہمی تعامل پر غوروفکر اور سرمایہ کاری میں خسارے کی صورت میں نئے فنڈ ز فراہم کرنا شامل ہے۔

عالمی بینک اس وقت کلائمیٹ اسمارٹ ایگری کلچر کے فروغ کے لیے کام کر رہا ہے اور اپنے ’کلائمیٹ چینج ایکشن پلان‘ کے تحت ان ممالک کے ساتھ کام کر رہا ہے جو کلائمیٹ اسمارٹ ایگری کلچر کے درج بالا تین اہداف کے ساتھ پیداواری صلاحیت میں اضافہ کر رہے ہیں۔ چین میں 2014ء سے شروع ہونے والے عالمی بینک کے ایک پراجیکٹ ’انٹیگریٹڈ ماڈرن ایگری کلچر ڈیولپمنٹ پراجیکٹ‘ سے سی ایس اے کے پھیلائو میں مدد ملی ہے۔

44 ہزار ہیکٹر زرعی زمین میں پانی کے بہتر استعمال اور نئی ٹیکنالوجی سے مٹی کی زرخیزی میں اضافہ ہونے سے چاول کی پیداوار میں 12 فی صد اور مکئی کی پیداوار میں 9 فی صد اضافہ ہوا ہے، جس سے ماحول میں بہتری کے ساتھ29 ہزار کسانوں کی آمدنی بھی بڑھی ۔ یورا گوئے میں عالمی بینک کی معاونت سے شروع ہونے والے پراجیکٹ ’سسٹین ایبل مینجمنٹ آف نیچرل ریسورسز اینڈ کلائمیٹ چینج ‘ کی بدولت 29 لاکھ46 ہزار ہیکٹر زرعی زمین سی ایس اے کو اپنا چکی ہے، جس سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں ممکنہ طور پر نو ملین ٹن کمی ہوئی ہے۔

اسی طرح 2016 میں میکسیکو میں زراعت کے پیشے سے وابستہ1165چھوٹے اور بڑے ادارے ماحولیاتی طور پر مستحکم توانائی کی ٹیکنالوجیز کو اپنا کر کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں 33 لاکھ 88 ہزار670 ٹن کمی کرچکے ہیں۔ حال ہی میں عالمی بینک نے بھارتی ریاست مہاراشٹر میں ’کلائمیٹ اسمارٹ ایگری کلچر‘ پراجیکٹ کی نئی جنریشن کا آغاز کیا گیا ہے۔ ’مہاراشٹر پراجیکٹ فار کلائمیٹ چینج ریسیلیئنٹ ایگری کلچر‘ کے نام سے شروع ہونے والا یہ پراجیکٹ عالمی بینک کا سب سے زیادہ سرمایہ کاری والا سی ایس اے پراجیکٹ ہے، جس میں 420 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔

٭ پیداوار میں اضافے کے لیے کیے گئے کچھ دیگراقدامات گرین ہاؤسز:
غذائی ٹیکنالوجی کام کرنے والے سائنس دانوں کے مطابق اسپین کے جنوبی صحرا تیبرناس کا شمار یورپ کی خشک ترین جگہ میں ہوتا ہے۔ ساٹھ کی دہائی میں یہ جگہ ویران، بیاباں مناظر کی عکس بندی کرنے والے فلم سازوں کے لیے نہایت اہمیت کی حامل تھی۔ لیکن پھر اس زمین پر شگوفے کِھلنے شروع ہوئے اور آج یہ بنجر صحرا نصف سے زاید یورپ کے لیے تازہ سبزیاں اور پھل پیدا کر رہا ہے۔ اس کا سہرا گرین ہاؤسز (شیشے سے بنی ہوئی عمارت جس میں پودوں کو موسمی تغیرات سے بچاتے ہوئے اگایا جاتا ہے) کے سر ہے۔ اس کی ابتدا 1963میں اسپین کے ایک ادارے Instituto Nacional de Colonización نے کی اور زمین کی تقسیم کے ایک منصوبے کے تحت کچھ گرین ہاؤسز تیار کیے۔

ان گرین ہاؤسز میں اُگنے والے صاف ستھرے پھل اور سبزیوں نے اسپین کے صوبے المیریا کے سرمایہ کاروں کو اپنی طرف متوجہ کیا اور لوگوں نے تیبرناس میں گرین ہاؤسز کی تعمیر میں سرمایہ کاری شروع کردی۔ آج گرین ہاؤسز تیبرناس صحرا کے 50 ہزار ایکٹر رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں اور المیرا اسپین کی معیشت میں ڈیڑھ ارب ڈالر سالانہ اضافہ کررہا ہے۔ تیبرناس میں پھیلے گرین ہاؤسز صرف ایک معاشی معجزہ نہیں بل کہ اس سے کچھ زیادہ ہی ہیں۔ وہ ایک خیال کو حقیقت میں ڈھالنے کا عملی ثبوت ہیں۔

ماحول اور زمین کو کنٹرولڈ ماحولیاتی فارمنگ کے لیے استعمال کرنا ایک بے حد اچھا خیال ہے۔ گرین ہاؤسز میں میں پھل اور سبزیوں کی فی ایکٹر پیداوار باہر اُگنے والی فصل کی نسبت بہت زیادہ اور صحت بخش ہے۔ صرف اپنی فصل کے گرد چھت اور دیواریں بنائیں اور موسم کی سختی، فصل کے لیے مضر کیڑوں کی وجہ سے ہونے والی مشکلات سے نجات حاصل کریں۔

٭ہائیڈروپونک اور ایرو پونک
گرین ہاؤسز کے ساتھ ساتھ زرعی سائنس داں ہائیڈرو پونک (ایک طریقہ کار جس میں مٹی کو ہٹا کر ریت، بجری اور نیوٹریشنز کے مرکب میں پودے اُگائے جاتے ہیں) طریقہ کار بھی استعمال کر رہے ہیں جس میں زیادہ فصل حاصل ہوتی ہے۔

اگر آپ پیداوار کو مزید بہتر کرنا چاہتے ہیں تو ’ہائیڈروپونک رِگ‘ استعمال کریں۔ اس میں آپ ایک ہی رقبے پر کئی منزلوں پر اپنی فصل کاشت کر سکتے ہیں۔ ہائیڈروپونک طریقہ کار کو کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈکسن ڈیسپومیئر نے آٹھ سال قبل اپنے ’ورٹیکل فارم‘ کے تصور میں بیان کیا تھا۔ ڈکسن کے مطابق ’’کثیر المنزلہ ہائی ٹیک گرین ہاؤسز پر مشتمل ورٹیکل (عمودی) فارم بہت سیدھا اور بہترین طریقہ کار ہے، تاہم ابھی اس میں کچھ مشکلات بھی درپیش ہیں۔

مثال کے طور پر فصل کو بیماریوں اور حشرات الارض سے بچانے کے تمام پودوں پر یکساں اور مناسب روشنی فراہم کرنا تاکہ وہ اچھی طرح نشوونما پاسکیں۔ اس طرح کے دیگر مسائل پر قابو پانے کے لیے ہمیں انجینئرنگ اور تیکنیکی امور میں نہایت مہارت کی ضرورت ہے۔2011میں جاپان میں آنے والے سونامی سے پیدا ہونے والی طوفانی لہروں نے نہ صرف فوکو شیما تباہی (سونامی نے دنیا کے سب سے بڑے جوہری پاور پلانٹس میں سے ایک فوکو شیما کے چار جوہری ری ایکٹر کو نقصان پہنچایا، جس میں سے تین کو بند کردیا گیا، جب کہ ایک پلانٹ میں ہائیڈروجن گیس سے ہونے والے دھماکے کے بعد آگ لگ گئی تھی۔

اس حادثے سے جاپان کو ڈیڑھ سو ارب یورو کا نقصان ہوا) ہوئی بلکہ سیلابی پانی اور فوکوشیما سے خارج ہونے والی تاب کاری نے جاپان کے سب سے بڑے شمالی جزیرے ہونشو کی ساحلی پٹی کے ساتھ موجود زرعی زمینوں کو بنجر کردیا تھا۔ اس حادثے کے بعد جاپانی حکومت نے ورٹیکل فارم بنانے کا فیصلہ کیا۔ چار سال کے بعد جاپان میں سیکڑوں کثیرالمنزلہ ورٹیکل فارمز، گرین ہاؤسز قائم ہوچکے ہیں، جہاں پودوں کو سورج کی روشنی پہنچانے کے لیے روزانہ اُنہیں مختلف سمتوں میں گھُمایا جاتا ہے۔ ان عمارتوں میں پودوں کی نمو پانی اور غذائی اجزا میں ڈوبی ہوئی کُھلی جڑوں کے ساتھ کی جاتی ہے۔ جاپان میں ہائیڈرو پونک ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ ایرو پونک طریقہ کار بھی کم وقت میں زیادہ فصل حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

ہائیڈروپونک طریقۂ کار میں پودوں کی جڑوں کو غذائی محلول میں ڈبویا جاتا ہے، جب کہ ایروپونک طریقہ کار میں پودوں کی جڑوں کو ہوا میں دانستہ کُھلا چھوڑ دیا جاتا ہے اور ایروپونک نظام پودوں کی نشوونما کے لیے درکار ضروری محلول دُھند کی شکل میں فراہم کرتا ہے۔

ڈیسپو میئر کے مطابق ’’اس طریقہ کار میں جڑوں کا نظام بہت لمبا ہوجاتا ہے، کیوں کہ انہیں غذا جذب کرنے کے لیے سطحی رقبے میں اضافہ کرنا پڑتا ہے۔‘‘ جاپان کو دیکھتے ہوئے اب سنگاپور، سوئیڈن، جنوبی کوریا، کینیڈا، چین اور ہالینڈ بھی کثیرالمنزلہ فارمز تعمیر کر رہے ہیں، جب کہ امریکا کی بہت سی ریاستوں میں کنٹرولڈ انوائرمنٹ فارمز تعمیر کیے جا رہے ہیں، لیکن اس وقت زیادہ تر لوگوں کو ورٹیکل فارمز کے قیام میں روشنی کے مسئلے کا سامنا ہے۔

ٹاورز کو اتنا تنگ ہونا چاہیے جن سے آنے والی سورج کی روشنی تمام پودوں پر یکساں پڑے یا بلڈرز کو نموپذیر پودوں کو روٹیٹ (گھمانے) کا ایسا طریقہ دیکھنا ہوگا جس سے اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ تمام پودے صحت مند بڑھوتری کے لیے مناسب مقدار میں سورج کی روشنی حاصل کرسکیں یا غالباً اس کا سیدھا سا طریقہ یہ بھی ہے کہ سورج کی روشنی کو مصنوعی متبادل توانائی سے تبدیل کردیا جائے۔ اس کے لیے ایل ای ڈیز (لائٹ ایمیٹنگ ڈائیوڈز) بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

٭پنک ہاؤسز
کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈکسن ڈیسپومیئر کا کہنا ہے کہ برطانیہ، ہالینڈ اور ٹیکساس میں گرین ہاؤسز کو ’پنک ہاؤسز‘ میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ پنک ہاؤسز میں ہلکی نیلی اور گلابی روشنیوں کے امتزاج کو پودوں کی نمو کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

روایتی طریقہ کار میں پودے جذب کی گئی روشنی کا زیادہ سے زیادہ آٹھ فی صد استعمال کرتے ہیں، جب کہ پنک ہاؤسز میں موجود پودے 15فی صد روشنی کو بڑھوتری کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اس طریقہ کار میں روشنی، درجہ حرارت اور ہوا میں موجود نمی کو جتنی اچھی طرح کنٹرول کیا جاسکتا ہے وہ سورج کی روشنی پر انحصار کرنے والے جدید ورٹیکل فارمز اور گرین ہاؤسز میں ممکن نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنک ہاؤسز میں پودوں کی نشوونما کُھلے رقبے میں کاشت ہونے والے پودوں کی نسبت بیس فی صد زیادہ تیزی سے ہوتی ہے۔ یہ پودے روایتی طریقہ کار کے برعکس 91فی صد کم پانی استعمال کرتے ہیں اور نہ ہی انہیں جڑی بوٹی مار، کیڑے مار ادویہ کے اسپرے کی ضرورت پڑتی ہے۔

پنک ہائوسز طریقہ کار کے بارے میں یونیورسٹی آف ایری زونا کے اسکول برائے حیاتیاتی سائنس کی پروفیسر چیری کیوبوٹا کا کہنا ہے کہ خوب صورتی انسان کی کم زوری ہے اور ہر خوب صورت شے چاہے وہ جان دار ہو یا بے جان انسان کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے، لیکن بنی نوع انسان کی یہی جبلت ہر سال سیکڑوں ٹن پھلوں اور سبزیوں کے زیاں کا سبب بھی ہے۔

صرف امریکا میں ہی ہر سال چالیس فی صد پھلوں، سبزیوں کو بدصورتی کی بنا پر خریدنے سے انکار کردیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دکان دار بدشکل یا ٹیڑھے میڑھے پھل اور سبزیوں کو خریدنے سے انکار کردیتے ہیں، کیوں کہ خوب صورت شکل وصورت پھل یا سبزیاں فروخت کرنے پر انہیں نہ صرف بھاری منافع ملتا ہے بل کہ وہ اپنا مال بھی جلد ہی فروخت کردیتے ہیں۔ انسان کی حُسن پرستی نے ہی بوسٹن کے پنک ہاؤسز سے المیرا کے گرین ہاؤسز تک کو خوب صورت پیداوار پر مجبور کردیا ہے۔

پروفیسر چیری کا کہنا ہے،’’اس حقیقت سے قطعی انکار نہیں کہ گرین ہاؤسز کی وجہ سے صارفین کو تازہ پھل اور سبزیاں مل رہی ہیں اور صرف امریکا کی دکانوں میں فروخت ہونے والے چالیس فی صد تازہ ٹماٹر ان گرین ہاؤسز ہی سے آتے ہیں، لیکن کنٹرولڈ انوائرمنٹ فارمنگ نے کم منافع بخش اجناس، چاول، گندم یا بھٹے کو نظر انداز کردیا ہے اور یہی اجناس دنیا بھر میں مطلوبہ کیلوریز کا 50 فی صد فراہم کرتی ہیں۔ سرمایہ کار صرف وہ پھل اور سبزیاںگرین یا پنک ہاؤسز میں اُگا رہے ہیں۔

جن پر اُن کے منافع کی شرح زیادہ ہے۔‘‘ تاہم سابق امریکی سیکریٹری زراعت ڈین گلک مین کا اس بارے میں کچھ مختلف نظریہ ہے نو ارب ساٹھ کروڑ لوگوں کا پیٹ بھر نے کے لیے اجناس کی پیداوار میں اضافے کے لیے ہمیں ایسے شان دار گرین ہاؤسز کی ضرورت نہیں ہے جو خلا سے بھی ہمیں دکھائی دیں۔ زراعت کے طریقہ کار کو بہت ہی سادہ طریقے سے مکمل طور پر جدید بنایا جاسکتا ہے۔

پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود جدید زراعت کی جدید ٹیکنالوجیز کو اپنانے والے ممالک میں کئی درجے کم ہے۔ پاکستان کا 21اعشاریہ2ملین ہیکٹر رقبہ قابل کاشت ہے اور اس میں سے اسی فی صد رقبہ پانی کی نعمت سے مالامال ہے لیکن اس کے باجود ہم زرعی پیداوار میں وہ مقام حاصل نہیں کر پارہے جو کہ بہ آسانی حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر ہم نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے تو پھر وہ دن دور نہیں جب لوگ ایک وقت کی خوراک کے لیے قتل و غارت کا بازار گرم کردیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔