بھارتی گواہان پر جرح کے بعد وطن واپسی، ثابت ہوگیا پاکستان کا ممبئی حملوں سےتعلق نہیں، عدالتی کمیشن

قیصر شیرازی  جمعـء 27 ستمبر 2013
اجمل قصاب کے بیان کیلیے درخواست خوددی،کمیشن میں پیش ریکارڈاصل نہیں، 2گواہوں کا اعتراف ،2ڈاکٹروں پرجرح غیرضروری قراردیدی. فوٹو: فائل

اجمل قصاب کے بیان کیلیے درخواست خوددی،کمیشن میں پیش ریکارڈاصل نہیں، 2گواہوں کا اعتراف ،2ڈاکٹروں پرجرح غیرضروری قراردیدی. فوٹو: فائل

راولپنڈی: پاکستان کا 7 رکنی عدالتی کمیشن ممبئی حملہ سازش کیس میں بھارتی گواہان پرجرح مکمل کرنے کے بعد بھارت(ممبئی) سے واپس پہنچ گیا۔

بھارتی عدالتی کمیشن کے سربراہ (چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ ممبئی) پی وائی لادیکر اکتوبرکے پہلے ہفتے میںکمیشن کی رپورٹ پاکستان بھیج دیںگے جسے بعدازاں انسداددہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

عدالتی کمیشن نے2 بھارتی گواہان ڈاکٹرسالیش اور ڈاکٹرگنیش پرجرح غیرضروری قراردیکرترک کردی جبکہ 4 میںسے صرف 2 گواہان ،مقدمے کے چیف تفتیشی افسر (اے ایس پی، سی آئی ڈی ممبئی پولیس) رمیش مہالے اوراجمل قصاب کااعترافی بیان ریکارڈکرنے والی خاتون مجسٹریٹ مسزآروی سووند بگولے کے بیانات پرجرح کی گئی۔

دوران جرح ان دونوں گواہان نے تسلیم کیا کہ کمیشن کے سامنے پیش کیاجانے والا تمام ریکارڈ اصل نہیں بلکہ فوٹواسٹیٹ کاپیاں ہیں،ممبئی حملہ کیس میںملزمان کے قبضے سے لی جانے والی کسی بھی چیزکے فرد مقبوضگی کاکوئی گواہ عدالتی کمیشن کے سامنے پیش نہیں کیاگیا۔ ایک سوال کے جواب میںتفتیشی افسر رمیش مہالے نے تسلیم کیاکہ اجمل قصاب کا اقبالی بیان ریکارڈکرانے کی درخواست انھوں نے اپنی طرف سے عدالت کودی تھی، یہ درخواست اجمل قصاب کی طرف سے نہیںدی گئی تھی اورنہ ہی اس درخواست پراجمل قصاب کے دستخط تھے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔