خطے کی بگڑتی صورتحال اختلافات بھلا کر اتحاد کی متقاضی

ارشاد انصاری  بدھ 4 ستمبر 2019
حکومت اپنے دعووں کے برعکس کسی بھی قسم کی مثبت تبدیلی لانے میں ناکام رہی ہے۔

حکومت اپنے دعووں کے برعکس کسی بھی قسم کی مثبت تبدیلی لانے میں ناکام رہی ہے۔

 اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کی حکومت دوسرے سال میں داخل ہو چکی ہے اور ملک کو درپیش مالی و معاشی مسائل مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔

بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمہ کے بعد سے قومی سلامتی کے معاملات بھی غیر معمولی صورت اختیار کر چکے ہیں اور بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے صورت حال میں مزید بگاڑ حکومت کے مالی مسائل میں اضافے اور پیچیدگی پیدا ہو سکتی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ عوام میں حکومت کا اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے۔

حکومت اپنے دعووں کے برعکس کسی بھی قسم کی مثبت تبدیلی لانے میں ناکام رہی ہے اور طرز حکومت کسی بھی طرح سے گذشتہ حکومتوں سے مختلف نہیں۔ ابھی چند دن پہلے ہی حکومت نے گیس انفرا سٹکچر ڈویلپمنٹ سیس کی مد میں کمپنیوں سے اکٹھے کئے گئے 228 ارب روپے بڑی کمپنیوں کو معاف کر دیئے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے نون لیگ حکومت نے آتے ہی آئی پی یز کو چار سو ارب روپے کی ادائیگی کی اور تحریک انصاف اس ادائیگی کو کرپشن کا نام دیتی رہی وہ ادائیگی تو حکومت کے ذمے واجب ادا رقم کے لئے کی گئی تھی جبکہ اب تو حکومت نے کمپنیوں سے اکٹھا کیا گیا ٹیکس ہی واپس کر دیا جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔

ایسے فیصلوں کی موجودگی میں حکومت اپنا اعتماد کیسے قائم رکھ سکتی ہے یہی وجہ ہے اب براہ راست تحریک انصاف کے قائد عمران خان پر سوال اٹھنا شروع ہوگئے ہیں اور صدارتی آرڈیننس کے ذریعے اربوں روپے کے واجبات کی معافی کو این آر او سے تعبیر کیا جا رہا ہے، اسے عمران خان کے یوٹرن میں ایک اور یو ٹرن کا اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یہی وجہ ہے اب سیاسی میدان مں بھی عوامی رائے حکومت کی جانب سے اپوزیشن کو این آر او دینے کی بجائے اپوزیشن سے این آر او مانگنے میں بدلتی جا رہی ہے اور اس کی ایک وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ ایک جانب وزیر اعظم بار بار دہراتے ہیں کہ کسی کو این آر او نہیں دیں گے لیکن قابل اعتماد ذرائع سے اطلاعات ہیں کہ حکومت نواز شریف کے ساتھ ڈیل کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے، یہاں تک کہ نواز شریف کی والدہ کے ذریعے بھی کوشش کی گئی کہ نواز شریف ملک چھوڑنے کے لئے راضی ہو جائیں۔ابھی تک خبریں یہی ہیں کہ نواز شریف اور مریم نواز مان نہیں رہے۔

دوسری طرف طاقت ور حلقے آصف زرداری کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں اور سابق صدر سے درخواست کی جا رہی ہے کہ بلاول بھٹو کو ہاتھ ہولا رکھنے کا کہا جائے، نہیں تو حکومت بلاول بھٹو کی سکیورٹی سے دستبرار ہو جائے گی، اسی دباؤ کی وجہ سے بلاول نے محرم کے مہینے میں سیاسی سرگرمیاں محدود کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بلاول کے ساتھ کسی بھی قسم کے حادثہ یا اس کی گرفتاری کی صورت میں متبادل کے طور پر پیپلز پارٹی نے آصفہ بھٹو کو بھی میدان میں اتار دیا ہے۔ حال ہی میں شائع ہونے والا آصفہ بھٹو کا پہلا سیاسی انٹرویو اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

حکومت کے اراکین اس بات کا اظہار تو نہیں کر رہے لیکن اندرون خانہ مولانا فصل الرحمان کی جانب سے اسلام آباد کو لاک ڈاوں کرنے کی دھمکی سے حکومت بہت پریشان ہے تو ہر مکن کوشش کی جا رہی ہے کہ مولانا اس احتجاج سے باز رہیں اور دیگر سیاسی جماعتیں کسی صورت بھی ان کے ساتھ شامل نہ ہوں، اس ساری صورت حال سے واضح ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید سیاسی عدم استحکام نظر آئے گا جو کہ معیشت کے لئے کسی صورت بہتر نہیں ہے اور یہ حکومت کی خوش بختی ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز ایک صفحہ پر ہیں اور حکومت کو ہر صورت کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں لیکن خود حکومت کو بھی کچھ ڈلیور کرنا پڑے گا۔

ان بگڑتے حالات کے تناظر میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا بھی بیان سامنے آیا ہے اور اس پر بھی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب موجودہ حکومت کا بیانیہ بھی پاکستان مسلم لیگ(ن)کے بیانئے سے جا ملا ہے، صرف الفاظ مختلف ہیں مگر مطلب و مقصد ایک ہی ہے۔

دوسری جانب آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے بھی ملاقات کیلئے آئے ہوئے سندھ کے نوجوانوں کے نمائندہ وفد سے گفتگو میںکہا ہے کہ فوجی قوت سے زیادہ طاقتور اخلاقی قوت ہوتی ہے اور ایمانداری سے اپنا جائزہ نہیں لیں گے تو کوئی ہماری مدد نہیں کرے گا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آئی ایس پی آر کے دورے پر آئے ہوئے سندھ کے نوجوانوں کے نمائندہ وفد سے ملاقات میں آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے ان سے گفتگو کتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ پاکستان کی جان ہے اور ملک بنانے میں سندھ نے اہم کردار ادا کیا، ہم نے ملک کو وہاں لے جانا ہے جو اس کا حق بنتا ہے ۔

سفارتی محاذ پر پاکستان کشمیر کا مقدمہ عالمی سطح پر بھرپور انداز میں لڑ رہا ہے اور وزیراعظم عمران خان بھی اہم عالمی رہنماوں سے رابطے کر رہے ہیں اور منگل کو وزیراعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ایک بار پھر فون کرکے مسئلہ کشمیر پر تبادلہ خیال کیا اور انہیں وہاں کی تازہ ترین صورت حال سے آگاہ کیا، دونوں رہنماؤں کے درمیان دوہفتوں میں یہ تیسرا رابطہ ہے جس میں انہوں نے خطے کی مجموعی صورت حال کا بھی جائزہ لیا۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر اپنا قبضہ مضبوط کرنے کے لیے ریاست کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اسے دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے اور کشمیریوں کو دیے گئے بہت سے حقوق ختم کردیے ہیں۔

وادی میں تقریباً ایک ماہ سے کرفیو نافذ ہے اور بھارتی فوج انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں کر رہی ہے۔ پاکستان و سعودی قیادت کے مسلسل رابطوں کے تناظر میں آج (بدھ) سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ پاکستان پہنچ رہے ہیں اور اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقاتوں کے دوران مسئلہ کشمیر بھی زیر بحث آئے گا، ان ملاقاتوں کو سیاسی و سفارتی حلقوں میں بہت زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے، اس کے عالمی سفارتی اثرات کے ساتھ ساتھ ملک کی سیاست پر بھی اثرات ہونگے اور پھرمتحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید بن سلطان النہیان بھی آج پاکستان کے دورے پر پہنچیں گے اور اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔

اقتصادی فرنٹ پر پاکستان کئی سالوں سے اپنے مالیاتی  اورکرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی کے لئے کوشاں ہے، لیکن دونوں یعنی مالی اور تجارتی خسارے وہیں کے وہیں ہیں۔ مالیاتی آپریشنز کے بارے میں تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ گزشتہ مالی سال کے اختتام پر مالیاتی خسارہ  8.9 فیصد رہا جو کہ نظر ثانی شدہ تخمینہ 7.2 فیصد سے بھی زائد رہا جبکہ خسارہ کا اصل تخمینہ صرف 4 فیصد کا تھا، یعنی حکومت کو چار فیصد کا اضافی خسارہ برداشت کرنا پڑا جو کہ بہت تشویش ناک ہے جس کیلئے کل وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی دبنگ فیصلے کئے گئے ہیں اور اب حکومت کی اقتصادی ٹیم کو گئیر بدلنا ہوگا ورنہ اقتصادی گاڑی کا چلنا مشکل ہو جائے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔