’’ٹرمپ ایوینجر ولن ’تھانوس‘ بننے سے باز آجائیں،‘‘ نئی امریکی پابندیوں پر ایرانی ردِعمل

ویب ڈیسک  بدھ 4 ستمبر 2019
29 اگست کو ایرانی اسپیس لانچ وہیکل ’’کاوشگر پیشگام‘‘ کا تجربہ ناکام رہا تھا۔ (فوٹو: سوشل میڈیا)

29 اگست کو ایرانی اسپیس لانچ وہیکل ’’کاوشگر پیشگام‘‘ کا تجربہ ناکام رہا تھا۔ (فوٹو: سوشل میڈیا)

تہران: امریکی محکمہ خارجہ اور محکمہ خزانہ نے گزشتہ روز ایک مشترکہ اعلامیے میں کہا ہے کہ ایرانی خلائی اداروں پر بھی پابندیاں لگادی گئی ہیں کیونکہ وہ ’’خلائی تحقیق کی آڑ میں ایرانی بیلسٹک میزائل پروگرام کو آگے بڑھا رہے ہیں۔‘‘

جن ایرانی خلائی اداروں پر پابندیاں لگائی گئی ہیں ان میں سازمان فضائی ایران (ایران اسپیس ایجنسی)، پژوھشگاہ فضائی ایران (ایرانیئن اسپیس ریسرچ سینٹر) اور پژوھشگاہ ہوا فضا (ایئروناٹکس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ) شامل ہیں۔ تازہ پابندیوں کے تحت مذکورہ اداروں سے تعاون کرنے والے کسی بھی فرد یا ادارے کو مجرم قرار دیا جائے گا، امریکا میں اس کے اثاثے منجمد کیے جاسکیں گے جبکہ اسے گرفتار بھی کیا جاسکے گا۔

واضح رہے کہ 29 اگست کے روز ایران نے خلاء میں سیارچے پہنچانے والے راکٹ (اسپیس لانچ وہیکل) ’’کاوشگر پیشگام‘‘ کا تجربہ کیا تھا جو ناکام ہوگیا تھا۔ امریکی پابندیاں اسی تجربے کے بعد لگائی گئی ہیں۔

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ’’اِرنا‘‘ نے امریکی پابندیوں کے جواب میں ایرانی وزیر مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی، محمد جواد آذری جہرمی کے ٹوئٹر پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ٹرمپ ’’ایوینجرز‘‘ فلم کے حقیر اور نفرت انگیز کردار کی تقلید چھوڑ دیں۔

مذکورہ ٹوئٹر پیغام میں جہرمی نے ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ امریکا خلاء پر پابندیاں عائد کرنے کےلیے کمزور ہے۔ دنیا اور روشن مستقبل ہر ایک کا حق ہے، ایک محدود گروہ پر منحصر نہیں۔ مسٹر ٹرمپ ’’تھانوس‘‘ کی تقلید کو روک کریں! انہوں نے ٹوئٹر پیغام میں لکھا کہ ’’تھانوس‘‘ ایوینجرز فلموں کا نفرت انگیز کردار ہے جس کا مقصد بعض افراد کی زندگی کو بہتر بنانے کےلیے دنیا کے دوسرے افراد کو قتل کرنا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔