حقیقی زندگی کا بھولا ظالموں کی بھینٹ چڑھ گیا

زنیرہ ضیاء  ہفتہ 7 ستمبر 2019
پاکستانی عوام پولیس سے ایسے ہی ڈرتے ہیں جیسے مدرسے میں پڑھنے والا معصوم بچہ ہاتھ میں ڈنڈا تھامے ہوئے سخت گیر استاد سے۔ (فوٹو: فائل)

پاکستانی عوام پولیس سے ایسے ہی ڈرتے ہیں جیسے مدرسے میں پڑھنے والا معصوم بچہ ہاتھ میں ڈنڈا تھامے ہوئے سخت گیر استاد سے۔ (فوٹو: فائل)

’’کیا مصیبت ہے، او پتر! جانا ہے تو جگہ بتاؤ، ٹکٹ لو؛ ورنہ نیچے اترو‘‘۔ ’’پیسے! پیسے تو نہیں ہیں میرے پاس‘‘ نہیں! ہیں ہیں بھول گیا تھا، یہ لو اور 2 ٹکٹ دے دو۔‘‘ ’’2، اور کون ہے تمہارے ساتھ؟‘‘ ’’میں ہوں اور میرے ساتھ بھی میں ہوں‘‘۔ اس بات پر بس میں بیٹھے تمام لوگ ہنس پڑے اور ساتھ ہی ساتھ موبائل ہاتھ میں تھامے ویڈیو دیکھتے ہوئے میرے ہونٹوں سے بھی ہنسی نکل گئی۔ میری اس لمبی تمہید سے آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ میں پچھلے دنوں پاکستان شوبز انڈسٹری میں تہلکہ مچانے والے’’بھولے‘‘ کی بات کررہی ہوں، جس نے اپنی معصومیت اور سچائی سے پورے پاکستان کو دیوانہ بنادیا تھا۔

ایسا نہیں ہے کہ بھولے جیسا کردار پہلے تخلیق نہیں ہوا، پہلے بھی اداکار ذہنی طور پر معذور افراد کے کردار نبھاتے رہے ہیں، لیکن بھولے کی مقبولیت کی وجہ اس کی معصومیت، سچائی اور کھرا پن تھا۔ بھولا اپنی معصومیت میں کڑوی سچائی کو ایسے کہہ جاتا تھا کہ لوگ حیرانی سے بس دیکھتے رہ جاتے تھے۔  جیسے اس بس کا ہی اگلا سین لے لیجئے جب ایک بوڑھی عورت بھولے سے اسے سیٹ دینے کے لیے کہتی ہے، اگر بھولے کی جگہ میرے یا آپ جیسے باشعور لوگ ہوتے تو فوراً کھڑے ہوکر اس بوڑھی عورت کو سیٹ دے دیتے، لیکن بھولا تو بھولا ہے، اگر وہ عام لوگوں کی طرح کام کرنے لگ جائے تو پھر بھولا نہیں رہے گا۔ لہٰذا اس نے اس بوڑھی عورت کو نہ صرف سیٹ دینے سے انکار کردیا بلکہ بڑے مزے سے حقیقت بیان کرتے ہوئے کہا ’’اے مائی! بہانے بہانے سے ایک نوجوان لڑکے کو ہاتھ لگارہی ہے، نیت خراب ہورہی ہے؟‘‘ سامنے سے جواب آتا ہے ’’ہاں تو تو جوان جہاں ہوکر دو سیٹوں پہ لم لیٹ ہوا وا ہے،‘‘ پھر ایک کرارا جواب ’’ہاں تو میں نے تجھے زبردستی کیا ہے بوڑھا، اپنی مرضی سے ہوئی ہے نا بوڑھی‘‘۔ اس جواب پر وہ بوڑھی بھی سٹپٹا کر رہ گئی۔

بھولے کی اسی سچائی اور کھرے پن نے تو اسے پاکستان بھر کا لاڈلہ بنادیا تھا۔ بھولا باتوں باتوں میں سامنے والے کے منہ پر وہ سچائی کہہ جاتا تھا جو آپ کے یا میرے جیسے لوگ حق پر ہوتے ہوئے بھی سامنے والے سے کہتے ہوئے ڈریں گے۔ کل بہت دنوں بعد ایک بار پھر ذہن میں بھولے کی شبیہہ تازہ ہوگئی، جب ایک ویڈیو میں میلے کچیلے کپڑے پہنے، سیلن زدہ کمرے میں، کرسی پر بیٹھے ہوئے ایک نیم پاگل شخص کو پنجاب پولیس کو کہتے سنا ’’ایک گل کراں ماروگے تو نئیں؟ آگے سے جواب آیا نہیں پوچھ، ایک بار پھر عاجزانہ انداز میں التجا کی جاتی ہے، پکی گل اے؟ ہاں پوچھ ’’یہ تسی لوگوں کو مارنا کہاں سے سیکھیا؟‘‘ یہ جملہ ختم ہوا اور میرے چودہ طبق روشن ہوگئے۔ آنکھوں کے آگے جیسے ایک فلم سی چلنے لگی جس میں سانحہ ساہیوال اور ماڈل ٹاؤن سے لے کر ہماری پولیس کے تمام کارنامے ناچنے لگے۔

سانحہ ماڈل ٹاون اور سانحہ ساہیوال کے بعد پاکستانی عوام پولیس سے ایسے ہی ڈرتی ہے جیسے مدرسے میں پڑھنے والا معصوم بچہ ہاتھ میں ڈنڈا تھامے ہوئے سخت گیر استاد سے ڈرتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہماری پولیس اپنے کارناموں کے باعث اتنی بدنام ہے کہ لوگ پولیس سے ٹکراؤ نہ ہونے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔ اس صورتحال میں  کسی کی مجال کہ پنجاب پولیس سے سانحہ ساہیوال، ماڈل ٹاؤن یا اس کی شاندار کارکردگی کے بارے میں سوال کرے۔ لیکن یہ ہمت دکھائی نیم پاگل صلاح الدین نے، جس نے پنجاب پولیس سے وہ سوال کیا جو شاید ہمارے حکمران بھی کرتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ ورنہ پاکستان میں برسوں سے جاری پولیس گردی کے خلاف کوئی تو ایکشن لیا جاتا، کسی کو تو نشان عبرت بنایا جاتا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ پولیس کے منہ پر سچائی بیان کرنے والے معصوم بھولے (صلاح الدین) کو دوسرے دن کا سورج دیکھنا نصیب نہ ہوا اور سچ بولنے کی پاداش میں ظالم پولیس والوں نے شدید تشدد کا نشانہ بناکر اس کی جان لے لی۔

لیکن میرے نزدیک صلاح الدین ذہنی طور پر معذور یا نیم پاگل نہیں تھا بلکہ وہ ہم جیسے پڑھے لکھے لوگوں سے کہیں بڑھ کر باہمت اور باشعور تھا جو کم سے کم سچ کہنے کی ہمت تو رکھتا تھا۔ ہم تو اتنے بزدل ہیں کہ کسی کے ساتھ برا ہوتے ہوئے دیکھ کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرلیتے ہیں۔ یہ بھی نہیں سوچتے کہ کل ہمارے ساتھ بھی برا ہوسکتا ہے، اس وقت کوئی اور آنکھیں بند کرلے گا۔

صلاح الدین نے اے ٹی ایم میں موجود سی سی ٹی وی کیمرے کو نہیں بلکہ پاکستان میں رائج جنگل کے قانون کو منہ چڑایا تھا، جو امیر کےلیے الگ اور غریب کےلیے الگ ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہی کہ اے ٹی ایم کو توڑ کر کارڈ نکال کر صلاح الدین نے بہت اچھا کام کیا، بہت غلط کام کیا۔ لیکن کیا اس چوری کی سزا اس کی جان تھی جو پولیس والوں نے بڑی بے رحمی سے لے لی؟

یہاں میں ایک سوال پاکستانی سیاست سے زیادہ ٹوئٹر پر سرگرم خاتون مریم نواز سے پوچھنا چاہتی ہوں، جنہوں نے اپنے والد نواز شریف (کرپشن کےالزام میں قید) کی جیل سے اے سی ہٹانے پر واویلا کرتے ہوئے پورے پاکستان کو سر پر اٹھالیا تھا، ایک ٹوئٹ بھی صلاح الدین کی موت پر نہیں کی۔

کیا صلاح الدین کی جان اتنی سستی تھی کہ صرف ایک کارڈ چوری کرنے پر اسے جان سے مار دیا جائے اور اربوں روپے کی غبن کرنے والوں کو اے سی نہ ملنے پر پورا ملک سر پر اٹھا لیا جائے؟ یہی سوال میں خود کو خادم اعلیٰ کہنے والے شہباز شریف سے بھی کرنا چاہوں گی کہ کیا ان کی خدمت ایک عہدے کی محتاج تھی؟ عہدہ ختم، خدمت کا جذبہ بھی ختم۔ جب کہ ’’نئے پاکستان‘‘ کے موجودہ حکمرانوں نے تو کسی پاگل کی موت پر تبصرہ کرنا بھی گوارا نہ کیا۔ بھئی کیوں کریں، پاکستان میں کسی بے گناہ کی جان سے زیادہ بڑے مسئلے موجود ہیں، جنہیں حل کرنا عثمان بزدار اور عزت مآب عمران خان کےلیے زیادہ ضروری ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

زنیرہ ضیاء

زنیرہ ضیاء

بلاگر شوبز تجزیہ نگار ہیں اور ایکسپریس اردو ویب میں بطور ویب ایسوسی ایٹ پروڈیوسر اپنی ذمہ داریاں نباہ رہی ہیں۔ ان سے ای میل ایڈریس [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ انہیں ٹوئٹر ہینڈل @ZunairaGhori پر فالو کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔