آہ عبدالقادر

سلیم خالق  ہفتہ 7 ستمبر 2019
زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں  ہم اکثر لوگوں سے یہ سنتے اور پھر بھول جاتے ہیں مگر حقیقتاً بالکل ایسا ہی ہے، فوٹوفائل

زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہم اکثر لوگوں سے یہ سنتے اور پھر بھول جاتے ہیں مگر حقیقتاً بالکل ایسا ہی ہے، فوٹوفائل

”مختلف چینلز پرخبر چل رہی ہے کہ عبدالقادر صاحب چل بسے“ لاہور سے ایکسپریس کے رپورٹر عباس رضا نے جب مجھ سے فون پر یہ کہا تو میں دم بخود رہ گیا، پھر جب سامنے موجود ٹی وی اسکرین کو دیکھا تو اس پر بھی یہی ٹکر چلتا دکھائی دیا۔

زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں  ہم اکثر لوگوں سے یہ سنتے اور پھر بھول جاتے ہیں مگر حقیقتاً بالکل ایسا ہی ہے، اچانک کوئی ایسی خبر آجاتی ہے جس پر یقین نہیں آتا مگر یہی دستور زندگی ہے، ہر انسان کو ایک نہ ایک دن موت کی آغوش میں جانا ہے چاہے وہ  کوئی بھی ہو، عبدالقادر بھائی سے میرا قریبی تعلق تھا، میرے کالم ”کرکٹ کارنر“ کے سب سے بڑے قدردان وہی تھے، اکثر مجھے ان کا فون آتا اور وہ کالمز کے حوالے سے بات کرتے، ان کا کہنا تھا کہ وہ اخبار سے کٹنگز کاٹ کر رکھ لیتے اور پھر وقت ملنے پر ایک ساتھ پڑھتے ہیں،وہ مجھے یہی تلقین کرتے کہ ”سچ لکھنا تمہاری خوبی ہے ہمیشہ اس پر قائم رہنا“۔

ہمارے ملک میں کسی کی تعریف کا رواج کم ہے، آپ کوئی اچھا کام کریں تو آٹے میں نمک کے برابر لوگ تعریف کریں گے،  ہاں اگر کوئی غلطی ہو جائے تو ایسی ایسی شخصیات نشاندہی کرتی ہیں جن کا کبھی نام بھی نہیں سنا ہوتا، البتہ عبدالقادر کسی کی تعریف کے معاملے میں کنجوس نہ تھے،  ہم میڈیا والوں کو اب بڑی مشکل ہوگی، ہمیں  اگر کسی معاملے پر سابق ٹیسٹ کرکٹرز کی سچی رائے جاننا ہوتی تو پہلی ترجیح عبدالقادر ہی ہوتے، زیادہ تر ٹیسٹ کرکٹرز ملازمت یا مراعات کے چکر میں پی سی بی کو ناراض نہیں کرنا چاہتے مگر ان کے ساتھ ایسا نہیں تھا، وہ جو سچ بات ہوتی وہی کرتے چاہے ارباب اختیار کو برا بھی لگ جائے، وزیر اعظم عمران خان کے سامنے کم لوگ ہی اختلاف رائے کی جرات رکھتے ہوں گے اور عبدالقادر ان میں سے ایک تھے۔

جب گذشتہ برس عمران خان نے سابق کرکٹرز کو ملاقات کیلیے بلایا اور ڈومیسٹک کرکٹ میں تبدیلیوں کے حوالے سے کہا تو عبدالقادر ہی تھے جنھوں نے کھل کر مخالفت کی، ان کا کہنا تھا کہ ”ڈپارٹمنٹل کرکٹ ختم کرنے سے غریب کرکٹرز کے گھروں کے  چولہے بند ہو جائیں گے ایسا نہ کریں“، انھوں نے کبھی اپنے رتبے کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھایا، عمر اکمل جب ایک تنازع میں پڑے تو  میں کالم لکھتے ہوئے ہچکچاہٹ کا شکار تھا کہ کہیں قادر بھائی برا نہ مان جائیں، میں نے ان سے تذکرہ کیا تو کہنے لگے ”تم سے میرے جیسے بھی تعلقات ہوں اگر میں یا مجھ سے وابستہ کوئی شخصیت کوئی غلط کام کرے تو نشاندہی کرتے ہوئے بالکل بھی نہ سوچنا“۔ ان کے داماد عمر اکمل کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں، وہ اتنے اسکینڈلز میں  گھرے کہ شاید لوگوں کو تعداد بھی یاد نہ ہو، البتہ عبدالقادر نے اس حوالے سے کبھی کوئی شکایت نہ کی بلکہ سچ لکھنے پر ہمیشہ سراہا، ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں، یہاں تو میں نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جن سے وابستہ کسی شخصیت کے بارے میں ایک لائن بھی لکھ دو تو وہ سلام کا جواب بھی نہیں دیتے، میں جب کبھی لاہور جاتا کوشش ہوتی عبدالقادر بھائی سے ضرور ملوں۔

گزشتہ برس آخری ملاقات ہوئی جب انھوں نے لاہوری ناشتے سے تواضع کی اور اپنے پرانے قصے سنائے تھے، عمران خان ان کے قریبی دوست تھے، جب وہ وزیر اعظم  بنے تو میں  نے  ازرائے مذاق کہا کہ قادر بھائی اب تو آپ چیئرمین بورڈ نہیں تو چیف سلیکٹر تو بن ہی جائیں گے، اس پر ان کا جواب تھا کہ ”عمران میرا دوست نہیں بھائی ہے، برسوں ہم اکھٹا کھیلے ہیں لیکن اب وہ اقتدار میں آگیا تو تھوڑا فاصلہ رکھوں گا تاکہ اس پر یہ انگلی نہ اٹھے کہ دوستوں کو نواز رہا ہے، ویسے بھی میں زندگی بھر عہدوں کے پیچھے نہیں بھاگا،لیگ اسپن بولنگ کا فن بچوں میں منتقل کرنے کی کوشش کرتا ہوں میرے لیے یہی کافی ہے“ عبدالقادر سادہ سے انسان تھے، ظاہری شان و شوکت سے دور بھاگتے،ان دنوں وہ لاہور میں اکیڈمی چلا رہے تھے جہاں بچوں کو بولنگ سکھاتے۔

عبدالقادر واٹس ایپ، ٹویٹر اور فیس بک سے دور تھے، وہ خود کہتے کہ”مجھے موبائل سے صرف فون کرنا آتا ہے، باقی چیزوں میں نہیں پڑتا، میسیج کا جواب نہ دوں تو برا نہ ماننا، اگر میرے بچے دیکھ لیں تو وہ بتا دیتے ہیں کہ فلاں کا پیغام آیا تھا“،ان کا ایک مخصوص سادہ لائف اسٹائل تھا، وزرش ضرور کرتے اور اس کیلیے وقت مختص کیا ہوا تھا،پانچ وقت کے نمازی پرہیزگار انسان تھے، مجھ سے بھی جب بات ہوتی نماز باقاعدگی سے پڑھنے کی ہمیشہ تلقین کرتے، نہ صرف میں بلکہ مرزا اقبال بیگ، عباس رضا، میاں اصغر سلیمی سب ان کو اپنا قریبی سمجھتے ایسی خصوصیت بہت کم لوگوں میں ہی ہوتی ہے، کرکٹ  میں ان کی بولنگ کا منفرد انداز لوگ نہیں بھول سکتے، بہت سے کھلاڑی اس کی نقل بھی کرتے رہے، انھوں نے کسی کو سکھانے سے کبھی انکار نہ کیا، سابق عظیم آسٹریلوی اسپنر بھی عبدالقادر سے مشورے لینے ان  کے گھر آئے، جنوبی افریقہ کیلیے کارنامے انجام دینے والے عمران طاہر بھی ان کے شاگرد رہ چکے، مشتاق احمد نے ان کے مشوروں پر ویسا ہی بولنگ اسٹائل اپنا کر کامیابی پائی۔

عبدالقادر کے انتقال پر دنیا بھر سے تعزیتی پیغامات آ رہے ہیں جو ان کی مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں، غیروں نے تو ان سے بہت استفادہ کیا مگر  بے لاگ گفتگو کی وجہ سے وہ پاکستانی کرکٹ حکام کی گڈ بکس میں زیادہ نہیں رہے، بطور چیف سلیکٹر خدمات انجام دیں مگر  پھرخود ہی عہدہ چھوڑ دیا، نجی زندگی کے حوالے سے زیادہ کچھ لکھنا مناسب نہیں لیکن بعض معاملات سے وہ اکثر پریشان رہتے تھے، پاکستان کرکٹ میں ہونے والی حالیہ تبدیلیوں سے عبدالقادر خوش نہیں تھے،کرکٹرز کے روزگار کا غم انھیں کھائے جا رہا تھا، انھوں نے برملا  میڈیا میں اس کا اظہار بھی کیا مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے، وہ مصباح الحق کو کوچ اور چیف سلیکٹر بنانے کے فیصلے کو بھی درست نہیں سمجھتے تھے، عبدالقادر اب اس دنیا میں نہیں رہے مگر ان کی یادیں ہمیشہ رہیں گی، بس ہم میڈیا والوں کو اب حقیقت پسندانہ تبصروں کیلیے کسی سابق کرکٹر کو تلاش کرنے میں مشکل ہوگی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔