بائیں بازو کا المیہ

ظہیر اختر بیدری  منگل 10 ستمبر 2019
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

قیام پاکستان کے بعد مسلم لیگ کے علاوہ جو سیاسی جماعتیں فعال تھیں ، ان میں بائیں بازوکی نیشنل عوامی پارٹی بھی تھی۔بدقسمتی سے نیشنل عوامی پارٹی آہستہ آہستہ ٹکڑوں میں بٹ کر ختم ہوگئی۔ اس کے بعد اسی جماعت کے کارکن مختلف مراحل سے گزرکر عوامی ورکرز پارٹی کے پرچم تلے جمع ہوگئے ، لیکن فعال نہ ہوسکے۔

2005 میں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں کسان کانفرنس منعقد ہوئی، اس کانفرنس کے آرگنائزر ہمارے دوست عابد حسن منٹو تھے۔ اس کانفرنس میں شرکت کے لیے ہم بھی ٹوبہ ٹیک سنگھ پہنچے، کراچی کے دوست یوسف مستی خان ، اختر حسین ایڈووکیٹ، عثمان بلوچ وغیرہ بھی ٹوبہ ٹیک سنگھ پہنچے۔

چونکہ کسانوں میں کام نہیں ہوا تھا لہٰذا کانفرنس میں کسان بہت کم تعداد میں شریک ہوئے چونکہ بایاں بازو بڑی حد تک غیر فعال تھا۔ اس کی فعالیت پر غور کرنے کے لیے ہم نے عابد حسن منٹو سے ٹیلی فون پر لاہور بات کی اور انھیں یہ تجویز دی کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں کسان کانفرنس کے انعقاد کے بعد کانفرنس میں شرکت کرنے والے دوستوں کی ایک میٹنگ منعقد کی جائے جس میں بائیں بازوکی غیر فعالیت کے اسباب پر غورکرکے اسے دوبارہ فعال بنانے کی کوشش کی جائے۔

چنانچہ کسان کانفرنس کے بعد ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ایک مقامی ہوٹل میں میٹنگ کا انعقادکیا گیا بہت غوروفکر کے بعد یہ طے ہوا کہ اس مسئلے پر ایک پیپر لکھا جائے جو کراچی میں ہونے والی میٹنگ میں پیش کیا جائے لیکن دوستوں کی ’’فعالیت‘‘ کی وجہ یہ پیپر برسوں تک نہیں لکھا جاسکا۔ لیکن کامریڈ کچھ نہ کچھ کرتے رہے یہ کچھ نہ کچھ کرتے رہنے کا سلسلہ ہنوز جاری ہے جو کامریڈ کچھ نہ کچھ کر رہے ہیں اس کی خبریں ہمارے کانوں تک پہنچتی رہتی ہیں۔

یہ مہربانی منظور رضی کرتے رہتے ہیں ، ابھی پچھلے دنوں منظور رضی سے بات ہوئی تو موصوف نے یہ خوش خبری سنائی کہ عوامی ورکرز پارٹی آج کل بہت فعال ہوگئی ہے اور سارے پاکستان میں جلسے کر رہی ہے۔ یہ خبر سن کر بے حد خوشی ہوئی ہم نے دل ہی دل میں فعال کامریڈوں کو بدھائی دی اور دعا کی کہ اللہ ان کی فعالیت میں تیزی لائے نظریاتی جماعتوں کی یہ ہمیشہ کوشش رہتی ہے کہ ہم خیال دوستوں کی تعداد میں اضافہ ہو، اگر پارٹی میں اہل عقل موجود ہوں تو ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ نئے پرانے دوستوں سے ان کی اہلیت کے مطابق کام لیں اگر ایسے دوست کسی نظریاتی جماعت میں نہ ہوں تو اس کا مجموعی نقصان پارٹی پر ہوتا ہے۔

پارٹی کی غیر فعالیت کی وجہ ذمے دار لوگوں ’’کامریڈز ‘‘کی تنگ نظری یا نااہلیت ہے۔ آج پاکستان میں حقیقت پوچھیں تو یہ ہے کہ بائیں بازو کی طاقت نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس میں کیسے اضافہ کیا جائے اس سوال پر غور کرنے کے لیے مخلص اور نظریاتی دوستوں کو قریب لایا جائے اور 2005 کی ٹوبہ ٹیک سنگھ میٹنگ کے مطابق بائیں بازوکی غیر فعالیت کے اسباب کا احاطہ کیا جائے۔

آج سب سے بڑا کام عوام تک نظریاتی رسائی کا ہے جو لوگ یہ کام کسی تعریف کی خواہش کے بغیر کر رہے ہیں وہ یقینا قابل احترام ہیں کسی بڑے اخبار میں ایک عوام کو بیدارکرنے والی تحریر چھپتی ہے تو وہ تحریر ہزاروں ، لاکھوں عوام تک پہنچتی ہے اور ایسی تحریریں عوام میں سیاسی شعور پیدا کرنے اور انھیں ایکٹیو کرنے میں بہت بڑا کردار ادا کرسکتی ہیں۔ اگر آپ کی بات عوام کی اکثریت تک پہنچتی ہے تو یہ تحریر کئی پارٹیوں سے زیادہ سود مند ثابت ہوسکتی ہے۔

نظریاتی اہل قلم کسی کا غلام ہوتا ہے نہ کسی کی مرضی پر چلتا ہے وہ اپنے نظریے کا تابع ہوتا ہے اور بغیر کسی انیشیٹیو کے وہ اپنی نظریاتی ذمے داریاں پوری کرتا ہے اگر ایسے لکھنے والوں کو بائیں بازوکی سرگرمیوں سے آگہی حاصل ہو تو ان کی تحریروں میں اور زیادہ توانائی آجاتی ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ نظریاتی لکھاریوں کو فیڈ بیک نہیں ملتی۔ اس کی وجہ یا وجوہات اتنی احمقانہ ہیں کہ ان کا خیال کریں تو ہنسی آجاتی ہے کاش ہمارے دوست انقلاب کی گردان کرنے اور ایک دوسرے کو کامریڈ کہہ کر خوش ہونے کے بجائے اپنے نظریات کو عوام کی اکثریت تک پہنچانے کی مخلصانہ کوشش کریں تو یہ ایک بامعنی انقلابی کام ہوسکتا ہے۔

مجھے حیرت ہوتی ہے جب میں بڑی سرکولیشن والے اخبارات میں بائیں بازو کی سرگرمیوں کی خبریں نہیں دیکھتا۔ ہمارا ملک ویسے تو اپنے قیام کے بعد ہی سے اشرافیہ کی لوٹ مارکا شکار ہے لیکن پچھلے دس سالوں سے ہماری قومی دولت کو جس طرح لوٹا گیا ، اس کی مثال نہیں ملتی۔ ہمارے ملک کے عوام میڈیا میں صرف حکومت گرانے حکومت اٹھانے جیسی بے ہودہ باتیں تو روز سنتے ہیں لیکن ملک بچانے ملک سنوارنے غریب طبقات کو متحرک کرنے کی کوئی بات انھیں میڈیا میں سوائے چند لکھاریوں کی تحریروں کے کہیں نظر نہیں آتی۔ اس منافقانہ اور عوام دشمن سیاست سے 72سالوں سے عوام کو مس گائیڈ کیا جا رہا ہے۔

کیا ملک میں کوئی ایسی سیاسی جماعت ہے جو بڑے پیمانے پر عوام میں طبقاتی شعور پیدا کرنے کی منظم کوشش کر رہی ہو؟ عوام تک عوام دشمن طاقتوں کی سازشوں کو پہنچانا اور مثبت نظریات سے عوام کو آگاہ کرنا آج کی سب سے بڑی ضرورت ہے اور یہ کام ماہانہ پارٹی ترجمان رسالے نہیں کرسکتے جو 22-50 صفحات پر مشتمل ہوتے ہیں اور کارکنوں میں تقسیم کیے جاتے ہیں جو کارکن بغیر پڑھے ادھر ادھر ڈال دیتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔