23 ہزار روپے جرمانے کے خلاف مقدمے پر 58 لاکھ خرچ، لیکن پھر بھی شکست!

ویب ڈیسک  جمعـء 13 ستمبر 2019
جج نے کیڈویل کی ایک نہ سنی اور اسے اوور اسپیڈنگ کا مجرم قرار دے دیا۔ (فوٹو: فائل)

جج نے کیڈویل کی ایک نہ سنی اور اسے اوور اسپیڈنگ کا مجرم قرار دے دیا۔ (فوٹو: فائل)

لندن: پاکستان میں وکیلوں، عدالتوں اور کورٹ کچہری کے اخراجات پر بہت لطیفے بنتے ہیں لیکن برطانیہ میں ہونے والا یہ سچا واقعہ ان سب سے کہیں بڑھ کر ہے۔

نومبر 2016ء میں وورسیسٹر ٹریفک پولیس نے رچرڈ کیڈویل نامی ایک شہری کو 120 پاؤنڈ جرمانے کا نوٹس بھیجا جس میں لکھا تھا کہ وہ گزشتہ روز ان کے علاقے میں 35 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے کار ڈرائیو کر رہے تھے جبکہ وہاں رفتار کی زیادہ سے زیادہ قانونی حد 30 میل فی گھنٹہ ہے۔ رفتار کی قانونی حد سے تجاوز کرنے پر ان کے خلاف 120 پاؤنڈ (تقریباً 23 ہزار پاکستانی روپے) جرمانہ کردیا گیا جو برطانیہ کے حساب سے کوئی بہت بڑی رقم نہیں۔

لیکن کیڈویل کا کہنا تھا کہ ان کی گاڑی 30 میل فی گھنٹہ سے کم رفتار پر چل رہی تھی اور ٹریفک پولیس نے ان پر غلط جرمانہ کیا ہے۔ انہوں نے جرمانے کے خلاف مقامی عدالت میں مقدمہ دائر کردیا جو تقریباً ڈھائی سال تک جاری رہا جبکہ صرف اس ایک مقدمے کی مد میں کیڈویل نے 30 ہزار پاؤنڈ بھی خرچ کردیئے۔ اس کے باوجود، عدالت نے کیڈویل کے خلاف فیصلہ دیا اور کہا کہ انہیں ہر صورت جرمانہ دینا پڑے گا۔

اگر آپ 30 ہزار برطانوی پاؤنڈ کو معمولی رقم سمجھ رہے ہیں تو بتاتے چلیں کہ پاکستانی روپوں میں یہ رقم 58 لاکھ روپے سے بھی زیادہ بنتی ہے!

کیڈویل کے مطابق، انہوں نے اپنے بیٹوں کے لیے پس انداز کی ہوئی رقم میں سے اس مقدمے کے اخراجات پورے کیے تھے اور انہیں امید تھی کہ مقدمہ صرف ایک سے دو پیشیوں میں پورا ہوجائے گا لیکن مقدمہ کرنے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ برطانوی نظامِ انصاف کتنا سست رفتار اور مہنگا ہے۔ اپنی بات ثابت کرنے کے لیے انہوں نے تکنیکی ماہر تک کو عدالت کے روبرو پیش کیا لیکن جج نے ان کی ایک نہ سنی۔

کیڈویل کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اعلی عدالت میں جائیں گے، چاہے اس پر مزید اخراجات ہی کیوں نہ آجائیں۔ ’’میں اس پورے نظام سے عاجز آچکا ہوں جو عام لوگوں کو ذلیل و خوار کر رہا ہے،‘‘ انہوں نے ایک مقامی رپورٹر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ البتہ انہیں اعلی عدالت سے انصاف ملنے کی امید بھی ہے، اس لیے وہ آنے والے دنوں میں اس فیصلے کے خلاف درخواست دائر کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔