ہماری صحت اور طبِ نبوی

سید شاہد حُسین  اتوار 15 ستمبر 2019
طب نبوی کا تعلق براہ راست علم وحی الٰہی کے ساتھ ہے۔ فوٹو: فائل

طب نبوی کا تعلق براہ راست علم وحی الٰہی کے ساتھ ہے۔ فوٹو: فائل

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

ترجمہ: (پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تمہیں محبوب بنالے گا اور تمہارے گناہ معاف کردے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

(سورۃ آل عمران آیت نمبر31)

اس آیت مبارکہ کی روشنی میں ہمیں یہ بات اچھی طرح سے ذہن میں رکھنی چاہیے کہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ سے منسوب ہر عمل کی پیروی نہ صرف ہمیں اللہ رب العزت کا محبوب بناتی ہے بلکہ ہماری مغفرت کا ذریعہ بھی بن جاتی ہے۔

اسی تناظر میں ہمیں چاہیے کہ بیماری کے حالات کو صحت کے حالات سے تبدیل کرنے یعنی شفایابی کے یقینی حصول کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی علاج معالجہ اور صحت مند رہنے کے اصول والی زندگی جو کہ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ قیامت تک آنے والے ہر انسان کے لیے عطا فرمائی ہے جسے آج کی دنیا طب نبوی کے نام سے جانتی ہے اس طرف فوری رجوع کریں۔

طب نبوی کیا ہے؟

طب نبوی درحقیقت چار اہم چیزوں کا مجموعہ ہے جس میں دعائیں نبوی، نبوی دوائیں ، نبوی غذائیں اور نبوی علاج (حجامہ) شامل ہیں۔

طب نبوی سے مکمل فائدہ اٹھانے سے قبل یہ بات سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ دنیاوی علم ظَنِّی یعنی گمان اور تجربہ پر ہوتا ہے جب کہ طب نبوی کا تعلق براہ راست علم وحی الٰہی کے ساتھ ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ گمان، تجربات اور وحی الٰہی برابر ہوجائیں؟ یہ دونوں چیزیں ہرگز برابر نہیں ہوسکتی ہیں۔

اس لیے یہ بھی بہت ضروری ہے کہ مومن ہونے کے ناتے وحی کی تعلیمات پر عمل کرنے کے لیے کسی بھی دور میں کی جانے والی تحقیقات کو بنیاد نہیں بنایا جاسکتا بلکہ یقین کامل کو بنیاد بنا کر عمل کیا جانا چاہیے۔ یعنی سنت زندگی گزارنے کا راستہ دیکھ کر چلنے کا نہیں ہوتا ہے بلکہ چل کر دیکھنے کا ہوتا ہے۔

جو یقین کی راہ پہ چل پڑے

انہیں منزلوں نے پناہ دی

جنہیں وسوسوں نے ڈرا دیا

وہ قدم قدم پہ بہک گئے

طب نبوی کو زندگی میں لانا کیوں ضروری ہے؟

طب نبوی دراصل علاج معالجہ کی زندگی (Medical Life) اور صحت کی حفاظت کی زندگی (Health Care Life) کے دو بنیادی حقوق پر مشتمل ہے۔

علاج معالجہ اور صحت مند زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان فطرت (Natural Life) کے مطابق طرززندگی اختیار کرے۔ طب نبوی سے علاج کرنے میں انسان کو تین فائدے یقینی طور پر حاصل ہوتے ہیں۔ پہلا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ یہ علاج بے ضرر ہے یعنی No side effects دوسرا اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے اگر مریض کی موت کا وقت نہ آگیا ہو اور ادویات، خالص غذائیں وقت پر میسر آگئی ہوں تو شفایابی 100% فی صد یقینی ہوجاتی ہے اور تیسرا سب سے اہم فائدہ یہ ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی برکت سے دنیا میں محبوبیت خداوندی اور آخرت میں شفاعت نبوی نصیب ہوجاتی ہے۔

جیسا کہ مضمون کے شروع میں عرض کیا ہے طب نبوی چار اہم بنیادی چیزوں کا مجموعہ ہے جن میں سب سے پہلے بیماری کے حالات کو بدلنے کا یقینی عمل نبوی دعاؤں کا سہارا ہے۔ یعنی جو دعائیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے شفایابی کی تلقین فرمائی ہیں مریض خود بھی پڑھے اور اس کے گھر والے بھی پڑھ کر اس پر دم کریں۔ اسی کے ذیل میں رقعیۃ الشریعۃ کا بار بار سننا بھی شامل ہے صبح و شام صدقہ دینا بھی شفاء کا موثر ترین ذریعہ ہے۔

دوسرا حصہ نبوی دواؤں کا بلاشک و شبہ استعمال ہے۔ یعنی وہ جڑی بوٹیاں جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علاج معالجہ میں تجویز فرمایا ہے۔

تیسرا حصہ جسے نبوی غذائیں کہا جاتا ہے روزمرہ کی زندگی میں ایسی غذاؤں کا استعمال جن کا انتخاب وحی الٰہی ذریعہ قیامت تک آنے والے ہر انسان کے لیے بتادیا گیا ہے جس کی وجہ سے انسان کی صحت برقرار رہتی ہے۔

ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ طاقت ور مومن کم زور مومن کے مقابلے میں اللہ رب العزت کو زیادہ محبوب ہے۔

چوتھا اور آخری حصہ جسے دنیائے طب الحجامہ (Cupping Therapy) کے نام سے جانتی ہے جسم میں پلنے والے فاسد مادے (Toxin) کو نکلوا کر خون صاف کرنے (Detoxify) کی تیکنیک پر مشتمل علاج ہے، تاکہ انسان کی صحت برقرار رہ سکے۔

طب نبوی کا دوسرا اہم حصہ جسے (Health Care Life) صحت کی حفاظت کہتے ہیں۔ اس پر عمل کرنے کی برکت سے انسان صحت مند زندگی گزارتا ہے اور اپنے رب کو راضی کرتا ہے۔ مفہوم حدیث کا یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں ایک طبیب نے مطب قائم کیا مگر چند دن بعد اسے بند کرنا پڑا کیوں کہ مطب کو کوئی مریض میسر نہ آیا۔ اس معاشرہ کے صحت مند ہونے کی وجہ یہ سامنے آئی کہ یہ لوگ شدید بھوک لگنے پر کھاتے ہیں اور جب بھوک باقی ہوتی ہے تو کھانا ترک کردیتے ہیں۔ حضرت لقمان علیہ السلام سے کسی نے سوال کیا کہ بیماری کیا ہے؟ فرمایا فطرت سے دوری پھر پوچھا اس کا علاج کیا ہے فرمایا فطرت پر واپس لے آؤ۔

صحت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ مفہوم حدیث ہے کہ دو نعمتیں ایسی ہیں کہ جن کی ناقدری کرنے کی وجہ سے اکثر لوگ نقصان اٹھاتے ہیں۔ (1) صحت و تن درستی (2) فرصت و فراغت۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم چوںکہ قیامت تک آنے والے ہر اُمتی کے نبی ہیں اُن کی لائی ہوئی زندگی دین فطرت اور مکمل ضابطہ حیات ہے لہٰذا یہ زندگی قیامت تک زندہ رہے گی بھلے مسلمان اس پر عمل پیرا ہوں یا نہ ہوں اس کی سب سے بڑی مثال طب نبوی یعنی فطری زندگی جسے آج کی غیرمسلم اقوام Natural Life / Organic Life کے نام سے اپنا چکی ہے۔

آپ امریکا، آسٹریلیا، یورپ کینیڈا، جرمنی کہیں بھی نظر دوڑائیں آپ کی حیرت کی انتہا نہ رہے گی۔ دین فطرت غیرمسلموں میں بغیر ایمان کے زندہ ہے۔ اس لیے کہ وہ لوگ اپنی ترقی کے عروج کو چھونے کے بعد فطرت کی طرف واپس آگئے ہیں جس کی واضح مثال Natural/Organic Foods, Fruits & Vegetables کی باقاعدہ طور پر ان ممالک میں کثرت ہے۔ نہ صرف فطری طرززندگی اپنانے پر زور دیا جارہا ہے بلکہ ان سب چیزوں کی کاشت بھی عرصہ دراز سے شروع کردی گئی ہے۔ وجہ بنیادی غیرمسلموں کی بقاء (Survival) ہے۔ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحت مند رہنے اور علاج معالجہ کی زندگی کو بغیر ایمان لائے اپنا چکے ہیں اور ایمان والے اکثریت میں اس فطری زندگی گزارنا تو دور کی بات ہے انہیں اس کی معلومات ہی نہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم طبیب اعظم بھی ہیں۔ مسلمانوں کے قلوب شک و شبہ میں پڑے ہوئے ہیں کہ اس زندگی کو اختیار کریں یا نہ کریں جس پر عمل کرنے کی صورت میں سنت کی اتباع کی برکت سے ہر بوٹی اور غذا استعمال کرنے پر سو شہیدوں کے ثواب کی بشارت کا یقینی حق دار بننا سعادت عظمیٰ سے کم نہیں ہے اور صحت و شفایابی کا حصول تو دنیاوی فائدہ یقینی ہے۔

اگر ہم بحیثیت مسلمان اپنے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی طب نبوی کا احیاء (Revival) کریں تو اس زمانے میں بھی غیرمسلموں سے اس میں کسی قسم کا کوئی ٹکراؤ (Conflict) نہیں ہے بلکہ بہت سے غیرمسلموں نے یہ زندگی صرف اپنی جانوں کی بقا (Survival) کے لیے اختیار کرلی ہے۔ ہمیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بھلائی ہوئی زندگی (Forgotten Life) کے احیاء (Revival) کے لیے انتھک محنت صبح و شام کرنی ہے۔

اس محنت کے نتیجے میں اجروثواب کے ساتھ صحت کی بقاء (Survival) خودبخود نصیب ہوجائے گی۔ مسلمان Organic/Natural Life میں بھی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہوئے دنیا کے Pioneer ہیں۔ اگر وہ اس بات کا گہرائی سے مطالعہ کریں یعنی جو زندگی غیرمسلم قومیں اپنی صحت کی بقاء (Survival) کے لیے اپنا رہی ہیں جسے دین فطرت کہا جاتا ہے یہی تو اسلام ہے جس کی تعلیمات ہمیں وحی کے ذریعے 1440 سال قبل مل چکی ہیں جنہیں ہم نے چھوڑ دیا اور غیرمسلموں نے اپنالیا ہے۔

اس سلسلے میں مسلمان تاجروں سے درخواست کروں گا کہ خدارا اپنے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی طب نبوی جسے Natural/Organic Life کہا جاتا ہے اسے بطور تجارت زندہ کریں۔ جتنے زیادہ تاجر اس زندگی میں آئیں گے اتنی زیادہ طب نبوی کی چیزیں سستی ہوجائیں گی اور ہر انسان کی پہنچ میں بھی آجائیں گی۔ آپ باہر کے ممالک کا جائزہ لیں کتنی تیزی سے Natural/Organic Foods کا کاروبار بڑھ رہا ہے کتنے زیادہ اس کے اسٹورز کھل رہے ہیں۔ کتنی تیزی سے اس کی کاشت شروع ہوچکی ہے Organic Farms کتنی ترقی کرچکے ہیں جن میں وہ خالص دودھ بغیر انجکشن والا قدرتی غذا کھلا کر گھر گھر (Online) پہنچانے کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔

پاکستان میں الحمدللہ زیتون کا پھل لگ گیا ہے مگر عام طور پر اس کے پودے سے پھل آنے تک 5 سال بڑے صبر و تحمل سے انتظار کرنا پڑتا ہے جس کے لیے عام طور پر جلدی نفع کا طالب تاجر تیار نہیں ہوتا ہے۔ کاشت کاروں کو چاہیے کہ زیتون کی کاشت کے لیے صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 5 سال برداشت کرلیں تو پھر ہر سال بہت عمدہ پھل آپ کو ملتا رہے گا۔ ایک دن وہ آئے گا کہ پاکستان کا شمار بھی ان ممالک کی فہرست میں ہوگا جو بہت زیادہ مقدار میں زیتون کا تیل برآمد کرتے ہیں۔ بات صرف اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت کی ہے ورنہ یہ کام ہرگز مشکل نہیں ہے۔

مسلمان اطباء حضرات و خواتین سے میری التجا ہے کہ خدارا بیمار اُمت کو طب نبوی سے روشناس کروائیں اور آپ خود بھی اپنائیں۔ جس دن آپ نے طب نبوی کی مکمل زندگی اختیار کرلی اس دن آپ اپنی زندگی کی برکات، بہاریں دیکھ کر جھوم اُٹھیں گے اور پکار اٹھیں گے کہ واقعی یہ علاج زمینی نہیں بلکہ آسمانی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔