پٹائی اور تربیت کا پیراہن

آمنہ احسن  منگل 17 ستمبر 2019
ہماری نئی نسل عجیب کاہلی، شدت پسندی اور منفی خیالات کی حامل ہوتی جا رہی ہے۔ فوٹو: فائل

ہماری نئی نسل عجیب کاہلی، شدت پسندی اور منفی خیالات کی حامل ہوتی جا رہی ہے۔ فوٹو: فائل

گزشتہ دنوں سماجی ذرایع اِبلاغ (سوشل میڈیا) کے ذریعہ ایک خبر کافی پھیلی کہ لاہور (گلشن راوی) میں ایک استاد نے نہم جماعت کے طالب علم کو سبق یاد نہ کرنے پر اس قدر تشدد کا نشانہ بنایا کہ وہ بے چارہ جان کی بازی ہار گیا۔  یہ خبر سنتے ہی، میرے ذہن میں اپنے تعلیمی دور کے ایسے بے شمار  واقعات گھوم گئے۔

خود میرے بھائی کو لاہور کے ایک نجی اسکول میں، ایک ٹیچر نے شدید جسمانی سزا کا نشانہ بنایا۔ میری والدہ کو خبر ہوئی، تو انہوں نے ٹیچر اور اسکول انتظامیہ سے بات کرنا چاہی، لیکن اسکول ٹیچر سے لے کر انتظامیہ تک کوئی بھی ازالہ تو دور کی بات، اپنی یہ غلطی تک ماننے کو تیار نہیں ہوا۔۔۔

اس سے بھی زیادہ نازک اور شرم ناک صورت حال میری بہن کے اسکول میں اس وقت پیدا ہوئی کہ جب ایک ٹیچر نے یہ اصول بنا دیا کہ جو لڑکی سبق نہیں سنائے گی،  اسے کلاس کا لڑکا اور جس لڑکے کو سبق یاد نہیں ہوگا، اسے کلاس کی لڑکی چہرے پر تھپڑ مارے گی۔۔۔!! یہ اس کے لیے سزا بھی ہوگی اور شرم دلانے کا ایک طریقہ بھی۔۔۔!  یہ ڈھنگ اگر کسی بے شعور جگہ کا ہوتا  تو ہم ضرور احتجاج کرتے کہ بے علم لوگ ہیں، تعلیم نہیں ہے۔ شعور نہیں ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن یہ سلسلہ ایک اسکول میں روا رکھا گیا، اس لیے ہم ایسی کوئی بات نہیں کر سکتے۔۔۔

نوعمری میں مخالف صنف سے اس طرے تھپڑ لگوانا بچے کے لیے دُہری اذیت کا باعث بن سکتا ہے، اول جسمانی تکلیف اور دوم اس امر کے نفسیاتی طور پر نہایت گہرے اور کاری اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔۔۔ جو شرمیلے بچوں کی شخصیت کو مسخ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔ اسکول کے اس اس نہایت احمقانہ اور غیر اخلاقی رویے کے خلاف بھی شکایت درج کرائی گئی، لیکن اسکول کی انتظامیہ نے والدین کی داد رسی سے گریز کیا، چناںچہ والدین کے پاس چپ ہوکے بیٹھنے یا اپنے بچے کا اسکول تبدیل کرانے کے سوا اور کوئی راستہ نہ بچا۔

خود راقم الحروف کو بھی چوتھی جماعت میں فقط اس لیے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، کہ میں ’آرٹس اینڈ ڈراما سوسائٹی‘ کے لیے بننے والے ایک ڈرامے میں پنجابی نہیں بول پا رہی تھی۔ یہاں فقط چند واقعات کا ذکر ہے، وہ بھی وہ واقعات جہاں والدین اپنے بچوں کے ساتھ کھڑے تھے یا انہوں نے محسوس کیا اور اپنے بچوں  کے حق میں آواز اٹھائی۔ ہمارے معاشرے میں تو ایسے والدین بھی ہیں، جو سرے سے بچوں کا کبھی ساتھ ہی نہیں دیتے، بلکہ کئی والدین تو اساتذہ کو خود کہتے ہیں کہ ایک دو لگا دیجیے گا، بس بچہ فرماں بردار ہو جائے گا۔

اب یہ فرماں بردار بچہ کتابی کیڑا بن جائے یا اپنے حق کے لئے آواز اٹھانے کی سکت بھی نہ رکھے تو کسی کا بھلا کیا جائے گا؟

دوسری طرف یہ صورت حال بھی ہے کہ ذرا سی سختی پر بھی والدین اسکول یا اساتذہ پر برہمی ظاہر کرنے لگتے ہیں، نتیجتاً بچے والدین کی شہ پا کر بگڑنے لگتے ہیں، کیوںکہ انہیں کسی بھی سختی کی صورت میں اپنے گھر سے غیر مشروط حمایت کا یقین ہوتا ہے۔ یہ بھی ایک دوسری انتہائی صورت حال ہے۔ بچے کی عمر کا تقاضایہ ہوتا ہے کہ اسے کسی بھی طرح کی سرزنش کا پابند رکھا جائے۔ ایک چیز بڑوں اور اساتذہ کا رعب ہوتا ہے کہ اگر انہیں خبر ہوگی، تو وہ برا مانیں گے، ڈانٹیں گے یا پھر نظم وضبط کی خلاف ورزی شمار ہوگی، جس کی صورت میں ان کی سالانہ یا شش ماہی کارکردگی رپورٹ میں منفی نشانات ثبت ہوں گے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ مار پیٹ بچوں کی شخصیت پر انتہائی منفی اثر ڈالتی ہے۔ اس سے بچہ کبھی اپنی شخصیت کو اجاگر نہیں کر پاتا یا پھر وہ سرکش اور باغی ہوجاتا ہے۔ دونوں ہی حالات میں بچے کی شکست ہے، جو درحقیقت اس کے والدین کی اور اس سے بھی بڑھ کر اس پورے سماج کی ہار ہے۔

اس معاشرے کو باشعور اور مستعد لوگوں کی ضرورت ہے، لیکن ہماری نئی نسل عجیب کاہلی، شدت پسندی اور منفی خیالات کی حامل ہوتی جا رہی ہے۔ اس سارے معاملے پر والدین اور اساتذہ کے درمیان کھلی بات چیت ہونا ضروری ہے۔  یہ والدین اور اساتذہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہوئے بچے کی تعلیم وتربیت کے لیے ایسی راہ کا چناؤ کریں، جس میں اعتدال کے ساتھ بچے کو زیور تعلیم اور تربیت کے پیرہن سے آراستہ کیا جا سکے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔