کشمیرمیں قانون کا ظالمانہ استعمال بھارتی حکومت کی بے ایمانی ظاہرکرتا ہے، ایمنسٹی انڈیا

ویب ڈیسک  منگل 17 ستمبر 2019
مقبوضہ جموں کشمیرکے سابق وزیراعلی فاروق عبداللہ پرپبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کرنا بھارتی حکومت کی جانب سے قانون کی کھلی خلاف وزری ہے۔: فوٹو: فائل

مقبوضہ جموں کشمیرکے سابق وزیراعلی فاروق عبداللہ پرپبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کرنا بھارتی حکومت کی جانب سے قانون کی کھلی خلاف وزری ہے۔: فوٹو: فائل

نئی دہلی: ایمنسٹی انڈیا نے بھی مقبوضہ کشمیرمیں جاری بھارتی بربریت کا چہرہ بے نقاب کردیا۔

ایمنسٹی انڈیا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں لاک ڈاؤن کو 40 روزسے زائد ہوچکے ہیں۔ انتظامی نظربندی کے قوانین کے تحت ہزاروں سیاسی رہنماؤں ، سماجی کارکنوں اورصحافیوں کو خاموش کروانا جاری ہے جو انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیار کے منافی ہیں۔  مقبوضہ جموں کشمیر کی تاریخ میں پیلک سیفٹی ایکٹ کو کئی بار غیر قانونی طریقے سے استعمال کیا جا چکا ہے۔ ہماری گزشتہ بریفنگ میں ہم نے بتایا تھا کہ کیسے بھارتی حکومت پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت فوجداری نظام، احتساب ، شفافیت اورانسانی حقوق کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

ایمنسٹی انڈیا کے مطابق عوامی آرڈر کو خراب کرنے پر فاروق عبداللہ کے خلاف نظربندی کا آرڈر پاس کیا گیا جوکہ پہلے ہی 5 اگست سے اپنے گھرمیں نظربند ہیں، تبدیلی کے وعدے کے باوجود سیاسی رہنماوں کے خلاف قانون کا ظالمانہ استعمال بھارتی حکومت کی بے ایمانی کو صاف ظاہر کرتا ہے۔ مقبوضہ جموں کشمیرکے سابق وزیراعلی فاروق عبداللہ پر پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کرنا بھارتی حکومت کی جانب سے قانون کی کھلی خلاف وزری ہے۔ بھارتی حکومت کا یہ اقدام مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف وارزیوں کی ایک اورمثال ہے۔

 

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔