پنجاب کابینہ کی تنظیم نو ’’اہل‘‘ اور’’نااہل‘‘ کی بنیاد پر ہونی چاہئے

رضوان آصف  بدھ 18 ستمبر 2019
کابینہ کی تنظیم نو کے بغیر عمران خان اور سردار عثمان بزدار ’’گڈ گورننس‘‘ اور عوامی پذیرائی کی سند حاصل نہیں کر سکتے۔

کابینہ کی تنظیم نو کے بغیر عمران خان اور سردار عثمان بزدار ’’گڈ گورننس‘‘ اور عوامی پذیرائی کی سند حاصل نہیں کر سکتے۔

 لاہور: پاکستان کی سیاست بہت بے رحم اور بے وفا ہے۔ یہاں تخت کو تختہ دار بنتے دیر نہیں لگتی، جو افراد ناقابل تسخیر دکھائی دیتے ہیں وہ اچانک ہی ناقابل دفاع بن جاتے ہیں اور جن کے بارے میں عوام کو یقین ہوتا ہے کہ انہیں اقتدار نہیں مل سکتا، انہیں تخت پر براجمان کرا دیا جاتا ہے۔

حکومت کسی ایک سیاسی جماعت یا مختلف سیاسی جماعتوں کے اقتدار میں آنے سے نہیں بنتی درحقیقت حکومت تب حکومت کہلاتی ہے جب وہ عوام کی محکوم بن کر ملک و قوم کے مفاد میں فیصلے کرتی اور ذاتی پسند و ناپسند سے بالا تر ہو کر ان پر عملدرآمد کے اقدامات کو یقینی بناتی ہے۔

ہماری بد نصیبی کہہ لیں یا ہمارے ووٹ کی بے قدری سمجھ لیں کہ گزشتہ تین دہائیوں میں آنے والی حکومتیں درحقیقت بادشاہت اور جمہوریت کا ’’ری مکس ورژن‘‘ بن گئی تھیں اور موجودہ حکومت کوایک برس بعد بھی یقین نہیں آرہا کہ وہ حکومت میں ہے۔

وفاقی و صوبائی وزراء محض ’’خانہ پری‘‘ کیلئے ہوا کرتے تھے اور ڈینگی مچھر کومارنے سے لیکر کھربوں روپے مالیت کے قرضے لینے تک ہر فیصلہ فرد واحد ہی کرتا تھا اور بیوروکریسی جسے پاکستان ایڈ منسٹریٹو سروس بھی کہا جاتا ہے وہ حکمرانوں کی ذاتی ’’خدمتگار سروس‘‘ میں تبدیل ہو گئی تھی۔

عوام اس طرز حکومت سے شدید نالاں تھے اور جب عمران خان نے اپنی انتخابی مہم میں یہ وعدہ کرنا شروع کیا کہ وہ پولیس اور بیوروکریسی میں بے جا سیاسی مداخلت ختم کریں گے ، وفاقی اور صوبائی کابینہ میں حقیقی جمہوری انداز میں کھلے ذہن،غیر جانبداری، ملکی مفاد اور محکموں کی رائے کی بنیاد پر مشارت کے بعد فیصلے ہوں گے تو عوام کواس بات نے بہت حوصلہ دیا تھا۔ صوبائی تاریخ کی سب سے بڑی کابینہ رکھنے والے وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی کشتی سیاسی موجوں کے طلاطم اور غیر یقینی پن کے بھنور میں پھنسی رہتی ہے اور وزیر اعلی کا زیادہ وقت اپنی وزارت اعلی کی حفاظت میں گزر جاتا ہے۔

سردار عثمان بزدار پر کی جانے والی تنقید میں ان کی اپنی کارکردگی اور حکومتی گرفت کا’’شیئر‘ ‘بہت کم ہے درحقیقت وہ اپنی کابینہ کے اکثریتی وزراء اور مشیروں کی نالائقی اور نکمّے پن کی وجہ سے زیادہ تنقید برداشت کر رہے ہیں لیکن سردار عثمان بزدار چاہتے ہوئے بھی کابینہ کے نالائق ارکان کو تبدیل کرنے کا’’اختیار‘‘ نہیں رکھتے کیونکہ یہ فیصلہ کرنے کا حقیقی اختیار تو کپتان کے پاس ہے۔ اگر اختیار واقعی سردار عثمان بزدار کے پاس ہوتا تو شہباز گل اور عون چوہدری کئی ماہ قبل فارغ ہو چکے ہوتے اور ملک اسد کھوکھر بھی تین ماہ قبل وزیر بن چکے ہوتے۔

سردار عثمان بزدار پر تنقید کرنا زیادہ آسان ہے اس لئے ہر کوئی ان پر طنز بھی کر جاتا ہے اور سخت تنقید بھی لیکن غیر جانبداری سے تجزیہ کیا جائے تو سردار عثمان بزدار تو’’مظلوم‘‘ شخصیت ہیں جن کو ہر فیصلہ کیلئے ’’منظوری‘‘ لینا پڑتی ہے۔ سیاسی حلقوں میں بہت وثوق سے کہا جا رہا ہے کہ مقتدر حلقے بزدار سرکار کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں اور اس حوالے سے عمران خان پر دباو بڑھ رہا ہے لیکن عمران خان ابھی عثمان بزدار کو مزید موقع دینا چاہتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ انہوں نے عثمان بزدار کو’’ریلیکس‘‘ کرنے اور ’’مضبوط وزیر اعلی کا ’’تاثر‘‘ پیدا کرنے کیلئے عون چوہدری اور شہباز گل کو فارغ کردیا ہے۔ یقینی طور پر اس فیصلے نے وقتی طور پر سردار عثمان بزدار کو طاقتور ظاہر کیا ہے لیکن ممکن ہے کہ یہ شمع بجھنے سے قبل بھرپور طریقے سے روشنی کی پھڑپھڑاہٹ ہو۔

عمران خان اور سردار عثمان بزدار جب تک پنجاب کابینہ میں ’’میجر سرجری‘‘ نہیں کریں گے، معاملات درست سمت میں گامزن نہیں ہوں گے۔ وزیر اعظم اور وزیر اعلی کو سیاسی بلیک میلنگ سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا اور مکمل غیر جانبداری کے ساتھ صرف اور صرف کارکردگی کی بنیاد پر کابینہ کی تنظیم نو کرنا پڑے گی۔ نا اہل وزراء کے محکمے بدلنے سے کام نہیں چلے گا انہیں فارغ کر کے اپنے دیگر اراکین میں سے اہلیت کی بنیاد پر نئے وزراء لیکر آئیں اور پھر ان وزراء کے ساتھ ایک اچھی بیوروکریٹک ٹیم بنائیں۔ اس وقت تو اہل اور نا اہل وزراء کا متقفہ جواز ہے کہ ہم ’’بے اختیار‘‘ ہیں لہذا ہم سے کارکردگی کا حساب کیسے مانگا جا سکتا ہے۔

کابینہ ارکان کو دیکھیں توسب سے بری صورتحال وزارت صحت میں ہے جہاں ڈاکٹر یاسمین راشد نے عمران خان اور تحریک انصاف کو ہی نہیں عوام کو بھی مایوس کیا ہے۔سمیع اللہ چوہدری ابھی تک خود پر لگنے والے الزامات کے اثر سے باہر نہیں نکل پا رہے ہیں حالانکہ انہوں نے عمران خان کے سامنے بہت عمدگی کے ساتھ اپنا کیس لڑ کر خود کو ’’کلیئر‘‘ کروا لیا تھا لیکن میڈیا ٹرائل نے ان کے’’امیج‘‘ کو نقصان پہنچایا ہے۔

غیر تسلی بخش کارکردگی کی بات کی جائے تو وزیر مواصلات آصف نکئی، وزیر معدنیات عمار یاسر، وزیر لٹریسی راجہ راشد حفیظ، وزیر سپیشل ایجوکیشن محمد اخلاق، وزیر پاپولیشن ویلفیئر ہاشم ڈوگر، وزیر لیبر عنصر مجید، وزیر کو آپریٹو مہر اسلم، وزیر ایم پی ڈی ڈی حسین جہانیاں گردیزی، وزیر سوشل ویلفیئر محمد اجمل، وزیر توانائی محمد اختر، وزیر معدنیات عمار یاسر، وزیر انسانی حقوق اعجاز اور وزیر ٹرانسپورٹ جہانزیب کچھی کی اپنے محکموں کے امور میں گرفت اور شرکت بہت مایوس کن معلوم ہوتی ہے جبکہ یہ تمام ایسے محکمے ہیں جہاں اگر یہ وزراء دلچسپی اور ذہانت کے ساتھ کام کریں تو حکومت عوام کو بہت سہولیات فراہم کر سکتی ہے اور حکومتی ساکھ و تاثر بھی تیزی سے بہتر ہو سکتا ہے۔

تحریک انصاف نے ہمیشہ خواتین کی فلاح وبہبود اور انہیں طاقتور و بااختیار بنانے کی بات کی ہے لیکن گزشتہ ایک برس میں وزیر وویمن ڈویلپمنٹ آشفہ ریاض کی اس حوالے سے کارکردگی پر بہت سے سوالات موجود ہیں۔ بہت سے وزراء کی دلچسپی اپنے محکموں سے زیادہ اپنے حلقوں میں دکھائی دیتی ہے، سیاستدان کیلئے اس کا انتخابی حلقہ اور ووٹر بہت اہم ہوتے ہیں لیکن صوبائی وزراء کو اپنے محکموں کو اولین ترجیح بنانا چاہئے کیونکہ ان کی وزارت کی اچھائی یا برائی سے پورے پنجاب کے حلقوں کے عوام متاثر ہوتے ہیں۔ یہ تو سردار عثمان بزدار کی گڈ لک ہے کہ چند وزراء اپنے محکموں میں بہت فعال ہیں۔

وزیر قانون راجہ بشارت ، وزیر زراعت نعمان لنگڑیال، وزیر خزانہ مخدوم ہاشم جواں بخت، وزیر ایکسائز حافظ ممتاز، وزیر لائیو سٹاک حسین دریشک عمدہ کام کر رہے ہیں۔ وزیر ہاوسنگ میاں محمود الرشید سینئر سیاستدان ہیں اور وہ نیا پاکستان ہاوسنگ پراجیکٹ پر کام کر رہے ہیں لیکن ابھی تک وہ کوئی نمایاں اور حقیقی پیش رفت نہیں کر پا رہے، وزیر صنعت میاں اسلم اقبال کے سامنے صوبے میں مہنگائی کا خاتمہ بہت بڑا چیلنج ہے وہ متحرک اور فعال وزیر ہیں اور بہت سنجیدگی کے ساتھ وزارت میں کام کر رہے ہیں لیکن رمضان پیکج سے لیکر روزمرہ مہنگائی تک کہیں بھی وہ بڑی کامیابی حاصل نہیں کر پارہے۔

فیاض الحسن چوہان کے خلاف ’’اپنوں‘‘ کی سازشیں انہیں کام نہیں کرنے دے رہیں ۔کابینہ کی تنظیم نو کے بغیر عمران خان اور سردار عثمان بزدار ’’گڈ گورننس‘‘ اور عوامی پذیرائی کی سند حاصل نہیں کر سکتے۔ عمران خان کی سیاسی’’مجبوریوں‘‘ کی وجہ سے مجھے امید نہیں کہ وہ پنجاب کابینہ میں کوئی بڑی تبدیلی لا سکیں گے لیکن جو کر سکتے ہیں اتنا تو کریں تا کہ کوئی تو تازہ ہوا کا جھونکا محسوس ہو۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔