امریکا چاہے تو مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، طالبان

ویب ڈیسک  بدھ 18 ستمبر 2019
کابل میں خودکش حملے میں امریکی فوجی کی ہلاکت پر صدر ٹرمپ نے مذاکرات معطل کردیئے تھے۔ (فوٹو : بی بی سی)

کابل میں خودکش حملے میں امریکی فوجی کی ہلاکت پر صدر ٹرمپ نے مذاکرات معطل کردیئے تھے۔ (فوٹو : بی بی سی)

دوحہ: افغان امن مذاکرات کی طالبان ٹیم کے سربراہ شیر محمد عباس ستانکزئی نے مذاکرات کی بحالی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا چاہے تو امن مذاکرات کے لیے دروزے کھلے ہیں۔ 

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عباس ستانکزئی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام کا واحد راستہ مذاکرات ہیں جو امریکا کی وجہ سے تعطل کا شکار ہیں تاہم صدر ٹرمپ مذاکرات کی بحالی میں دلچسپی رکھتے ہیں تو طالبان کی جانب سے اب بھی دروازے کھلے ہیں۔ امید ہے امریکا بھی اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے گا۔

یہ خبر پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا افغان طالبان کے ساتھ امن مذاکرات معطل کرنے کا اعلان

عباس ستانکزئی نے خود کش حملے میں امریکی فوج کے اہلکار کی ہلاکت پر پیدا ہونے والے صدر ٹرمپ کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ طالبان نے کچھ غلط نہیں کیا ہے، امریکی فوج نے ہزاروں طالبان کو مارا ہے، صرف ایک امریکی فوجی کی ہلاکت پر اتنا شدید ردعمل نہیں آنا چاہیئے تھا کیوں کہ ابھی فریقین کے درمیان جنگ بندی نہیں ہوئی تھی۔

یہ خبر بھی پڑھیں: مذاکرات منسوخی کا سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان خود امریکا کو ہوگا، طالبان

واضح رہے کہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان قطر میں ہونے والے امن مذاکرات معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم خود کش دھماکے میں امریکی فوجی کی ہلاکت پر صدر ٹرمپ نے 8 ستمبر کو سینیئر طالبان رہنماؤں اور افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والی ملاقات اور مذاکرات کے مکمل خاتمے کا اعلان کردیا تھا جس کے بعد سے تاحال مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔