حکومت کراچی میں صفائی کا موثر نظام بنانے میں ناکام

اسٹاف رپورٹر  جمعرات 19 ستمبر 2019
عملہ اور مشینری نہ رکھنے والے ڈپٹی کمشنرز صفائی کے امور کس طرح انجام دیں گے، کراچی میں صفائی کاکام پھر مشکل ترین بنادیا گیا۔ فوٹو: فائل

عملہ اور مشینری نہ رکھنے والے ڈپٹی کمشنرز صفائی کے امور کس طرح انجام دیں گے، کراچی میں صفائی کاکام پھر مشکل ترین بنادیا گیا۔ فوٹو: فائل

کراچی: کراچی کی صفائی مہم بدعنوانیوں کی نذر ہونیکا خدشہ ہے،سندھ حکومت نے ہر مسئلہ کا حل ڈپٹی کمشنر ز کو بنالیا جب کہ ترقیاتی کاموں اور پرائس کنٹرول سمیت فری واٹر ٹینکرز کی فراہمی میں ناکام ہونیوالے ڈپٹی کمشنرز کو اب صفائی کے امور بھی حوالے کردیے گئے۔

سندھ حکومت نے شہرمیں صفائی کے امور بھی ڈپٹی کمشنرز کے حوالے کردیے ہیں،شہر میں منافع خوری،لوٹ مار سمیت ناقص ترقیاتی کاموں کے ذریعے ناکام ہونیوالے ڈپٹی کمشنرز کو ایک اور ٹاسک دیے جانے پر شہری حلقوں میں تشویش پھیل گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر میں صفائی کے امور کی انجام دہی کیلیے ہر ڈپٹی کمشنر کو 5 کروڑ روپے کے خصوصی فنڈز فراہم کیے گئے ہیں دلچسپ امر یہ ہے کہ ڈپٹی کمشنرز کے پاس صفائی کے امور کی انجام دہی کے لیے کوئی طریقہ کار موجودہے ان کے پاس مشینری ہے اور نہ ہی عملہ موجود ہے موجودہ صورتحال میں ڈپٹی کمشنرز کس طرح شہر میں صفائی کے امور انجام دینگے۔

واضح رہے کہ ایم پی ایز کے ترقیاتی فنڈز جسے کمیونٹی ڈیولپمنٹ پروگرام کا نام دیا گیا ہے اس مد میں اربوں روپے کے فنڈز گزشتہ مالی سال میں ڈپٹی کمشنرز کے حوالے کیے گئے تھے جن کے پاس نہ ہی کوئی انجینئر موجود ہیں اور نہ ہی کوئی عملہ موجود تھا جس کے باعث ڈپٹی کمشنرز نے ڈی ایم سیز کے عملے کی معاونت سے مذکورہ کام انجام دیے جس کے ثمرات شہریوں کو نہ مل سکے دوسری طرف شہر میں منافع خوروں کیخلاف کارروائی میں بھی مذکورہ ڈپٹی کمشنرز بری طرح ناکام ہوچکے ہیں اور شہریوں کو ریلیف نہیں مل سکا۔

شہر میں دودھ تاحال کھلے عام من مانی قیمتوں پر فروخت کیا جارہا ہے تاہم کارروائیاں صرف بیانات تک محدود ہیں،اسی طرح سینکڑوں واٹر ٹینکرز واٹر بورڈ کی جانب سے یومیہ ڈپٹی کمشنرز کو مفت ٹینکر سروس کے تحت فراہم کیے جاتے ہیں اس کے باوجود متاثرہ علاقوں میں پانی کا بحران کم نہیں ہوسکا ہے موجودہ ناقص کارکردگی کے باوجود اب صفائی کے امور بھی ڈپٹی کمشنرز کے حوالے کیے جانے پر شہری حلقوں اور بلدیاتی نمائندوں کی جانب سے بھی حکومت پر تنقید کی جارہی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔