جہاں گشت

عبداللطیف ابو شامل  اتوار 22 ستمبر 2019
سَجّن بیلیو! یہ زندگی تو ہنستی، گاتی، اتراتی اور مُسکراتی بہتی شفّاف ندی ہے جس کا پانی حیات ہے، ہاں ایسی ہی ہے زندگی، جسے ہم اپنی حماقتوں سے، اپنے گناہوں سے گدلا کر دیتے ہیں

سَجّن بیلیو! یہ زندگی تو ہنستی، گاتی، اتراتی اور مُسکراتی بہتی شفّاف ندی ہے جس کا پانی حیات ہے، ہاں ایسی ہی ہے زندگی، جسے ہم اپنی حماقتوں سے، اپنے گناہوں سے گدلا کر دیتے ہیں

قسط نمبر 61

مجھ سے حماقت ہوئی اور یہ میں خود کو رعایت دے رہا ہوں جو گناہ کو حماقت کہہ رہا ہوں، انسان ایسا ہی ہے ناں جی! اپنے بچاؤ کے لیے ہر حربہ اپنانا ہے، چاہے وہ کتنا ہی بے سَر و پَا ہی ہو، ہاں گناہ ہُوا مجھ سے کہ میں نے بابا کی بات کو توجّہ سے نہیں سُنا، یا اسے یُوں کہہ لیں کہ سنا تو توجّہ سے تھا لیکن اس پر غور و عمل نہیں کیا اور پھر یہی ہونا تھا جو ہُوا کہ بابا مجھ سے خفا ہوئے اور انہیں ایسا کرنا بھی چاہیے تھا کہ میں نے حنیف بھائی کو تنہا چھوڑ کر فرار کی راہ اختیار کی جسے میں اپنے تئیں حکمت سمجھ رہا تھا۔

اس واقعے کے بعد حنیف بھائی مجھ سے اور زیادہ قریب ہوگئے تھے میں نے بھی اپنا فرض سمجھتے ہوئے انہیں بڑے بھائی کا درجہ دیا اور چھوٹے بھائی کی طرح اپنے فرائض پر توّجہ دینا شروع کیا پہلے سے زیادہ۔ فقیر اعتراف کرتا ہے کہ وہ حنیف بھائی ہی تھے جن کی سفارش پر بابا نے مجھے معاف کردیا تھا، ورنہ تو میرا جرم قابل معافی تھا کہاں۔

زندگی پھر سے رَواں دَواں تھی، اور سَجّن بیلیو! یہ زندگی تو رہتی ہی رواں ہے، ہنستی، گاتی، اتراتی اور مسکراتی بہتی شفّاف ندی کی طرح، جس کا پانی حیات ہوتا ہے، ہاں ایسی ہی ہے زندگی، جسے ہم اپنی حماقتوں سے، اپنے گناہوں سے گدلا کر دیتے ہیں اور پھر یہی شفاف ندی کسی زہریلے جوہڑ میں بدل جاتی، اور دُور تک تعفن اور موت پھیلانے لگتی ہے۔ گناہ تو ہوجاتا ہے اور کسی سے بھی، لیکن ہمارے رویے کتنے متضاد ہیں ناں کہ اگر ہم سے کوئی گناہ ہوجائے تو ہم اس کے لیے لاکھ جواز تراش لاتے ہیں لیکن اگر کسی اور سے ہوجائے تو آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں اور ایسا کہ مت پوچھیے، کسی کو بھی معاف کرنے پر تیار ہی نہیں ہوتے، ہوتے ہی نہیں، نہ جانے ہٹ دھرمی اور کسے کہتے ہیں اور شقی القلبی کس بَلا کا نام ہے، اور یہ جو بے حسی ہیِ، نہ جانے کیا ہے۔

چلیے ہم اس کی تفصیل میں جانے کی سعی کرتے ہیں، ہوسکتا ہے عقدہ حل ہوجائے، دل کا قُفل ٹوٹے، دَر کھلے، کوئی رستہ ملے۔ دیکھیے یہ بہت اچھی بات ہے … ہاں آپ دیکھ لیجیے … میں بھی دیکھتا ہوں ٹی وی چینلز پر … اخبارات میں … شاہ راہوں پر لگے اتنے بڑے بڑے بورڈ … اور پھر میں نے دیکھا ہے، آپ نے بھی دیکھا ہوگا … یہ کوئی نئی بات نہیں ہے … نماز جمعہ پڑھ کے نکلے تو آپ کو کسی نے ایک چھپا ہوا کاغذ تھما دیا … آپ اسے لے لیتے ہیں، کبھی وہیں پر اور کبھی گھر پہنچ کر فرصت سے دیکھتے ہیں … بہت اچھی بات لکھی ہوتی ہے … اور پھر ان اچھی باتوں کو سکھانے کے لیے اپنی خدمات کا تذکرہ اور اپنی مہارت و ہنر کا دعویٰ … جی ہاں ہم آپ کو سکھا سکتے ہیں۔

انسان ہر دم کچھ نہ کچھ سیکھنے کی سعی کرتا رہتا ہے … اس کی گُھٹّی میں ہے یہ … اس سے فرار ممکن نہیں … یہ سیکھوں … وہ بھی جانوں … مجھے تو سب کچھ آنا چاہیے۔ بالکل ٹھیک ہے … آپ کوشش کرتے ہیں … اس پر اپنا روپیا پیسا لگاتے ہیں …، اپنا وقت لگاتے ہیں، اپنی جان گُھلاتے ہیں۔ بہت محنت کرتے ہیں آپ … بہت نڈھال بھی ہوجاتے ہیں لیکن دُھن کے پکے وہ ہوتے ہیں جو سیکھ کر دم لیتے ہیں … بہت سے مجھ ایسے گاؤدی اور تھڑدلے بھی ہوتے ہیں کہ اپنی کم ہمتی، نالائقی اور جلدبازی کی وجہ سے بس رستے ہی میں دم توڑ دیا … چلیے جی قصہ ہوا تمام۔

جب آپ کچھ سیکھنے کی چاہ میں مبتلا ہوجائیں تب کیا کرتے ہیں؟ گھر پر نہیں بیٹھ جاتے … اس پر سوچتے ہیں آپ، بہت محنت کرتے ہیں … اِدھر اُدھر فون گھماتے ہیں … دوستوں سے مشورہ کرتے ہیں … اپنے وقت کو فارغ کرتے ہیں … اس کے مصارف کا اہتمام کرتے ہیں اور پھر آپ اﷲ کا نام لے کر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں … اور چل پڑتے ہیں اس طرف۔

آپ کو جو سواری مہیّا ہے اس پر بیٹھتے اور وہاں پہنچتے ہیں … تو آپ دیکھتے ہیں کہ آپ کی طرح کے اور بھی بہت سے سیکھنے کے مشتاق وہاں موجود ہیں … بس جی پھر قطار اور انتظار … درمیان میں ہمیں بے کلی ہونے لگتی ہے اور ہم کوئی آسان راہ نکالنے کی سعی کرتے ہیں … ’’ دوست! میرا بھی ایک فارم لے لو۔‘‘ کبھی آپ کی مراد بَر بھی آتی ہے … اور پھر وہ فارم لیتے ہی آپ سکون کا سانس لیتے ہیں … شُکر خدا کا فارم تو ملا۔ پھر آپ اسے بہ غور دیکھتے ہیں، توجہ سے پڑھتے ہیں … ارے یہ نارمل کورس ہے … اس کی فِیس اتنی ہے … یہ شارٹ کورس ہے اور یہ ایڈوانس … آپ یہ سب کچھ کیوں کرتے ہیں ؟

اس لیے ناں کہ بس سیکھنا ہے ہمیں۔ کچھ جاننا ہے ہمیں۔ انگریزی سیکھنی ہے … جرمن سیکھنی ہے … فرانسیسی اور نہ جانے کون کون سی زبانیں۔ چلیے پینٹنگ سیکھنی ہے … اور پھر اس میں بھی فیس پینٹنگ … گلاس پینٹنگ … اور فیبرک پینٹنگ … اور بہت سی شاخیں ہیں۔ اچھا تو کھانا بنانا سیکھنا ہے … بیکنگ سیکھنی ہے … محاسبی وغیرہ … فوٹو اور وڈیو گرافی۔ بس آپ چلتے چلے جائیے … یہ فہرست تو ختم ہونے کی نہیں … آپ اپنے جوہر نکھارنے کے لیے کتنے کٹھن اور محنت طلب مشکل مراحل سے گزرتے ہیں … اس دوران کبھی تو تنگ بھی پڑجاتے ہیں، اُکتا جاتے ہیں … غصہ آتا ہے آپ کو کہ یہ میں کہاں پھنس گیا … لیکن آپ ہتھیار نہیں ڈالتے، خود کو سمجھاتے ہیں، اپنی ہمت خود بندھاتے ہیں، حوصلے سے اور چلتے چلے جاتے ہیں … اور پھر ایک دن، سہانے دن وہ خواب کاغذ کے ایک ٹکڑے کی صورت میں آپ کو تعبیر کی صورت میں ملتا ہے۔ اور پھر آپ خوشی و سرشاری سے پکار اٹھتے ہیں۔ واہ واہ … میں نے پالیا وہ جس کا میں طالب تھا۔ کتنا خوش ہوتے ہیں آپ …!

آپ روز تو دیکھتے ہیں … ہمارے کچھ لوگ میدان میں اترتے ہیں … جان لڑا دیتے ہیں … پھر جیت جاتے ہیں … تب ہم کہتے ہیں واہ واہ بھئی! ہم جیت گئے …

کچھ وہ ہیں جو میدان میں ہار جاتے ہیں تو ہم افسردہ ہوتے ہیں … ہم ہار گئے … حالاں کہ دونوں جگہ ہم نہیں ہوتے … لیکن تعلق تو بندھا ہوا ہے ناں … میدان میں کھیل وہ رہے ہوتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں … سمجھنا بھی چاہیے کہ ہم کھیل رہے ہیں … کتنی مشکل سے، مشقت سے وہ یہ سب کچھ سیکھتے ہیں۔

چلیے ذرا سا دم لیتے ہیں، یہ تو آپ جان گئے ہیں اور بالکل بجا اور ٹھیک جان پائے ہیں کہ فقیر لکھ وکھ نہیں سکتا … ہاں باتیں بنانا خُوب آتی ہیں فقیر کو تو بس باتیں کر رہے ہیں ہم اور ہاں دل کی باتیں … اور فقیر ہمیشہ کہتا ہے ضروری نہیں کہ میری ہر بات درست ہو … سو کیا کریں یہی کچھ آتا ہے … کہتے رہتے ہیں، سنتے رہتے ہیں۔

اب فقیر کو جو بات کہنی تھی وہ صرف اتنی ہی ہے کہ ہم سب کچھ سیکھتے ہیں لیکن ایک بات نہیں سیکھتے، کبھی سوچتے بھی نہیں ناں کہ اتنا کچھ سیکھ رہے ہیں تو چلو یہ بھی سیکھ لیں، اسے سیکھنے کے لیے تو کوئی پاپڑ بھی نہیں بیلنا پڑتا، کوئی فارم بھی نہیں بھرنا پڑتا، رجسٹریشن بھی نہیں کرانا پڑتی اور کہیں جانا بھی نہیں پڑتا، اور پھر کچھ خرچ بھی نہیں آتا، تو پھر ہم آخر کیوں نہیں سیکھتے یہ … اور وہ کیا ہے؟ جی! وہ ہے زندگی کا جوہر خالص … ہم معاف کرنا نہیں سیکھتے … کیسی بات ہے یہ، ہے ناں! … لگتی تو بہت چھوٹی سی بات ہے … لیکن ہے بہت بڑی۔

اب آپ کہیں گے یہ ہم کہاں سے سیکھیں؟ … کون سی درس گاہ ہے، کہاں ہے وہ انسٹی ٹیوٹ کہ جہاں جاکر ہم اسے سیکھیں … ! نہ اس کا اشتہار چھپتا ہے، نہ کوئی فارم، نہ لمبی لائن ، نہ ہی شارٹ، ایڈوانس کورس … اب ہم کریں تو کیا کریں … ؟

دیکھیے یہ زندگی ہے … یہ میری اور آپ کی خواہشات کے تابع ہے نہ ہوسکتی ہے … یہ اپنی ڈگر پر آپ چلتی ہے … کسی سے نہیں پوچھتی پھرتی کہ کیا کروں … ہمیں یہ ہر دم نئی تصویر دکھاتی ہے … نیا رنگ اور نیا پیرہن … یہ نہیں تھکتی … چلتی رہتی ہے اور چلتی رہے گی۔ آپ اسے روک نہیں سکتے … آپ اسے تھکا نہیں سکتے۔

ہم تنہا رہ سکتے ہیں؟ ہاں رہ سکتے ہیں … لیکن یہ بہت ہی زیادہ مشکل کام ہے … بہت مشکل … اچھا تو ہم تنہا نہیں رہ سکتے … تو پھر ہمیں لوگوں کے درمیان رہنا ہوتا ہے … اور آپ سے زیادہ کون جانتا ہے کہ سب ایک طرح کے نہیں ہوتے … ایک طرح سے نہیں سوچتے … سب کے خواب الگ ہیں اور خواہشات سے الگ … لگن اور دل چسپی کے میدان الگ … ہمیں انہی تضادات کے درمیان رہنا پڑتا ہے۔ آپ چاہیں نہ چاہیں، جب ہم اپنے تئیں یہ طے کرلیتے ہیں کہ نہیں ان سب کو میرا کہا ماننا چاہیے، میری طرح دیکھنا چاہیے … سوچنا چاہیے اور یہ ممکن نہیں ہوتا، ہو ہی نہیں سکتا، ناممکن ہے یہ، تب ٹکراؤ ہوتا ہے، تلخی بڑھتی ہے۔

گھٹن ہوتی ہے … سب کچھ ہوتا ہے اور بات بہت آگے چلی جاتی ہے تو جھگڑا ہونے لگتا ہے … ہاں مجھے آپ کی اس بات سے اتفاق ہے کہ آپ تو ٹھیک سوچ رہے ہیں … بہت اچھی خواہشات ہیں … آپ کو صلہ برعکس ملتا ہے … معاف کیجیے گا اچھی تجارت کا انتخاب کیا آپ نے۔ لیکن آپ اس سے آگے کیوں نہیں بڑھتے … آپ خود کو بُھول کیوں نہیں جاتے … اب آپ اسے دوسری طرح سے مت سوچیے۔ آپ زندگی کو قید کرنے کی کوشش کرتے ہیں … اور پھر بکھرنے لگتے ہیں۔ آپ تو بس اپنی خُوش بو کو پھیلنے دیجیے … کسی کی ناک بند ہے تو فکر مت کیجیے … ہاں یہ اس سے بھی آگے کا مرحلہ ہے کہ آپ اس کی بھی فکر کریں کہ یہ خُوش بو سے کیوں محروم ہے … بس آپ اپنا اچھا کام بالکل مت چھوڑیے … بادل بن جائیے۔ برسیے اور نسیم صبح کی مانند سب کے لیے اپنی بانہیں وا کر دیجیے … بالکل صلہ و ستائش ، واہ واہ کی پروا مت کیجیے … اگر آپ نے یہ خواہش کی تو آپ کچھ نہ کر پائیں گے۔

تلخیاں، جھگڑے، دل آزاریاں، گلے شکوے … سب زندگی کا جزو ہیں، کُل نہیں، ہوتے رہے ہیں … ہوتے رہیں گے۔ آپ نہیں بدل سکتے انہیں … بس آپ ایک کام کیجیے۔ کچھ بھی نہیں کرنا آپ کو … نہ کوئی رجسٹریشن … نہ فیس … نہ ہی در در کے دھکے … بس ابھی اور اسی وقت آپ یہ ٹھان لیجیے، میں معاف کرنا سیکھوں گا اور جب بھی کسی سے کوئی غلطی ہوئی تو میں معاف کردوں گا … بس معاف کرتا چلا جاؤں گا۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں … بہت جان جاتی ہے اس میں … معاف کرنا تو بس آپ خود ہی سیکھ سکتے ہیں … کوئی آپ کو نہیں سکھا سکتا۔ نہ کوئی درس گاہ … نہ انسٹی ٹیوٹ … نہ یونی ورسٹی … اکیڈمی … یہ تو آپ کو خود ہی سیکھنا ہوگا۔

ہاں مجھے احساس ہے … ابتداء میں آپ کو بہت محنت کرنا ہوگی … بہت زیادہ … بل کہ بہت ہی زیادہ … آپ خود سے لڑیں گے بھی ، میں کیوں معاف کردوں … نہیں کبھی نہیں کروں گا معاف … بہت لڑیں گے آپ خود سے۔ بہت ظرف چاہیے اس کے لیے … آپ کے اندر سے آواز بھی آئے گی: بس اتنا ہی دم تھا تجھ میں …؟ مرد بن مرد … اور خواتین کہیں گی کہ میں کسی سے کم ہوں جو معافی مانگوں یا معاف کردوں؟ معافی تو مانگے میری جُوتی … وغیرہ۔

ٹھہریے …! آپ کچھ دنوں کے لیے اپنے کان بند کر لیجیے … مت سنیے کسی کی … اپنی بھی نہیں … بس ہمت کیجیے … ایک مرتبہ مشکل ہوگی … اگر آپ نے یہ گھاٹی، جو بہت مشکل ہے سَر کرلی تو پھر آسانی ہی آسانی ہے۔ بس آج اور ابھی سے سب کے لیے خُوش بو بن جائیے … معاف کر دیجیے سب کو۔

ذرا سا اور آگے بڑھ سکتے ہیں آپ … شاباش یہ ہوئی ناں بات … اب پیچھے مت ہیٹے گا دُھن کے پکے ہیں آپ۔

آپ نے کسی کی دل آزاری کی ہے … کوئی جھگڑا … کوئی تلخی … کوئی حق تلفی … کوئی اور بات … آپ کو اندر سے آواز آتی ہے۔ ہاں میں نے غلطی کی ہے۔ تو بس پریشان مت ہوں … اٹھیے اور ابھی اور اسی وقت اس سے معذرت کیجیے … اپنے رویوں سے ثابت کر دکھائیے کہ آپ رنجیدہ ہیں … غلطی ہوگئی ہے آپ سے … ہاں میں آپ کو یقین دلاتا ہوں … آپ معاف کردیے جائیں گے۔

بس آج سے آپ معاف کرنا سیکھ گئے ہیں … اب آپ مسکرائیے ضرور لیکن یہ بتائیے کہ آپ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کررہے ہیں ناں … آپ نے اپنے سر پہ پڑا بوجھ اتار دیا ہے ناں! ضرور مسکرائیے۔

فقیر کی بات پوری ہو چلی ہے …

مجھے اپنے ایک عزیز ترین درویش ہم سفر نے بہت آسان سی بات بتائی تھی … آپ کو بتا دیتا ہوں۔ کہنے لگا : ’’ کَملیا! لوگ جب دیکھو غلطیاں کرتے ہیں، گناہ در گناہ کرتے ہیں، اور جب اس کی نحوست میں پھنس جاتے ہیں، ان کا جینا دُوبھر ہوجاتا ہے، اِدھر اُدھر بہت ہاتھ پاؤں مارنے کے باوجود بھی جب ہر طرف سے مایوس ہوجاتے ہیں تو تب پھر اﷲ جی سے معافی مانگتے رہتے ہیں …‘‘

تو میں بولا: ’’ یہ تو بہت اچھا کرتے ہیں وہ … اس سے تو انسان بندہ بنتا ہے۔‘‘

وہ کہنے لگا: ’’میں یہ نہیں کہہ رہا کہ یہ غلط کرتے ہیں … میں تو آسان نسخہ بتا رہا ہوں۔‘‘

میں نے پوچھا: ’’ کیا ہے وہ بتاؤ …‘‘

تب اس نے بہت خوب صورت بات کی تھی … غور سے سنیے گا، واقعی بہت آسان ہے۔ ’’ دیکھو اﷲ جی سے معافی طلب کرنے کا سب سے اچھا طریقہ اور آسان راستہ یہ ہے کہ اﷲ کے بندوں کو معاف کردیا جائے۔ دیکھ اور سُن او جَھلیا! جب کوئی کسی کو معاف کردے اور پھر اﷲ سے معافی کا طلب گار ہوجائے … تو اﷲ جی کہتا ہے: اوہ … یہ بندہ بن کر معاف کردیتا ہے … میں تو اﷲ ہوں، اسے کیوں نہ معاف کردوں۔‘‘

واہ بھئی واہ … کیا بات ہے۔ آپ نے میری حاضری کو شرف قبولیت بخشا، سو آپ کا ممنون ہوں … اور آپ کی محبّتوں کا مقروض اور اسیر بھی … زندگی رہی اور میرے سوہنے رب نے چاہا تو ملیں گے ہم۔

خود سے زیادہ دوسروں کی فکر کیجیے۔ خوش رہیے آپ سب … اﷲ آپ کو کوئی غم نہ دکھائے اور ہر لمحہ نوید بہار بن جائے۔

فضا میں پھیل چلی میری بات کی خُوش بو

ابھی تو میں نے ہواؤں سے کچھ کہا بھی نہیں

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔