متحدہ عرب امارات میں پہلی یہودی عبادت گاہ کی تعمیر کی تیاریاں

ویب ڈیسک  اتوار 22 ستمبر 2019
سیناگوگ کی تعمیر اگلے برس شروع ہوگی اور 2022 میں پایہ تکمیل کو پہنچے گی۔ فوٹو : فائل

سیناگوگ کی تعمیر اگلے برس شروع ہوگی اور 2022 میں پایہ تکمیل کو پہنچے گی۔ فوٹو : فائل

ابو ظہبی: متحدہ عرب امارات میں پہلی مرتبہ یہودیوں کی عبادت گاہ ’سیناگوگ‘ تعمیر کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے جس کی تکمیل 2022 تک ہوجائے گی۔

یو اے ای کے مقامی میڈیا کے مطابق ’سیناگوگ‘ عبادت گاہ کی تعمیر کا کام اگلے برس سے شروع ہو گا اور  یہ منصوبہ دو برسوں میں پایہ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔ اس عبادت گاہ کے قیام کا مقصد مسلمان اکثریتی ملک متحدہ عرب امارات میں مختلف مذاہب کے لیے برداشت اور رواداری کے جذبے کو فروغ دینا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں سرکاری سطح پر اقلیتیوں کے لیے چرچ، مندر اور گردوارا بھی قائم ہے تاہم یہودیوں کی عبادت گاہ موجود نہیں تھی۔ یو اے ای میں یہودی قلیل تعداد میں ہے اور یہ دبئی میں ایک مکان کو بطور عبادت گاہ استعمال کرتے ہیں لیکن یہ نجی سطح پر کیا جاتا ہے۔

یہ خبر پڑھیں: نریندر مودی نے عرب امارات میں پہلے مندر کا سنگ بنیاد رکھ دیا

یہودیوں کے لیے ’سیناگوگ‘ کی تعمیر ابوظہبی میں’ابراہمک فیملی ہاؤس‘ کمپلکس میں کی جائے گی جہاں ابراہیمی مذاہب کی عبادت گاہوں کو ایک چھت کے نیچے تعمیر کیا جائے گا یعنی یہاں سیناگوگ کے علاوہ مسجد اور چرچ بھی ہوگا۔ اس کا اعلان رواں برس فروری میں پاپائے روم کے پہلے دورے کے موقع پر کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہیں ہیں، تاہم متعدد بار اسرائیلی سیاست دان مختلف بین الاقوامی تقاریب میں شرکت کے لیے متحدہ عرب امارات آتے رہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔