زلزلہ کے دوران، ہم نقصان سے کیسے بچ سکتے ہیں؟

زلزلوں کے علاوہ دہشت گردی اور بم دھماکوں کے واقعات میں اضافے کے بعد ابتدائی طبی امداد کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے

زلزلوں کے علاوہ دہشت گردی اور بم دھماکوں کے واقعات میں اضافے کے بعد ابتدائی طبی امداد کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے

24 ستمبر 2019ء کو شام 4 بج کر 2 منٹ پر آنے والے زلزلہ نے زمین کو ہلا کر رکھ دیا۔ سات منزلہ عمارت میں کھلبلی مچ گئی۔ عجیب نفسانفسی کا عالم تھا۔ کوئی لفٹ کی طرف بھاگ رہا ہے تو کوئی سیڑھیوں کی تلاش میں ہے۔

پل بھر میں سارا دفتر گراؤنڈ فلور پر جمع ہو گیا۔ شاہد کی غیر حاضری نے سب کو متفکر کر دیا۔ کچھ دیر باہر گزار کے سب لوگ اپنے اپنے دفتر پہنچے تو شاہد سکون سے اپنے دفتر میں بیٹھا اپنے کام میں مصروف تھا۔ سب نے حیران ہو کر پوچھا:

’’آپ کو زلزلے کا پتہ نہیں چلا؟‘‘

’’ بالکل پتہ چلا۔ بس میں سکون سے اپنی جگہ بیٹھا اللہ کا ذکر کرتا رہا۔‘‘

24 ستمبر 2019ء کو شام 4 بج کر 2 منٹ پر 5.8 ریکٹر سکیل کا زلزلہ آیا جس نے میرپور آزاد کشمیر میں تباہی مچائی۔ 26 لوگ لقمہ اجل بنے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ کئی ابھی تک ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ اگرچہ ریکٹر اسکیل 5.8 تھا مگر گہرائی 10 کلو میٹر ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ تباہی ہوئی۔ اِسی وقت سے لے کر بدستور چھوٹے چھوٹے زلزلے آ رہے ہیں اور ماہرین کے مطابق یہ سب کسی بہت بڑے زلزلے آنے کا پیش خیمہ ہیں۔

زلزلوں کی تاریخ بہت پرانی ہے اور ابتدائے آفرنیش سے لے کر اب تک مختلف درجے کے لاکھوں زلزلے آ چکے ہیں اور ان میں لاکھوں افراد لقمۂ اجل بنے۔ زلزلے کے دوران میں سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ بندہ اپنے اوسان بحال رکھے۔ اس حقیقت کو ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ زلزلہ کے جھٹکے اصل میں زمین کے اندر پیدا ہونے والا طاقت ور ارتعاش ہوتا ہے جو ایک منٹ سے بھی کم عرصہ میں ساکن ہو جاتا ہے۔ زیادہ تر صورتوں میں اس ارتعاش کا دورانیہ 5 سے دس سیکنڈ کا ہوتا ہے۔اس ارتعاش کے دوران آدمی سکون کے ساتھ اپنے اوسان بحال رکھ کر نہ صرف خود بچ سکتا ہے بلکہ زلزلہ کے دوران زخمی ہونے والے دوسرے لوگوں کی بھی مدد کر سکتا ہے۔

زلزلے کے دوران اگر کسی پارک، کھلے میدان یا کھلی سڑک پر گاڑی میں ہیں تو بالکل گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ اطمینان سے اپنی جگہ بیٹھے رہیں اور جھٹکے ختم ہونے کا انتظار کریں۔ اگر آپ کسی کمرے میں ہیں اور کمرے سے نکلنے کا وقت نہیں تو فوری طور پر کسی میز، کرسی، چارپائی کے نیچے چلے جائیں اور جتنی جلد ہو کمرہ سے نکلنے کا انتظام کریں۔ ہر بڑے زلزلے کے بعد زلزلے کے چھوٹے چھوٹے جھٹکے آتے رہتے ہیں جنھیں آفٹر شاکس کا نام دیا جاتا ہے۔ اس لیے بڑے زلزلے کے فوراً بعد تمام احتیاطی تدابیر کو ملحوظِ خاطر رکھنا چاہیے، اور فوری طور پر ایمرجنسی اقدامات کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لینا چاہیے۔

24 ستمبر 2013ء کو آواران بلوچستان میں پہلا زلزلہ شام ساڑھے چار بجے آیا۔ لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔ جو باہر نکل نہ سکے وہ ملبے کے ڈھیر میں زندہ دفن ہوگئے۔ رات کے وقت ’’نوک جو‘‘ کے علاقے میں آنے والے زلزلے میں بھی کئی لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور پورا شہر ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ 26 اکتوبر 2015ء کا 8.1 ریکٹر سکیل کا زلزلہ دوپہر کے وقت آیا جبکہ 26 دسمبر 2015ء کا 6.7 ریکٹر سکیل کا زلزلہ رات کے وقت آیا۔ چونکہ ان دونوں زلزلوں کا مرکز گہرائی میں تھا۔ اس لیے زیادہ نقصان نہ ہوا۔ زلزلے کے جھٹکے لگنے شروع ہوں تو فوری طور پر گھر سے باہر نکل جانا چاہیے اور کچھ گھنٹے گھر یا دفتر میں داخل نہ ہوں۔

زلزلے کے دوران اکثر دیکھا گیا ہے کہ زلزلے کے پہلے جھٹکے کے دوران جو لوگ گھروں سے باہر رہے اور بعد میں انھوں نے کچھ دیر انتظار کیا وہ دوسرے جھٹکے کے اثرات سے بچ جاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ زلزلے کے پہلے جھٹکے کے بعد کچھ دیر انتظار کیا جائے اور گھروں سے باہر رہا جائے۔اس دوران  اگر آپ کسی تنگ گلی سے گزر رہے ہوں یا کسی عمارت کے سامنے ہوں تو فوراً وہاں سے نکل کر کھلی جگہ پر آ جائیں۔

زلزلے کے علاوہ زندگی میں ہر قدم، ہر موڑ اور ہر لمحہ حادثات کے امکانات ہوتے ہیں۔ چوں کہ زلزلہ اور دوسرے حادثات کی قبل از وقت پیش گوئی نہیں کی جاسکتی اس لیے اس دوران ابتدائی طبی امداد کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔ گھر میں فرسٹ ایڈ بکس (ابتدائی طبی امداد کا سامان) موجود ہونا سب سے ضروری ہے تاکہ زلزلہ کے دوران زخمی ہونے، جل جانے، ہڈی ٹوٹنے یا بے ہوش ہونے کی صورت میں مریض کو ابتدائی طبی امداد دے کر جلدی سے ہسپتال پہنچایا جا سکے۔زلزلوں کے دوران میں گیس پائپ پھٹنے، چولھے الٹنے یا لیک کرنے سے گھروں یا دفتروں میں آگ لگنے کا احتمال ہوتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ گھروں اور دفتروں میں آگ بجھانے کے آلات نصب کیے جائیں اور گھروں میں گیس لیک ہونے کی نشان دہی ہونے پر فوراً اسے بند کرنے کا بندوبست کیا جائے۔

گھروں اور دفتروں میں مندرجہ ذیل حفاظتی اقدامات کر کے زلزلہ سے ہونے والے نقصانات سے بچا جا سکتا ہے:

-1زلزلہ کے دوران بالکل پُر سکون رہیں اور اگر آپ کسی بڑی عمارت میں ہیں اور اس سے نکلنے کا موقع نہیں مل رہا تو فوری طور پر کسی میز، کرسی، چارپائی کے نیچے یا مضبوط ستون کے ساتھ پناہ لیں۔

-2کثیر المنزلہ عمارتوں میں موجود ہونے کی صورت میں زلزلے کے پہلے جھٹکے کے دوران اپنی جگہ پر پُرسکون رہیں اور افراتفری کے عالم میں سیڑھیوں سے نہ اتریں۔ لفٹ کا استعمال بالکل نہ کریں کیوں کہ زلزلہ کے دوران بجلی منقطع ہونے یا کوئی اور میکینکل خرابی سے لفٹ بند ہو کر مصیبت کا باعث بن سکتی ہے۔

-3ہر گھر اور دفتر میں ابتدائی طبی امداد کا فرسٹ ایڈ بکس ہونا بہت ضروری ہے۔ گھر میں کم از کم ایک فرد اور دفتر میں دو تین افراد کو ابتدائی طبی امداد کے بارے میں تربیت یافتہ ہونا چاہیے۔ آج کل زلزلوں کے علاوہ دہشت گردی اور بم دھماکوں کے واقعات میں اضافے کے بعد ابتدائی طبی امداد کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ زلزلوں اور حادثات کے دوران ابتدائی طبی امداد دے کر بہت سی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

-4ضروری ہے کہ ہر گھر اور دفتر میں آگ بجھانے کے آلات نصب کیے جائیں۔

-5گھر میں ایک دو جگہ پر ایمرجنسی لائٹ، ماچس، ٹارچ وغیرہ رکھنا ضروری ہے تاکہ ایمرجنسی میں ان کا استعمال کیا جا سکے۔

-6گھروں اور دفتروں میں ریفریجریٹر، بڑی الماریاں، سیف وغیرہ اونچی جگہوں پر نہ رکھیں کیوں کہ ان کے گرنے سے نقصان ہو سکتا ہے۔

-7حکومتی سطح پر ضروری ہے کہ سکولوں اور کالجوں کے نصاب میں ’’حادثات سے بچاؤ‘‘ کے متعلق مواد بھی شامل کیا جائے اور طلباء کو اس کی عملی تربیت دی جائے۔ شہروں اور محلوں میں یونین کونسل کی سطح پر ’’حادثات سے بچاؤ‘‘ کے متعلق سیمینار کروائے جائیں اور اس سلسلے میں عوام الناس کی عملی تربیت کا بندوبست کیا جائے۔

-8        8 اکتوبر 2005ء اور اس کے بعد مختلف اوقات میں ملک میں آنے والے زلزلوں کے بعد اس بات کا شدت سے احساس ہو رہا ہے کہ ہمارے ملک میں قومی سطح پر حادثات سے نپٹنے کے خاطر خواہ انتظامات نہیں ہیں اس لیے ضروری ہے کہ قومی سطح پر بالعموم اور فالٹ لائن کے علاقوں آزاد کشمیر، خیبر پختون خوا، کوئٹہ اور زیارت وغیرہ میں بالخصوص تربیت یافتہ افراد اور ایمرجنسی میں کام آنے والے جدید آلات، گاڑیوں، ایمبولینسوں، کرینوں وغیرہ سے لیس ایک خصوصی ٹاسک فورس بنائی جائے۔اس ٹاسک فورس کی تربیت ملکی سطح پر بھی کی جائے اور غیر ملکی ماہرین سے بھی ان کی تربیت کا اہتمام کروایا جائے تاکہ کسی بھی قدرتی آفت کے دوران فوری اقدام کر کے جانی و مالی نقصانات سے بچا جا سکے۔

9۔زلزلوں کے علاوہ ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی اور حادثات کے دوران مختلف جگہوں پر لگنے والی آگ فوری طورپر بجھانے میں ناکامی اور اس کے نتیجے میں ہونے والے قیمتی جانی اور مالی نقصان سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے پاس قدرتی آفات سے نمٹنے کا کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں۔ کچھ عرصہ پہلے نوشہرہ میں چھاؤنی کے علاقے میں ایک بیکری میں خود کش دھماکہ ہوا۔ محکمۂ شہری دفاع (سول ڈیفنس) کی آگ بجھانے والی گاڑی آدھا گھنٹہ بعد پہنچی۔ مزید آدھا گھنٹہ پانی کا پائپ ٹھیک کرنے میں لگ گیا اور جب پانی ڈالنے والا پائپ ٹھیک ہوا تو پتہ چلا کہ گاڑی میں پانی ہی نہیں ہے۔ اندر لوگ آگ میں جلتے رہے اور اِس طرح بغیر کسی مدد کے 19 لوگ جاں بحق ہوئے۔

اِس وقت ملک میں ریسکیو1122اچھا کام کر رہی ہے مگر اس کے پاس نہ صرف جدید آلات کی کمی ہے بلکہ فائر فائٹرز کی پوری تربیت بھی نہیں ہوئی۔ اسی وجہ سے ریسکیو1122کے کچھ فائر فائٹرز دوسروں کو بچاتے ہوئے خود جامِ شہادت نوش کر کے ریسکیو 1122کے تمام اہل کاروں کے لیے بالخصوص اور پوری قوم کیلئے بالعموم ایک مثال قائم کر گئے اور یہ پیغام دے گئے کہ آفت زدگان کی مدد کرتے وقت اپنی جان کی بھی پروا نہیں کرنا چاہیے۔ اکتوبر 2005ء کے بعد قومی سطح پر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) ضرور بنائی گئی لیکن اتنے سال گزر جانے کے بعد اور مختلف اوقات میں بڑے بڑے زلزلے اور حادثات کے باوجود NDMA نے کوئی قابلِ ذکر کردار ادا نہیں کیا اس لیے اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ فوری طور پر قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات سے بچنے کے لیے قومی ، صوبائی اور ضلع کی سطح پر فعال ادارے بنائے جائیں ۔

ہر شہرمیں بڑے بڑے پلازوں کا سروے کروا کر مالکان کو پابند کیا جائے کہ وہ اس میں آگ بجھانے کے آلات کے علاوہ ہر منزل پر ہنگامی حالات میں نکلنے کے لیے مناسب بندوبست کریں۔ اس کے علاوہ ہر نئی عمارت یا پلازے کے لیے اس وقت تک این او سی (NOC) نہ جاری کیا جائے جب تک اس میں مختلف حادثات کے دوران ایمرجنسی کی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے خاطرخواہ انتظامات نہ ہوں۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں قدرتی آفات سے نپٹنے کے بارے میں سپیشل کورسز کروائیں جائیں اور اس کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔

-10ہر بڑے حکومتی، پرائیویٹ یا سیمی گورنمنٹ ادارے کو جہاں 50 سے زیادہ لوگ کام کرتے ہوں اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ اپنے ادارے میں جدید آلات سے لیس ایک ایمرجنسی روم قائم کرے اور یہاں تربیت یافتہ افراد ہر وقت موجود ہوں تاکہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری کارروائی کرکے جانی اور مالی نقصان سے بچا جا سکے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔