عدالت میں انوکھا واقعہ، وکیل کے مخالف فریق کے حق میں دلائل پر جج برہم

ویب ڈیسک  جمعرات 26 ستمبر 2019
عدالت نے وکیل سجاد حسین پر 20 ہزار روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے اسی وقت سائل کو ادا کرنے کا حکم دے دیا (فوٹو: فائل)

عدالت نے وکیل سجاد حسین پر 20 ہزار روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے اسی وقت سائل کو ادا کرنے کا حکم دے دیا (فوٹو: فائل)

 اسلام آباد: سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی جب ایک سائل کے وکیل نے مخالف فریق کے حق میں دلائل دینے شروع کردیئے۔

سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی جس میں ایک بہن اور بھائی کے درمیان مقدمہ تھا۔ سماعت کے دوران اپنی نوعیت کا انوکھا واقعہ پیش آیا جس میں سائل کے وکیل سجاد حسین نے مخالف فریق کے حق میں دلائل دینا شروع کردیے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حیران ہوکر استفسار کیا کہ وکیل صاحب ! آپ کس فریق کا کیس لڑ رہے ہیں؟ آپ مقدمے میں بھائی کی طرف سے دلائل دے رہے ہیں یا بہن کی طرف سے؟

وکیل سجاد حسین شاہ نے کہا کہ میں بہن کی طرف سے دلائل دے رہا ہوں، جب کہ سماعت کے دوران بھائی کی جانب سے وکیل کو لقمے دینے کی کوشش کی گئی تو وکیل نے ایک نہ سنی جس پر سائل بھائی نے کہا آپ میری بہن کے نہیں میرے وکیل ہیں۔

جسٹس مشیر عالم نے کہا وکیل صاحب آپ نے بھائی کی جانب سے وکالت نامہ جمع کرایا ہے، آدھے گھنٹے سے سماعت چل رہی ہے اور آپ مخالف فریق بہن کے حق میں دلائل دے رہے ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا آپ کی جانب سے پیش کیے گئے ثبوت اور عدالتی فیصلے کا حوالہ بھی مخالف فریق کے حق میں ہے۔

عدالتی آبزرویشنز کے بعد وکیل سجاد شاہ نے کیس کی فائل سائل بھائی کو تھما دی جس پر جسٹس مشیر عالم نے کہا وکیل صاحب یہ اردو نہیں بول سکتے انگریزی میں لکھی فائل کیسے پڑھیں گے؟

عدالت نے وکیل کو 20 ہزار روپے جرمانہ کرتے ہوئے حکم دیا کہ جرمانہ عدالت کے سامنے سائل کو ادا کریں، جسٹس مشیر عالم نے کہا فیس لیتے ہوئے آپ کو جلدی ہوتی ہے، کیس بھی پڑھا کریں، عدالت نے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔