میں نے عورتوں کے ڈائجسٹ پڑھنا کیوں چھوڑا؟

زنیرہ ضیاء  جمعـء 4 اکتوبر 2019
زندگی ویسی نہیں ہے جیسی ناولوں اور ڈائجسٹوں میں بیان کی جاتی ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

زندگی ویسی نہیں ہے جیسی ناولوں اور ڈائجسٹوں میں بیان کی جاتی ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

کراچی: ’’ہمارا گھرانہ بڑا مذہبی اور تعلیم یافتہ تھا۔ میرے ابا کو کتابیں پڑھنے سے بڑا شغف تھا، جب کہ میری اماں کے پاس بھی گھر کے کام انجام دینے اور 10، 12 بچوں کی پرورش (کیونکہ اس زمانے میں 10، 12 بچے پیدا ہونا بالکل عام بات تھی اور جس کے یہاں 4، 5 ہوتے تھے انہیں پہلے تو بڑی حیرانگی پھر تاسف بھری نظروں سے دیکھا جاتا تھا) کرنے کے بعد اتنا وقت بچ جاتا تھا کہ وہ ادبی رسائل اور کتابیں پڑھنے کےلیے وقت نکال لیا کرتی تھیں۔ 10، 12 بچوں کی پرورش کرنے، سب کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے بعد میرے والدین شام کی چائے پر فرصت سے بیٹھ کر مختلف کتابوں پر تبصرہ کیا کرتے تھے، جس سے ہم بچوں کی معلومات میں بڑا اضافہ ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے بھی بچپن سے کتابیں، ادبی رسائل، ناول اور ڈائجسٹ پڑھنے کا شوق تھا اور اسی شوق نے مجھے رائٹر بنادیا۔‘‘

یہ جملے میں نے اکثر ان خطوط میں دیکھے، جو عورتوں کے ڈائجسٹ میں خواتین لکھاریوں سے یہ سوال پوچھنے پر دیئے جاتے ہیں کہ آپ کو لکھنے کا شوق کیسے ہوا؟ یہ جملے مجھے بچپن میں بہت پُرکشش لگتے تھے، کیونکہ اکثر خواتین لکھاریوں کے برعکس  میرے ابا کو کتابیں پڑھنے کا شوق بالکل نہیں تھا اور نہ ہی اپنی اماں کو میں نے کبھی ناول یا ڈائجسٹ پڑھتے دیکھا۔ بلکہ میری اماں 5 بچوں کی پرورش میں اتنی گھن چکر بنی رہتی تھیں کہ ہمیں کوٹنے میں بھی کوئی عار نہیں سمجھتی تھیں اور بڑی بے رحمی سے دھلائی کرتی تھیں۔

ڈائجسٹوں میں لکھنے والی اکثر خواتین لکھاریوں کے برعکس میرا گھرانہ بالکل بھی مذہبی نہیں تھا، بلکہ میرے ابا کام سے تھکے ہارے گھر آتے تو اماں سے ادبی کتابوں اور رسائل پر تبصرہ کرنے کے بجائے کیبل پر فلمیں دیکھا کرتے تھے۔ اسی مقصد سے تو وہ اتنا مہنگا رنگین  ٹی وی لائے تھے۔ ان کا کہنا تھا اگر آدمی پورا دن کام کرکے تھک جائے تو رات کو سونے سے پہلے ایک اچھی فلم ساری تھکن اتار دیتی ہے۔ لہٰذا ہمارا بچپن تو ابو کے ساتھ فلمیں دیکھتے گزرا، اس لیے ذرا فلمی سے ہیں۔

لیکن لکھاری ہونے کےلیے تو آپ کے گھرانے کا مذہبی ہونا، ماں باپ کا کتابیں پڑھنا اور ان پر تبصرہ کرنا بھی لازمی شرط ہے، پھر مجھے کہاں سے پڑھنے لکھنے کا شوق پیدا ہوا؟ تو جناب یہ بھی بڑی دلچسپ کہانی ہے۔ ہمارے گھرانے کی طرح ہماری نانی کے گھر بھی سب لوگ بڑے شوق سے فلمیں دیکھا کرتے تھے۔ میرے نانا اپنی دکان پر کتابیں فروخت کیا کرتے تھے اور ان کی دکان گھر کے بالکل برابر میں تھی۔ نانا کی دکان میں درسی کتابوں کے علاوہ پرانے ڈائجسٹ، عمروعیار کی کہانیاں، شہزادے اور طلسماتی جادو کی کہانیوں والی کتابیں بھی فروخت ہوا کرتی تھیں۔ بس نانا کی دکان پر بکنے والی ان کتابوں نے مجھے اپنی جانب مائل کیا اور مجھ میں یہیں سے پڑھنے کا شوق پیدا ہوا۔ ایک سچ بات بتاؤں کہ کہانیوں کی یہ کتابیں مجھے مفت میں مل جایا کرتی تھیں۔ کتابوں سے لگاؤ کی ایک وجہ ان کا مفت میں مل جانا بھی تھا۔ اپنے نانا کی دکان تھی، ہم بادشاہ ہوا کرتے تھے، نہ کسی سے پوچھا نہ اجازت لی، بس کہانی اٹھائی اور پڑھنا شروع کردی۔ تو پڑھنے کا شوق یہاں سے پیدا ہوا۔

جب ساری کہانیاں پڑھ چکے تو اب کیا پڑھیں؟ اس وقت نظر گئی پھٹے ہوئے سرورق والے پرانے ڈائجسٹ پر، اور آؤ دیکھا نہ تاؤ اٹھایا اور پڑھنا شروع کردیا۔ پہلی کہانی پڑھی، بڑا مزہ آیا، دوسری بھی پڑھ ڈالی، پھر تیسری تک مجھے عورتوں والے ڈائجسٹ پڑھنے کا چسکا لگ چکا تھا۔

اب تو میں نانی کے گھر نانی کی محبت میں نہیں بلکہ نانا کی دکان  میں بکنے والے مفت کے ڈائجسٹوں کے لالچ میں جاتی تھی۔ میں نے کہا ناں کہ ہمارے گھر میں کسی کو کتابوں سے لگاؤ نہیں تھا، بس اسکول کالج کی حد تک پڑھا پھر ختم۔ تو ادبی ناول، رسالے ڈائجسٹ کہاں سے آتے؟  پیسے بھی نہیں ہوتے تھے کہ خود خرید کر پڑھ لیں، لہٰذا آخری سہارا نانا کی دکان میں مفت ملنے والے پرانے ڈائجسٹ تھے، جن سے اپنے شوق کی تسکین کرتی تھی۔

نوجوانی تک میں نے اپنی دسترس میں موجود عورتوں والے تقریباً تمام ڈائجسٹ پڑھ ڈالے۔ مجھے بڑا مزہ آتا تھا جب کہانیوں میں ایک بھرے پرے گھر کی منظرکشی کی جاتی تھی۔ جس میں چار تایا، ان کی بیویاں، اُن کے ہر سائز کے دو درجن بچے، دو کنوارے چچا، جو اکثر سب سے بڑے والے تایا کے بچوں کے ہم عمر ہوتے تھے، ایک بیوہ پھپھو، جن کا کام گھر میں جاسوسی کرنا، اِدھر کی باتیں اُدھر اور  بھابھیوں کی برائیاں اپنی اماں سے کرکے ان کا دل اپنی بہوؤں کی جانب سے خراب کرنا ہوتا تھا۔  اس کے علاوہ ایک بیوہ چچی بھی اسی گھرانے میں رہتی تھیں، جن کی صرف ایک ہی مظلوم بیٹی ہوتی تھی۔ جس پر اکثر دو ہم عمر کزنز ایک ساتھ دل ہار چکے ہوتے تھے۔

خیر!  یہ تمام لوگ ایک ساتھ ایک گھر میں خوشحال پریوار کی طرح رہتے تھے۔ حد تو یہ ہے کہ گھر کے سربراہ، جن کا نام ’کہیں کے نواب‘ کے نام سے کم نہیں ہوتا تھا، پَڑپوتے پوتیاں دیکھنے کے باوجود زندہ ہوتے تھے اور مرنے سے پہلے ان کی آخری خواہش اپنے پَڑپوتے اور پَڑنواسی کو نکاح کے بندھن میں دیکھنے کی ہوتی تھی اور اکثر نکاح ان دونوں کا طے کیا جاتا تھا جو ایک دوسرے سے شدید نفرت کرتے تھے۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ اس نفرت سے سوائے 90 سال کی عمر کے دادا جی کے، باقی سب لوگ واقف ہوتے تھے اور کسی کو اس رشتے پر اعتراض بھی نہیں ہوتا تھا۔

اف! یہ سب پڑھ کر اور ایک دوسرے سے شدید نفرت کرنے والے کزنز کے درمیان آہستہ آہستہ ہوتا رومانس دیکھ کر میں بالکل الگ ہی دنیا میں کھو جایا کرتی تھی اور پورا ڈائجسٹ ایک ہی نشست میں ختم کردیتی تھی۔

بھئی! پورا ڈائجسٹ پڑھ ڈالا، اب کیا کریں؟ لہٰذا میں نے اپنی جمع پونجی (جسے عرف عام میں ’پاکٹ منی‘ بھی کہا جاتا ہے) کو جمع کرکے دیگر عورتوں کے ناموں والے ڈائجسٹ خرید کر پڑھنا شروع کردیئے۔ مارکیٹ میں عورتوں کے الگ الگ ناموں والے ڈائجسٹ بکثرت دستیاب تھے (اور شاید اب بھی ہیں) جن میں نام کے فرق کے سِوا اندر موجود مواد بالکل ایک جیسا ہوتا تھا۔ لہٰذا میں نے دیگر ڈائجسٹ بھی پڑھنا شروع کیے۔ ان میں بھی اکثر کہانیاں اسی قبیل کی ہوتی تھیں جن کا تذکرہ اوپر کیا جاچکا ہے۔ مجھے یہی سب تو چاہیے تھا۔ بس مارکیٹ میں ملنے والے وہ تمام ڈائجسٹ پڑھنے لگی جو عورتوں کے نام سے شائع ہوتے تھے اور انہیں پڑھنے میں اپنا وقت ضائع کرنے لگی۔ یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا۔ ایک سال ، دو سال، تین سال، کئی سال۔ میرا کالج ختم ہوگیا اور میں یونیورسٹی میں آگئی۔

یہاں ایک بات بتانے میں مجھے کوئی عار نہیں کہ زندگی کی ذمے داریوں کو سمجھنا اور زندگی کو سنجیدگی سے لینا میں نے بہت دیر سے شروع کیا۔ اگر مجھے زندگی کی تلخ سچائیوں کا احساس پہلے ہی ہوجاتا تو میرے کئی سال اور پیسے اس طرح ضائع نہیں ہوتے۔ خیر!  یونیورسٹی میں آنے کے بعد مجھے احساس ہونے لگا کہ زندگی ویسی نہیں ہے جیسی ناولوں اور ڈائجسٹوں میں بیان کی جاتی ہے۔ خونی رشتے اتنے امن اور سکون سے ایک گھر میں ایک ساتھ نہیں رہتے اور نہ ہی ایک دوسرے کی باتیں برداشت کی جاتی ہیں۔

آہستہ آہستہ مجھے احساس ہونے لگا کہ عورتوں کے ان ڈائجسٹوں میں بیان کی جانے والی خواتین کو پھپھو کے روپ میں یا تو پھاپھا کُٹنی دکھایا جاتا ہے، بیوہ چچی کے روپ میں مظلوم، بیچاری اور ہر بات کو چپ چاپ سہنے والی دکھیاری عورت دکھایا جاتا ہے یا پھر اپنے کزن سے شدید نفرت کے باوجود اس کے ساتھ زبردستی نکاح میں بندھنے والی بیچاری ہیروئن کے روپ میں دکھایا جاتا ہے، جسے اس کے ماں باپ اس قابل ہی نہیں کرتے کہ وہ اپنے لیے کوئی فیصلہ کرسکے، یا اپنے بڑوں کو صرف اتنی سی بات کہہ سکے کہ میں  آپ کے پسندیدہ شخص سے شادی نہیں کرنا چاہتی، مہربانی کرکے میرے ساتھ زبردستی نہ کیجئے۔

پڑھی لکھی ہونے کے باوجود ڈائجسٹ اور ناولوں کی ہیروئنوں کو عدم اعتماد کا شکار دکھایا جاتا، جو اپنے بڑوں کے آگے منہ کھولنے کی ہمت نہیں کرسکتی، دل میں جلتے کڑھتے ہوئے بزرگوں کے فیصلے کے آگے سرجھکا دیتی اور کسی کھونٹے سے بندھے بیل کی طرح اپنے کزن سے شادی کرکے ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں سدھار جاتی۔ بھئی اب نکاح ہوگیا، ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں شفٹ بھی ہوگئی، لہٰذا اب کیا کیا جاسکتا ہے،  زبردستی ہی سہی محبت بھی کرنی پڑجاتی ہے اور یہی کہانی کا اختتام ہوتا ہے جہاں زبردستی کی محبت ہونے کے بعد لڑکی اور لڑکا ہنسی خوشی رہنے لگتے ہیں، ختم شد۔

لیکن کہانی یہاں پر ختم نہیں ہوتی۔ میں نے سوچا اور بہت سوچا اور پھر مجھے سمجھ میں آیا ان کہانیوں میں، میں کہاں ہوں؟ میں کہیں فٹ نہیں بیٹھتی۔ میں ایک پڑھی لکھی لڑکی ہوں، اعلیٰ تعلیم حاصل کررہی ہوں، میرے اندر بہت سی صلاحیتیں ہیں، میں زندگی میں کچھ کرنا چاہتی ہوں، ایک پہچان بنانا چاہتی ہوں۔ لیکن ڈائجسٹ میں جس لڑکی کو میرا آئیڈیل بناکر پیش کیا جاتا رہا ہے وہ تو کھونٹے سے بندھی گائے ہے، جس کے منہ میں زبان ہی نہیں۔ نہ اس لڑکی کے اندر خود اعتمادی ہے اور نہ ہی اپنے حق کےلیے آواز اٹھانے کی ہمت۔ یہ لڑکی میری آئیڈیل کیسے ہوسکتی ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ خدا نے مردوں کو باہر کے کام کےلیے اور عورتوں کو گھر کے کام اور گھریلو ذمے داریاں سنبھالنے کےلیے بنایا ہے اور یہی قدرت کا حسن ہے کہ جسے جس کام کے لیے بنایا گیا ہے وہ وہی کام سرانجام دے۔ میں بالکل بھی قدرت کے اس  قانون کے خلاف نہیں، بلکہ مجھے سخت چڑ ہوتی ہے ان عورتوں سے جو نہ تو اپنے بچوں کی پرورش ڈھنگ سے کرتی ہیں اور نہ گھریلو ذمے داریاں ٹھیک طرح نباہتی ہیں۔ اللہ کی بندیو! تمہیں خدا نے اسی کام کےلیے بنایا ہے اور تمام عورتوں کی پہلی ترجیح بھی اپنا گھر، شوہر اور بچے ہونے چاہئیں۔ لیکن اللہ نے اپنے تمام بندوں کو صرف ایک  صلاحیت ہی نہیں دی بلکہ لاتعداد صلاحیتوں سے نوازا ہے، جنہیں ہم کبھی پہچان ہی نہیں پاتے۔

ایک عورت گھریلو ذمے داریاں احسن طریقے سے نباہنے، بچوں کی اعلیٰ تربیت کرنے کے ساتھ اپنے اندر موجود خدا کی دی ہوئی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر ایک پراعتماد اور خودمختار زندگی گزار سکتی ہے۔ خودمختار زندگی گزارنے کا مطلب یہ نہیں کہ خواتین کو نو سے پانچ کی ملازمت کرکے ہی خود کو ثابت کرنا پڑے۔ ایسے ہزاروں کام ہیں جو وہ گھر میں رہ کر انجام دے سکتی ہے۔ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر خواتین کے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ ایک پراعتماد شہری بن کر اپنے بچوں کی بہتر تربیت بھی کرسکتی ہیں۔

لیکن ناولوں اور ڈائجسٹوں میں دکھائی جانے والی عورتیں ان پراعتماد خواتین کے بالکل برعکس تھیں جو میں بننا چاہتی تھی۔ لہٰذا یہ احساس ہونے کے بعد  کہ ان ڈائجسٹوں میں دکھائی جانے والی خواتین کے باعث میری شخصیت نکھرنے کے بجائے الٹا بگڑ رہی ہے، اس کے علاوہ ذہن پر صرف کزنز کی محبت اور کسی لڑکے سے نارمل بات کرتے ہوئے بھی ہاتھوں کی انگلیوں سے دوپٹے کو موڑتی ہوئی اعتماد سے عاری لڑکی چھائی ہوئی ہے؛ میں نے پہلی فرصت میں اپنے گھر میں موجود عورتوں کے ناموں والے تمام ڈائجسٹ ردی والے کو دے دیئے۔

وہ دن ہے اور آج کا دن، میں نے ان ڈائجسٹوں کی طرف پلٹ کر نہیں دیکھا۔ ہاں جب بھی موقع ملتا ہے ان کتابوں کو پڑھنے کو ترجیح دیتی ہوں جس سے میرے علم اور معلومات میں اضافہ ہو۔ کیونکہ یہ ہمارا  فرض ہے کہ اپنے اندر خدا کی دی ہوئی صلاحیتوں کو پہچانیں اور ایک پراعتماد زندگی جیئیں۔

بلاگر کی مزید تحریریں پڑھنے کےلیے یہ ویب سائٹ وزٹ کریں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

زنیرہ ضیاء

زنیرہ ضیاء

بلاگر شوبز تجزیہ نگار ہیں اور ایکسپریس اردو ویب میں بطور ویب ایسوسی ایٹ پروڈیوسر اپنی ذمہ داریاں نباہ رہی ہیں۔ ان سے ای میل ایڈریس [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ انہیں ٹوئٹر ہینڈل @ZunairaGhori پر فالو کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔