گردن و ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کی تبدیلی کی جدید تکنیک متعارف

طفیل احمد  بدھ 2 اکتوبر 2019
مسلسل موبائل وڈیوگیم یا موبائل کے استعمال سے گردن کے مہرے متاثر ہوتے ہیں۔ فوٹو: فائل

مسلسل موبائل وڈیوگیم یا موبائل کے استعمال سے گردن کے مہرے متاثر ہوتے ہیں۔ فوٹو: فائل

کراچی:  اسپائنل کوڈ (Spinal Cord) سرجن ڈاکٹر اطہر منیر الدین صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان میں (اسپائنل کوٖڈ) ریڑھ کی ہڈی اورگردن کے مہروں کی خرابی ہونے کی صورت میں محفوظ مائیکرو اسکوپک سرجری کی مدد سے متاثر ہونے والے مہروں کی تبدیلی و مرمت کی جا سکتی ہے۔

ایک ہی زاویے (اینگل) سے گردن جھکا کر مسلسل موبائل وڈیو گیم یا موبائل کے استعمال سے گردن کے مہرے بھی شدید متاثر ہونے لگتے ہیں، کم عمرکے بچوں میں موبائل سے مسلسل گیم کھلینے سے سر درد اورگردن کے مہرے درد کر جاتے ہیں تاہم شعبہ طب کی مسلسل تحقیق کے نتیجے میں متاثرہ مہروں کو نکال کر مرمت کی جانے والی تیکنیک متعارف کرا دی گئی۔

اسپائنل سرجری کیلیے جدید تیکنیک کے ذریعے متاثر ہونے والے گردن اور ریڑھ کی ہڈیوں کے مہروںکا محفوظ طریقہ علاج شروع کر دیا گیا ہے، مائیکرو اسکوپک پروسیجرکر کے متاثر ہونے والے مہروں کی مرمت کر کے دوبارہ لگایا جا سکتا ہے، اس دوران گردن اور ریڑھ کی ہڈیوں کے درمیان نکلنے والی باریک باریک نسوںکو باقاعدہ مانیٹر بھی کیا جاتا ہے، محفوظ طریقے (مائیکرو اسکوپک سرجری) سے اسپائنل سرجری تیکنیک پاکستان میں شروع کر دی گئی ہے۔

سروائیکل اسپین(گردن کے مہروں )کے درمیان گیپ ہونے یا کسی بھی وجہ سے مہروں میں تکلیف ہونے کی وجہ سے کندھوں اور ہاتھوں میں شدید درد محسوس ہوتا ہے جس کی وجہ سے آہستہ آہستہ ہاتھوںکی گریپ بھی کمزور پڑ جاتی ہے، سروائیکل (گردن کے مہروں) کی اس تکلیف میں درد کی شدت میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے۔

اسی صورت میں گردن کے مہروں سے نکلنے والی باریک نسوںکو جدید تیکنیک کی مدد سے کھولا جاتا ہے جس کی مریض کی زندگی (کوالٹی آف لائف) پُرسکون ہو جاتی ہے۔

ڈاکٹر اطہر منیر الدین صدیقی نے ایکسپریس کو بتایا کہ عمر کے لحاظ سے ریڑھ کی ہڈیوں اورگردن کے مہروں میں تبدیلی آ جاتی ہے، انھوں نے کہا کہ اسپائنل کوڈ قدرت کی انجینئرنگ کا بہترین شاہکار ہے، ریڑھ کی ہڈی (اسپائنل کوڈ) انسانی جسم کو بیلینس (توازن) برقرار رکھتی ہے، ریڑھ کی ہڈی میں غیر متوازی ہونے اور درد کی صورت میں اسپائنل سرجن سے معائنہ کرانا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ نیورو سرجن صرف دماغ کی سرجری کرتا ہے کیونکہ اسپائنل کوڈ براہ راست دماغ سے جڑی ہوتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ دماغ کی سرجری کے دوران اسپائنل سرجن بھی موجود رہے، انھوں نے کہا کہ ریڑھ کی ہڈی (اسپائنل کوڈ) میں ڈسک بھی جڑی ہوتی ہے، ڈسک میں خرابی کی صورت میں ایک مخصوص کیمیکل (میٹریل) سے تیارکی جاتی ہے جو جدید تیکنیک کی مدد سے تبدیل بھی کیا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میڈیکل سائنس نے حیرت انگیز طور پر ترقی کی ہے۔ انسانی جسم کے متاثر ہونے والے ٹشوزکو جدید تیکنیک کی مدد سے دوبارہ فعال کیا جا سکتا ہے، اسپائنل کوڈ کے مسائل عمر کے کسی بھی حصے میں لاحق ہو سکتے ہیں تاہم بڑھاپے میں یہ مرض تکلیف دہ ہوتا ہے، ریڑھ کی ہڈی کا کسی بھی وجہ سے ٹیڑا ہونا ، درد کا ہونے کی صورت میں اسپائنل کوڈ سرجن سے رجوع کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اسپائنل کوڈ سرجن کی تعداد صرف 5 ہے جو ناکافی ہیں، دریں اثنا ڈاکٹر اطہر منیر الدین صدیقی نے بتایا کہ ہڈیوں میں بھرا بھرا پن (اوسٹو پروسس ) ایک ایسی بیماری ہے جس میں بڑھاپے کے ساتھ ساتھ جسم کی دیگر ہڈیاں اور بالخصوص ریڑھ کی ہڈی کے مہروں میں شدید تکلیف اورکمزور ہونے لگتی ہیں ان ہڈیوں میں چھوٹے چھوٹے سوراخ ہونے لگتے ہیں اور ان کی ساخت بھی متاثر ہونے لگتی ہے، اس بیماری کی وجہ سے کسی بھی مریض کو پورے جسم میں یا خاص طور پر ریڑھ کی ہڈیوں میں انتہائی شدید درد رہنے لگتا ہے کیونکہ یہ مرض ریڑھ کی ہڈی کو بھی نقصان پہنچاتا ہے، اس بیماری کے علاج کیلیے اب تک صرف یہ طریقہ اپنایا جاتا ہے کہ ماہراسپائنل کوڈ سرجن کمرکی سرجری کرتے وقت ریڑھ کی ہڈی کے ٹوٹ پھوٹ کے شکار مختلف مہروں میں ایک سرنج کے ذریعے مخصوص کیمیکلز بھر دیتے ہیں۔

یوں ریڑھ کی ہڈی کی متاثرہ مہرے دوبارہ مستحکم ہو جاتے ہیں اور مریض کا انتہائی شدید کمر درد بھی کم ہو جاتا ہے، حال میں میں امریکا میں طبی ماہرین کی تازہ ترین تحقیق کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ڈاکٹروں کو کمر کے نچلے حصے کے درد میں مبتلا مرض کی تشخیص کیلیے ایکسرے، سی ٹی اسکین، ایم آر آئی کے ذریعے معلوم کیا جا سکتا ہے، دنیا بھر میں خواتین میں آسٹوپروسس کا مرض بہت عام ہو چکا ہے۔

خواتین 40 برس کے بعد ہڈیوں کے بھر بھرے پن کا بھی شکار ہو جاتی ہیں، جس میں وجہ غیر مناسب خوراک، مرغن غذا، کام سے دورر، ورزش کی کمی، پھل اور سبزیوں کے استعما ل میں کمی شامل ہیں، سروائیکل اسپانڈویلوسس کو عقبی مہرہ کی بیماری بھی کہا جاتا ہے۔

بڑھتی عمرکے ساتھ جڑی ہوئی یہ ایک عام بیماری ہے جوگردن کے جوڑوں اور ڈسک کو متاثر کرتی ہے، یہ گردن میں پائے جانے والے عقبی مہرہ کی نرم اور سخت ہڈیوں کے مسلسل استعمال کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، اس کے علاوہ کبھی کبھی سر کا درد بھی ہو سکتا ہے اور عام طور پر سرکے پچھلے حصے میں گردن کے بالکل اوپر سے شروع ہوتا ہے اور اوپرکی طرف بڑھتے ہوئے پیشانی تک پہنچتا ہے۔

بدقسمتی سے ہماری گردن میں موجود نرم اور سخت حفاظتی ہڈیاں مسلسل استعمال کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ جاتی ہیں جس کے نتیجے میں سروائیکل اسپانڈیلوسس واقع ہوتا ہے، اس صورت حال کی ممکنہ وجوہ شامل ہیں جس میں ہڈیوں کی گھرنی، ریڑھ کی ڈسک میں خشکی، ڈسکوں کا باہرکی طرف نکلنا، چوٹ لگنا، جوڑوںکی سختی شامل ہیں، دوسری وجوہ میںکام سے متعلق سرگرمیاں جو بھاری چیزوں کے اٹھانے وغیرہ سے آپ کی گردن پر اضافی بوجھ پیدا کرتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔