سمندر سے پلاسٹک کا کچرا صاف کرنے کا پہلا تجربہ کامیاب

ویب ڈیسک  ہفتہ 5 اکتوبر 2019
دی اوشن کلین اپ کے تحت ایک بڑے نظام نے سمندر میں تیرتے ہوئے پلاسٹک کے کوڑے کو جمع کرنا شروع کردیا ہے (فوٹو: نیوسائنٹسٹ)

دی اوشن کلین اپ کے تحت ایک بڑے نظام نے سمندر میں تیرتے ہوئے پلاسٹک کے کوڑے کو جمع کرنا شروع کردیا ہے (فوٹو: نیوسائنٹسٹ)

 لندن: سمندری سطح پر تیرتا ہوا پلاسٹک جمع کرنے کا کام بہت مشکل ہوتا ہے، اس کے لیے گزشتہ برس ہالینڈ کی ایک کمپنی نے سمندر پر تیرتے ہوئے چھلے کے ذریعے پلاسٹک جمع کرنے کا اعلان کیا تھا جو پہلے ناکام ہوگیا تھا لیکن اس بار کچھ تبدیلیوں کے بعد یہ تجربہ کامیاب رہا ہے۔

اس مںصوبے کو دی اوشن کلین اپ کا نام دیا گیا تھا جس کے تحت پانی پر تیرتے ہوئے ایک وسیع حلقے کو دھیرے دھیرے قریب لاکر اس میں عین جھاڑی کی طرح پلاسٹک کا کچرا جمع کرنا تھا لیکن بعض تکنیکی مسائل کی وجہ سے اس میں زیادہ کامیابی نہیں مل سکی۔

اب اس پروگرام کے سربراہ بویان سلیٹ نے کہا ہے کہ اسے بحرالکاہل میں تیرتے ہوئے کوڑے کے ایک بڑے ذخیرے پر آزمایا گیا ہے اور اس میں ایک نیا سسٹم شامل کیا گیا ہے۔ اس تبدیلی کے بعد دی اوشن کلین اپ کا پروگرام کامیابی سے ہم کنار ہوا ہے۔

اب یہ پلاسٹک جمع کرنے میں کامیاب ہے جو سمندر کی قدرتی قوتوں کے تحت کوڑا کرکٹ جمع کرتا ہے۔ اسے پہلے تین برس تک نارتھ سی میں آزمایا گیا تھا جس پر بعض ماہرین نے شک کا اظہار کیا تھا لیکن اب پلاسٹک جمع کرنے کے عملی مظاہرے کے بعد اس ایجاد کی افادیت ثابت ہوگئی ہے۔

اس میں پلاسٹک کا بڑا پائپ سمندر میں تیرتا رہتا ہے اور پلاسٹک کے کچرا سمندری امواج کے تحت دھیرے دھیرے ایک مقام پر آکر جمع ہوتا رہتا ہے لیکن پائپ نما رکاوٹ اپنی مستقل رفتار باقی نہ رکھ سکی اور ایک وقت ایسا بھی آیا یہ پورا نظام سمندری قوت کے تحت ٹوٹ گیا۔

اس کے بعد ڈیزائننگ میں بعض تبدیلیاں لائی گئیں اور انڈر واٹر پیرا شوٹ لگایا گیا جو اس کی رفتار کو برقرار رکھتا ہے۔ ساتھ ہی اس کی اونچائی میں بھی اضافہ کیا گیا ہے تاکہ کچرا لہر کے زور سے اوپر سے نہ گزرسکے تاہم اس سے وابستہ افراد نے اب تک نہیں بتایا کہ کتنا پلاسٹک جمع کیا گیا ہے لیکن ان کا اصرار ہے کہ ان کی ایجاد سمندر کے بڑے حصے سے پلاسٹک جمع کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔