رابرٹ ڈی نیرو پر جنسی ہراسانی کے الزام میں ­12 ملین ڈالر کا مقدمہ

ویب ڈیسک  ہفتہ 5 اکتوبر 2019
رابرٹ ڈی نیرو نے کئی سال تک جنسی امتیازی سلوک اور ہراسانی کا نشانہ بنایا، گراہم چیز رابنسن فوٹو:فائل

رابرٹ ڈی نیرو نے کئی سال تک جنسی امتیازی سلوک اور ہراسانی کا نشانہ بنایا، گراہم چیز رابنسن فوٹو:فائل

لاس ویگاس: ہالی ووڈ کے آسکر ایوارڈ یافتہ اداکار رابرٹ ڈی نیرو پر ان کی سابق معاون گراہم چیز رابنسن نے جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے 12 ملین ڈالر ہرجانے کا عدالتی دعویٰ دائر کردیا۔

گراہم چیز رابنسن نے الزام لگایا کہ رابرٹ ڈی نیرو نے کئی سال تک انہیں جنسی امتیازی سلوک اور ہراسانی کا نشانہ بنایا۔ مقدمے میں کہا گیا کہ 76 سالہ اداکار رابرٹ نے فون پر اس کے ساتھ غیر مہذب الفاظ استعمال کیے اور شراب نوشی کے بعد ڈرایا دھمکایا۔ چیز رابنسن نے کہا کہ رابرٹ دوسری خواتین کو بھی غیر منصفانہ اور امتیازی سلوک کا نشانہ بناچکے ہیں۔

دوسری طرف رابرٹ نے اس مقدمے پر کوئی موقف نہیں دیا ہے تاہم ان کے وکیل نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ چیز رابنسن نے 2018  میں رابرٹ ڈی نیرو کی معاون کی حیثیت سے کام شروع کیا اور بعد میں ترقی کرتے ہوئے پروڈکشن کمپنی میں ان کے نائب کے عہدے تک پہنچیں۔

دوسری طرف رابرٹ ڈی نیرو کی کمپنی نے چیز رابنسن پر بھی 6 ملین ڈالر چوری کا الزام عائد کردیا ہے۔ رابنسن نے چوری کا الزام مسترد کرتے ہوئے کہا کہ رابرٹ نے ان کے خلاف جھوٹے الزامات عائد کیے ہیں جن کا مقصد ان کا کیریئر تباہ کرنا اور جنسی ہراسانی پر قانونی چارہ جوئی سے روکنا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔