حوا کی بیٹی کا درد

ڈاکٹر میشال نذیر  پير 7 اکتوبر 2019
حوا کی بیٹی ہی اس معاشرے میں ہر بار قربانی کا بکرا کیوں بنتی ہے؟ (فوٹو: انٹرنیٹ)

حوا کی بیٹی ہی اس معاشرے میں ہر بار قربانی کا بکرا کیوں بنتی ہے؟ (فوٹو: انٹرنیٹ)

پچھلے دنوں ایک قتل کی واردات کا واقعہ نظروں سے گزرا، جو شاید آپ لوگوں کی نظروں سے بھی گزرا ہو۔ یہ واقعہ پنجاب میں منڈی بہاؤالدین کے شہری علاقے میں پیش آیا۔ سگی ماں نے اپنی نوجوان بیٹی کو (جو بارہویں کلاس کی طالبہ تھی) گلا دبا کر موت کی وادی میں دھکیل دیا۔

واقعہ یہ ہوا کہ اس گھر میں ایک موبائل تھا، جو کہ سب استعمال کرتے تھے، اور پاکستان کی آدھی آبادی کے گھروں میں یہی حال ہے، ایک انار اور سو بیمار۔ میاں بیوی بالکل پڑھے لکھے نہیں تھے، لیکن اپنے بچوں کو پڑھا رہے تھے۔ بیٹی بارہویں میں تھی، اور باقی تین چھوٹے بیٹے تھے، جو اسکول جاتے تھے۔ موبائل کو لے کر اس گھر میں روز جھگڑے ہوتے تھے۔ ماں کا بیان یہ ہے کہ میری بیٹی ہر وقت موبائل میں لگی رہتی تھی۔ پوچھتی تو کہتی کہ بہن، بھائی (کزن) کو ٹیکسٹ کررہی ہوں، کبھی کہتی گانے سن رہی ہوں۔ ماں کو شک تھا کہ کوئی لڑکے کا چکر ہے۔ باپ کو اس سب کا پتہ نہیں تھا، یہ کچھڑی ماں اور بچوں میں پک رہی تھی۔ لڑکی نے گیارہویں کلاس کے پیپر دیے تھے، تو تھوڑا فری تھی، گھر میں تھی تو موبائل اس کے پاس زیادہ تھا۔

جس دن ماں نے اسے قتل کیا، وہ معمول کی صبح تھی۔ ماں بیٹی نے ساتھ میں ناشتہ کیا۔ تھوری دیر میں بھائی نے بہن سے موبائل مانگا، دوستوں کو دکھانا ہے باہر جاکر، اپنی واہ واہ کروانی ہے۔ بہن نے کہا کہ وہ نہیں دے گی۔ اسی بات میں دونوں میں تکرار شروع ہوگئی۔ بہن نے کہا کہ مرجاؤ تم۔ لڑائی میں بچے ایسا ہی بولتے ہیں ایک دوسرے کو۔ ماں کو ایک تو موبائل کو لے کو بیٹی پر پہلے ہی شک تھا، اور اب غصہ اس بات پر اور شدید آیا کہ میرے بیٹے کو ایسے کیوں بولا کہ وہ مرجائے۔

لڑائی ختم ہوگئی، لیکن ماں کے اندر کا شیطان جاگ چکا تھا۔ ماں بیٹی گھر میں اکیلی تھیں۔ بچی سونے کےلیے لیٹی اور تھوڑی دیر میں ماں نے اس بچی کا گلا دبا کر جان سے ہی مار دیا۔ بقول اس کے ایک گھنٹے تک وہ بچی کا گلا دباتی رہی۔ ظاہر ہے وہ بچی نوجوان تھی، اس نے ہاتھ پاؤں مارے ہوں گے، لیکن سفاک ماں کو رحم نہیں آیا۔ یہ سب بتاتے ہوئے اس عورت کے چہرے پر تھوڑی سی بھی ندامت نہیں تھی۔ جب پولیس کی تحقیق ہوئی تو پتہ چلا اس بچی کا کوئی چکر نہیں تھا، یہ اس عورت کا اپنا پالا ہو ا وہم تھا۔ جب اس سے پوچھا کہ اس بچی کا ایسا کچھ بھی نہیں ہے، یہ تمہارا وہم تھا، تو رونے لگی مجھے معاف کردو، میرے تین بچے اور بھی تو ہیں۔ سفاکیت دیکھیے، اس عورت کو بچی کو مارنے کا افسوس نہیں ہے، خود کو پھانسی نہ لگے، اس لیے اسے اب معاف کردیا جائے۔

پولیس نے اپنی مدعیت میں اس عورت کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے، تاکہ سزا ملے، نہ کہ معافی۔ امید کرسکتے ہیں کہ اس عورت کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی، جو کہ ریاست مدینہ میں بڑا مشکل ہے۔ جس کا جب دل چاہتا ہے، کبھی شک، تو کبھی غیرت کے نام پر ماں، بہن، بیٹی، بیوی کو قتل کرد یا جاتا ہے۔ آخر کب تک؟ ایسے لوگ بڑے آرام سے بچ جاتے ہیں، معافی کے نام پر۔

اوپر کی کہانی میں وہ بچی بے قصور تھی، مگر بیمار ذہنیت کی عورت نے اس کی زندگی ہی چھین لی۔ اب اس کی زندگی تو واپس نہیں آسکتی، مگر انصاف ضرور دلایا جاسکتا ہے، جس کی صرف امید ہی کی جاسکتی ہے۔ اگر قصور بھی ہے کسی کا، تب بھی آپ کو کسی کی جان لینے کا حق قطعی نہیں ہے۔

پہلی بات کہ موبائل غلط چیز نہیں ہے۔ اس کا استعمال اسے اچھا یا برا بناتا ہے۔ بچوں پر نظر رکھیے۔ یہ آپ کا والدین کی حیثیت سے فرض بھی ہے، حق بھی ہے، اور بچوں کے فائدے کےلیے بھی یہ بہت ضروری ہے۔ مگر خدارا نظر رکھنے میں اور شک کرنے میں فرق تو سیکھیے۔ یہی وہ جنریشن گیپ ہے، جس کے چلتے ایسے واقعات تسلسل سے ہورہے ہیں۔ ماں باپ پڑھے لکھے نہیں ہوتے، ان کو نہیں پتہ ان کا بچہ موبائل پر کیا کررہا ہے۔ والدین ٹی وی پر دیکھ کر اور سنی سنائی کہانیوں سے یہ اخذ کرلیتے ہیں کہ بچہ موبائل استعمال کررہا ہے، تو اس کا مطلب ’’چکر‘‘ ہے۔ اگر ایسا آپ کو لگ رہا ہے، تو بچے سے صاف طور پر پوچھ لیجئے، اس کے دوست بنیے، اس کے ساتھ بیٹھیے کہ موبائل پر کیا ہورہا ہے۔ یہ تھوڑی کہ شک کی بنیاد پر جان سے ہی مار دیا جائے۔

دوسری بات جو اس معاملے میں اہم ہے کہ اس عورت کو اس بات کا زیادہ غصہ تھا کہ میرے بیٹے کو میری بیٹی نے ایسے کیوں بولا کہ وہ مرجائے۔ کوئی اس سے پوچھے کہ تمہارے بیٹوں نے مرنا نہیں ہے کیا؟ آب حیات پلایا ہے کیا، اگر بولنے سے ہی لوگ مرجاتے تو اب تک مودی زندہ نہیں ہوتا۔ بہن بھائیوں میں تو ایسی لڑائیاں ہوتی ہیں، اس میں کسی کو مار دیا جائے، یہ کیسا حل ہوا؟

آخری بات! حوا کی بیٹی ہی اس معاشرے میں ہر بار قربانی کا بکرا کیوں بنتی ہے؟ اس عورت نے بیٹی کو ہی مارنے کا سوچا، بیٹے کو مارنے کا نہیں۔ لڑائی تو دونوں کررہے تھے، مگر بدنصیبی بیٹی کے ہی حصے میں آئی۔ چودہ سو سال پہلے بھی بیٹی ہی کو زندہ درگور کیا جاتا تھا، آج بھی وہی بدنصیب بیٹی ہی ماری جاتی ہے۔ مارنے والے کردار وہی ہیں، بس جگہ اور طریقے بدل گئے ہیں۔

کوئی ہمارے وزیراعظم سے پوچھ لے کہ امت مسلمہ کا درد تو لیے پھرتے ہو، اپنوں کا درد کب سمجھو گے؟ وہ بھی کیا کریں، تقریروں اور دوسروں پر تنقید کرنے سے فرصت ملے، تو وہ بھی قومی مسائل، اور اس میں بھی عورت کے مسائل کے بارے میں سوچیں۔ اس معاشرے کی حوا کی بیٹی کا درد آخر کون سمجھے گا؟ اور ایسا کب تک چلے گا؟

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ڈاکٹر میشال نذیر

ڈاکٹر میشال نذیر

بلاگر حیاتی کیمیا (بایو کیمسٹری) میں پی ایچ ڈی ہیں۔ اسلام اور سائنس کے موضوع سے خصوصی شغف رکھتی ہیں۔ جو کچھ ہمارے ارد گرد ہورہا ہے، اس سے سیکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کی سوچ اور فکر، معاشرے کی وہ تصویر ہے جس میں دھنک کے سارے رنگ ہیں؛ اور جسے دیکھنے کےلیے خوبصورت آنکھ چاہیے، جو ہر رنگ میں چھپی خاموشی، شور، سکون، خوشی، غم، خیال، تصور، غرض کہ ہر معاشرتی احساس کو دیکھ، سن، سمجھ اور برداشت کرسکے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔