سفارتی محاذ پر کامیابیوں کے ساتھ معاشی استحکام بھی ضروری

ارشاد انصاری  بدھ 9 اکتوبر 2019
اس میں کوئی دورائے نہیں کہ پاکستان کو امت مسلمہ میں کلیدی حیثیت حاصل ہے

اس میں کوئی دورائے نہیں کہ پاکستان کو امت مسلمہ میں کلیدی حیثیت حاصل ہے

 اسلام آباد:  پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کی بھرپور نمائندگی پر داخلی و خارجی سطح پر بھرپور پذیرائی ملی ہے۔

جس سے تحریک انصاف کی حکومت کا مورال بہتر اور اعتماد میں اضافہ ہوا ہے، اس میں کوئی دورائے نہیں کہ پاکستان کو امت مسلمہ میں کلیدی حیثیت حاصل ہے اور عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جس انداز سے کشمیر کا مقدمہ لڑا اور امت مسلمہ کی ترجمانی کی اس سے پاکستان کے وقار مزید بلند ہوا ہے لیکن اس پذیرائی کو دوام بخشنے کیلئے ضروری ہے کہ پاکستان اپنی اقتصادی صورتحال بھی بہتر کرے کیونکہ عالمی سطح پر تعلقات جذبات سے زیادہ مفادات کے مرہون منت ہوتے ہیں اور شائد حکومت کو بھی اس بات کا احساس ہو چکا ہے اور ملک کی سیاسی و عسکری قیادت معاشی بحران سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے ایک صفحہ پر دکھائی دے رہی ہے۔

یہ ملکی سیاسی و عسکری قیادت کی بہترین پارٹنر شپ ہی کا نتیجہ ہے کہ کشمیر کا معاملہ ہو یا فیٹف میں پاکستان کا نام بلیک لسٹ میں شامل کرنے کا بھارتی پراپیگنڈا ہو پاکستان نے اس کا نہ صرف ڈٹ کر مقابلہ کیا بلکہ کامیاب سفارتکاری سے بھارت کو مذموم عزائم میں ناکام بھی بنایا اور چین، ترکی اور ملائشیاء کی بھرپورحمایت کے باعث بھارت کو پاکستان کا نام فیٹف کی بلیک لسٹ میں شامل کرنے کے مذموم عزائم میں بھی ناکامی ہونے جا رہی ہے اور اگلے چند روز میں پیرس میں شروع ہونے والے فیٹف اجلاس میں وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر کی سربراہی میں پاکستانی ٹیم شریک ہونے جا رہی ہے لیکن پاکستان کی بھرپور لابنگ کے نتیجے میں پاکستان کے ان دوست ممالک نے پاکستان کی حمایت کی یقین دہانی کروادی ہے۔

دوسری جانب ملک کی سیاسی و عسکری قیادت چین کے دو روزہ انتہائی اہم دورے پر ہے اور ان سطور کی اشاعت تک اس دورے کی تفصیلات بھی سامنے آجائیں گی لیکن اب تک کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں اس میں پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت نے چائنیز حکام سے اہم ملاقاتیں کی ہیں۔

جس میں کشمیر سمیت خطے کی صورتحال اور دوطرفہ دفاعی و تجارتی تعاون پر کھل کر بات چیت ہوئی ہے اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے اس دورہ چین کے دوران بیجنگ میں چینی فوجی قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں اور جنرل باجوہ نے پیپلزلبریشن آرمی کے ہیڈ کوارٹرکا دورہ کیا اورکمانڈر پی ایل اے جنرل ہان ویگو اور سینٹرل ملٹری کمیشن کے وائس چیئرمین جنرل ڑو کلیانگ سے بھی ملاقات کی۔

جس کے دوران مقبوضہ کشمیرکی صورتحال، علاقائی سلامتی اور دوطرفہ دفاعی تعاون پرتبادلہ خیال کیا گیا۔آرمی چیف نے مقبوضہ کشمیرکی صورتحال ٹھیک نہ ہونے کے مضمرات سے چینی فوجی قیادت کو آگاہ کیا جبکہ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ کہ بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کے انسانی حقوق کا احترام کرے اور پاکستان امن کا منتظر ہے لیکن اصولوں یا قومی وقار پرکوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

جس کے جواب میںچینی فوجی قیادت نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی موقف کی حمایت کی اور امن کے مفاد میں پاکستان کے ذمہ دارانہ طرز عمل کی تعریف بھی کی ہے، ساتھ ہی دونوں ممالک کے عسکری رہنماوں نے اتفاق کیا کہ پاک بھارت کشیدگی کے خطے میں امن اور استحکام کے لئے سنگین مضمرات ہوں گے۔ دونوں اطراف نے خلیج کی ترقی پذیر صورتحال اور افغانستان میں امن کے لئے کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا جب کہ دفاعی تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا، اس کے ساتھ ساتھ وزیراعظم عمران خان بھی چین کے دورے پر اہم ملاقاتیں کر رہے ہیں اور چائنیز تاجروں و صنعتکاروں سے اہم ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان اپنے اس دورہ چین کے دوران بھی کرپشن پر بات کئے بغیر نہ رہ سکے، اگرچہ اس وقت ملک کی تمام اہم سیاسی شخصیات پابند سلاسل ہیں اور ابھی تک کسی سے لوٹی گئی کوئی دولت واپس نہیں لی جا سکی ہے اور عمران خان کی جانب سے جسے یہ اہم ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

وہ شہزاد اکبر بھی کچھ عرصے سے مسلسل خاموشی کی چادر اوڑھے کہیں گوشہ نشینی اختیار کئے بیٹھے ہیں، شروع میں تو بہت زور و شور سے پریس کانفرنسز کرتے تھے اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو تو واپس لانے کیلئے ایم او یو پر دستخط کرنے کے بھی دعوے کئے گئے تھے لیکن اب مسلسل خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں یہ تو وقت بتائے گا کہ کیا یہ خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ تھی یا کوئی اور معاملہ تھا لیکن وزیراعظم عمران خان ابھی بھی اس آب و تاب کے ساتھ چوروں و لٹیروں کو نشان عبرت بنانے کا عزم لئے دھاڑ رہے ہیں اور وہ اندرون ملک ہوں یا کسی بھی عالمی فورم پر ہوں وہ کوئی موقع نہیں گنواتے اور اپنے سیاسی مخالفین کو کرپش و لوٹ پر خوب آڑے ہاتھوں لیتے ہیں۔

اگرچہ اس حوالے سے عمران خان پر تنقید بھی ہوتی ہے اور معاشی جمود کی ایک وجہ وزیراعظم کے اس بیانیہ کو بھی قرار دیا جا رہا ہے ۔ بعض حلقوں کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ آرمی چیف سے ہونیوالی بزنس ٹائیکونز کی حالیہ ملاقات میں بھی اس کی شکایات سامنے آئی ہیں۔

جس پر کاروباری طبقے کو حوصلہ بھی دیا گیا ہے اور بعض حلقوں کا تو کہنا ہے کہ اس معاملہ پر سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان اختلافات کی لکیر بھی کھنچ گئی ہے اورشائد جو تحریک انصاف کی سیاسی مشکلات بڑھ رہی ہیں وہ اسی لکیر کے گہرے ہونے کی طرف اشارہ ہے مگر وہیں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اب نیب کو عملی طور پر ختم ہی سمجھا جائے اور پھر اس کے بعد چیئرمین نیب کی طرف سے جس طرح ردعمل دیا گیا اس سے بھی بہت سے سوالات جنم لے رہے ہیں لیکن وزیراعظم کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ کچھ بھی ہو جائے وزیراعظم عمران اپنے کرپشن کے بیانیہ سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں اور خواہ انہیں اس کی کوئی بھی قیمت چکانا پڑے ۔

دوسری طرف کپتان کی ٹیم کے دوسرے اہم کھلاڑی شاہ محمود قریشی کے بارے میں بھی افواہوں کا بازار گرم ہے اور بعض سیاسی حلقوں میں شاہ محمود قریشی کے وزیراعظم بننے کیلئے ملکی بین الاقوامی سطح پر لابنگ کے چرچے ہو رہے ہیں اور کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ بعض مقتدر حلقوں نے شاہ محمود قریشی کی طرف سے وزارت عظمی کے منصب کیلئے بین الاقوامی سطح پر کی جانیوالی لابنگ کا پتہ بھی چلا لیا ہے اب اگر اس میں صداقت ہے تو یہ پی ٹی آئی کیلئے یقینی طور پر ایک اور بڑا دھچکا ہوگا۔

ایسے حالات میں جبکہ پی ٹی آئی حکومت پہلے سے ہی اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے تو اس اہم کھلاڑی کا کردار کھیل کو مزید خراب کر دے گا، جبکہ دوسری طرف بعض حلقوں کا خیال ہے کہ مقتدر قوتیں کپتان کی معاشی میدان میں ناکامیوں سے بھی پریشان دکھائی دے رہی ہیں اور اس میدان میں بھی اب وہ کھل کر کردار ادا کرنا شروع ہوگئے اور حال ہی میں ملک کے بزنس ٹائیکون کی آرمی چیف سے ہونیوالی اہم ترین ملاقات ہے اگرچہ اس ملاقات کے بارے میں بہت سی کہانیاں منظر عام پر آرہی ہیں اور اپوزیشن اس پر بھرپور سیاست کر رہی ہے لیکن اس ملاقات میں ایک چیز متفقہ طورپر سامنے آئی ہے کہ ملک کی عسکری قیادت اقتصادی بحران سے نمٹنے کیلئے سیاسی قیادت کے پیچھے کھڑی ہے جس سے یقینی طور پر کاروباری حلقوں میں ایک اعتماد کا پیغام جاتا ہے۔

اگرچہ معاشی حالات اگلے ڈیڑھ سے دوسال تک بہتر ہوتے دکھائی نہیں دے رہے ہیں لیکن ملک کے پسے ہوئے طبقے کو کچھ ریلیف دے کر دلاسہ ضرور دیا جا سکتا ہے اور اگر ایسا کر لیا جاتا تو آج مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ کے اعلان سے اتنا خوفزدہ نہ ہونا پڑتا کبھی یہ کہا جاتا تھا کہ ایک زرداری سب پر بھاری لیکن مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ کے اعلان سے جس طرح حکومتی ایوانوں پر لرزہ طاری ہے۔

اس سے اب یہ نعرہ بھی بدلتا دکھائی دے رہا ہے کہ مولانا کے آزادی مارچ نے پوری حکومت و حکومتی مشینری اور وزراء کی نیندیں اڑا کر رکھ دی ہیں اور جو ماحول بنتا دکھائی دے رہا ہے وہ کسی طور پر بھی حکومت کیلئے موافق نہیں ہے کیونکہ ابھی مولانا فضل الرحمٰن کا آزادی مارچ شروع نہیں ہوا ہے اس سے پہلے ہی دیگر حلقوں اور طبقوں کی جانب سے حکومت کے خلاف احتجاج و مظاہروں کی موسیقی شروع ہوگئی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔