مسائلستان بن جانے والا افغانستان

سید عاصم محمود  ہفتہ 12 اکتوبر 2019
صدارتی الیکشن کے بعد سرزمین ِافغاناں میں امن ومحبت کے پھول کھل سکیں گے یا بدستور انسانی لہو بہتا رہے گا؟ فوٹو: فائل

صدارتی الیکشن کے بعد سرزمین ِافغاناں میں امن ومحبت کے پھول کھل سکیں گے یا بدستور انسانی لہو بہتا رہے گا؟ فوٹو: فائل

بے کراں تاریک آسمان پر پو پھٹ رہی ہو تو سات سالہ معصوم کامران آنکھیں کھولتا ہے۔

اعصاب پہ تھکن طاری ہے مگر جی کڑا کرکے اٹھتا، ہاتھ منہ دھوتا اور وضو کرتا ہے۔ جلد قریبی مسجد سے اذان کی روح پرور آواز اس کا ولولہ تازہ عطا کرتی  ہے۔ و ہ اپنے والد، عتیق اللہ اور دیگر بھائیوں کے ساتھ مسجد میںنماز پڑھتا اور رب کے حضور سر جھکاتا ہے۔ باپ اور پانچ بھائیوں پر مشتمل خاندان پھر اینٹوں کے بھٹے کی سمت چل پڑتا ہے جو مضافات کابل میں واقع ہے۔ باپ بیٹے وہیں رات کی بچی کچھی روٹی اور سالن سے ناشتا کرکے کام پر جت جائیں گے۔

اب اگلے دس گھنٹے تک انہیں اینٹیں تیار کرنی ہیں۔کامران بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہے۔ عمر ہمجولیوں کے ساتھ کھیلنے اور ماں باپ کے لاڈ اٹھانے کی ہے مگر اس کے نرم و نازک ہاتھ اینٹیں اٹھا اٹھا کر پتھر جیسے سخت ہوچکے۔ کمسن کامران کو افغانستان میں پچھلے چار عشروں سے جاری جنگوں نے اس ناگفتہ و افسوس ناک حال تک پہنچایا ہے کہ وہ اتنی بالی عمر میں بچپن کے سہانے اور یادوں کے رنگ برنگ غباروں سے محظوظ ہونے کے بجائے محنت مشقت کرنے پہ جت گیا۔

دو سال قبل وہ صوبہ بغلان کے ایک گاؤں میں والدین کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزار رہا تھا۔ باپ اور بھائی کھیتی باڑی کر کے اچھی خاصی رقم کما لیتے۔ وہ خود مقامی سکول میں زیر تعلیم تھا۔ایک دن امریکی فوج وہاں آ پہنچی ۔گاؤں کے قریب طالبان نے مستقر بنا رکھا تھا۔ فریقین کے درمیان جنگ ہوئی جس میں بھاری ہتھیار استعمال کیے گئے۔

بموں نے کامران کا گھر تباہ کر دیا۔ بم گرنے سے فصل نے بھی آگ پکڑ لی اور مہینوں کی محنت دیکھتے ہی دیکھتے نذر آتش ہوئی۔جنگ زدہ گاؤں کے تمام مکین فرار ہونے پرمجبور ہو گئے۔ عتیق اللہ بھی بال بچے لیے کابل چلا آیا تاکہ وہاں کوئی روزگار ڈھونڈ سکے۔تلاش بسیار کے بعد اسے اینٹوں کے بھٹے میں ملازمت مل گئی۔

تنخواہ مگر اتنی کم تھی کہ روزمرہ اخراجات پورے نہ ہو پاتے۔ ادھر مہنگائی بڑھ رہی تھی۔ آٹے کا تھیلا کئی سو افغانی میں ملتا۔ دل پر پتھر رکھ کر عتیق اللہ نے دیگر بیٹوں کے ساتھ ننھے کامران کو بھی کام پر لگا دیا۔ سوچتا تھا کہ وہ کم از کم اپنے حصے کی روٹی تو کما ہی لے ۔ جب دو وقت کی روٹی ملنا کٹھن مرحلہ بن جائے، تو کہاں کی تعلیم اور کہاں کا کھیل کود! کامران مجبور ہے کہ باپ کا ہاتھ بٹائے۔ اسے بچپن اور لڑکپن کی وہ بے فکری، سرمستی ،آزادی اور خوشیاں میسر نہ آ سکیں جو دیگر لڑکوں کا مقدر ہوتی ہیں۔

افغانستان میں کامران کی حالت زار نایاب مثال نہیں‘ اس جیسے پانچ تا دس سال کی عمر کے ’’بیس لاکھ‘‘ مزید نوخیز لڑکے لڑکیاں نہ چاہتے ہوئے بھی مختلف کام کرنے پر مجبور ہیںتاکہ اپنے غریب گھرانوں کی آمدن میں اضافہ کر سکیں۔ دراصل چالیس سال کی مسلسل جنگوں نے سرزمین افغاں کی معیشت تباہ کر ڈالی ہے۔چنانچہ افغانستان کے ہر معاشی شعبے میں ملازمتیں بہت کم جنم لیتی ہیں۔ بیشتر افغان مجبور ہیں کہ وہ اِدھر اُدھر چھوٹی موٹی ملازمتیں کرتے رہیں تاکہ جسم اور روح کا رشتہ تو برقراررکھا جا سکے۔ افغانستان میں جاری جنگ کو ہر افغان شہری اپنی مخصوص نظر سے دیکھتا ہے۔کئی افغان طالبان کو اپنا ہیرو اور حریت پسند قرار دیتے ہیںکیونکہ وہ غاصب قوتوں سے نبرد آزما ہیں۔

ان کے نزدیک افغان حکومت امریکا و نیٹوکی کٹھ پتلی ہے۔ دیگر افغان شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ اقتدار کی جنگ ہے جو مختلف جنگی سرداروں (وارلارڈز) نے چھیڑ رکھی ہے۔ ہر گروہ افغانستان میں اپنی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے۔یہ امیر سرداروں کی پیدا کردہ جنگ ہے جس میں غریب ہی مرتے ہیں۔امیر سردار خود تو محلات میں آرام وآسائش سے رہتے اور قیمتی گاڑیوں کے جلوس لیے گھومتے پھرتے ہیں۔ ان کے تنخواہ دار سپاہی میدان جنگ میں کسمپرسی و گمنامی کی حالت میں مارے جاتے ہیں اور انھیں کوئی یاد تک نہیں رکھتا۔

یہ حقیقت ہے کہ نسلی‘ لسانی‘ معاشی‘ مذہبی ‘ نظریاتی اور سیاسی اختلافات کے باعث افغانستان میں مقیم پشتون(آبادی کا 40 فیصد) ‘ تاجک(38فیصد )‘ ہزارہ(9 فیصد)‘ ازبک(9 فیصد)‘ ایمک(4 فیصد) اوردیگر گروہ اب تک افغان قوم کی صورت اختیار نہیں کر سکے۔

یہی وجہ ہے ‘ پچھلے ڈیرھ سو برس سے یہ ملک وقتاً فوقتاً خانہ جنگی کا نشانہ بنا اور معاشی طور پر مستحکم نہیں ہو سکا۔ ان خانہ جنگیوں اور بیرونی قوتوں کے حملوں کی وجہ سے سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان افغان عوام کو اٹھانا پڑا۔ ایک امریکی غیر سرکاری تنظیم ،اے سی ایل ای ڈی(Armed Conflict Location and Event Data Project) دنیا بھر میں ہونے والی جنگوں،لڑائیوں اور فسادات میں ہلاک شدہ انسانوں کا ڈیٹا جمع کرتی ہے۔اس کی تازہ رپورٹ کے مطابق افغانستان جنگ سے متعلق اموات کے سلسلے میں دنیا کا سب سے زیادہ  خطرناک ملک بن چکا۔ حالیہ ماہ اگست میں وہاں دوران جنگ ’’روزانہ 74 مرد،عورتیں اور بچے ‘‘اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔اسی طرح گلوبل پیس انڈکس کی رو سے دنیا میں سب سے زیادہ افغانستان ہی امن سے محروم مملکت ہے۔

افغانستان کے حالیہ دور ابتلا کا آغاز جولائی1973ء میں ہوا جب افغان فوج کے کمانڈر جنرل محمد داؤد خان نے سوتیلے چچا کے بیٹے اور شاہ افغانستان‘ ظاہر شاہ کی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ اسے لیفٹسٹ جماعت‘ پی ڈی پی (پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی) کی حمایت حاصل تھی۔ اب جنرل داؤد نیا افغان حکمران بن گیا۔ اس نے پی ڈی پی کے ارکان کو وزیر بنا دیا۔

مگر یہ پارٹی نظریاتی و نسلی طور پر کئی گروہوں میں تقسیم تھی جن میں ’’پرچم‘‘ اور ’’خلق‘‘ سب سے بڑے گروہ تھے۔ اب اقتدار کے مزے لوٹنے اور مراعات و آسائشیں حاصل کرنے کی تگ و دو میں دونوں گروہ لڑ پڑے۔17 اپریل 1978ء کو پرچمی لیڈر‘ میر اکبر حیدر پُراسرار انداز میں مارا گیا۔ اس کی نماز جنازہ میں کئی ہزار لوگوں نے شرکت کی۔ بعداز نماز جنازہ لوگ کابل کی سڑکوں پر آ گئے اور حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی۔

داؤد خان نے عوامی مظاہرے سے خائف ہو کر پی ڈی پی کے سبھی لیڈر گرفتار کر لیے۔ مگر دس دن بعد پی ڈی پی کے حامی فوجیوں نے صدارتی محل پر قبضہ کیا اور داؤد خان کو اہل خانہ سمیت  ہلاک کر دیا۔اب پی ڈی پی کے رہنما حکمران بن بیٹھے۔جلد ہی خلقی اور پرچمی گروہوں کے مابین اقتدار کی جنگ چھڑ گئی۔ دونوں ایک دوسرے کے لیڈروں کو ہلاک کرنے لگے۔ یہی نہیں‘ مخالف پارٹیوں کے لیڈروں اور کارکنوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ غرض اپریل 1978ء سے دسمبر 1979ء تک افغانستان میں انارکی اور لاقانونیت کا دور دورہ رہا۔ اسی دوران ہزار ہا افغان خانہ جنگی کے باعث اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

17 دسمبر 1979ء کو سویت فوج نے افغانستان پر قبضہ کر لیا۔ تب افغان مجاہدین نے روسیوں کا مقابلہ کیا اور فروری 1989ء میں انہیں واپس جانے پر مجبور کر دیا۔روسیوں کے خلاف جہاد میں سبھی افغان نسلوں کے مجاہدین شریک تھے۔ان کے اتحاد ہی نے سویت یونین جیسی بڑی سپر پاور کو پسپا کر ڈالا۔ روسی فوج کے جاتے ہی مگر مجاہدین کے گروہوں میں اقتدار کی جنگ ہونے لگی۔

طالبان نے اس خانہ جنگی کا خاتمہ کیا لیکن تاجک ‘ ہزارہ اور ازبک ان کی حکومت کے مخالف بن بیٹھے۔ انہوںنے شمالی اتحاد کے نام سے اپنی تنظیم قائم کر لی۔یہ گروہ طالبان پہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ مذہبی  طور پر انتہا پسند اورسیاسی لحاظ سے جارح مزاج و ڈکٹیر ہیں۔غرض افغانستان کے مختلف علاقوں میں طالبان اور شمالی اتحاد ایک دوسرے سے نبرد آزما رہے۔ دسمبر 2001ء میں امریکی و نیٹوافواج نے القاعدہ لیڈروں کا پیچھا کرتے ہوئے افغانستان پر دھاوا بول دیا۔

افغان طالبان تب سے بیرونی حملہ آوروں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ ساتھ ساتھ انہیں افغان سکیورٹی فورسز اور مخالف تنظیموں مثلاً شمالی اتحاد‘ داعش اور جنگی سرداروں سے بھی لڑنا پڑا۔ ان مسلسل لڑائیوں نے مگر افغان عوام کے لیے ترقی و خوشحالی کے دروازے بند کر دیئے۔ ان کی اکثریت زندگی کی بنیادی سہولتوں مثلاً عمدہ خوراک،پینے کا صاف پانی‘ سیوریج‘ سینیٹیشن‘ اسکول ‘ ہسپتال ‘ بجلی‘ سوئی گیس اور پختہ سڑکوں سے بھی محروم ہے۔ وہ مویشی پال کر اور کھیتی باڑی کر کے روز مرہ اخراجات پورے کرنے کی خاطر کچھ رقم کماتے اور کسمپرسی سے زندگی گزار رہے ہیں۔

ان کی بدحالی کابنیادی سبب جنگ ہی ہے۔ممتاز امریکی ادیب،ارنسٹ ہیمنگوے نے ایک جگہ لکھا ہے:’’جنگ چاہے کتنی ہی ضروری ہو،میں اسے جرم قرار دوں گا۔‘‘امریکی جرنیل ،آئزن ہاور ساری زندگی جنگیں لڑتا رہا۔اخیر عمر میں کہنے پر مجبور ہو گیا’’جنگ کوئی مسئلہ حل نہیں کرتی۔‘‘

امریکی اور یورپی حکمران اسامہ بن لادن اور القاعدہ کے دیگر لیڈروں کا خاتمہ کرنے افغانستان آئے۔ انہوںنے اعلان کیا کہ وہ اس مملکت کو جدید ‘ ترقی یافتہ اور خوشحال بنانے کے لیے افغانوں کی ہر ممکن مدد کریں گے۔ انسانی حقوق کے چیمپئن اور جمہوریت کے علم بردار اس طرح  اپنے جنگی حملے کا جواز ڈھونڈنا چاہتے تھے۔ چنانچہ ایک طرف امریکی و نیٹو فوجی افغانستان میں افغانوں کا قتل عام کرتے رہے۔اس جنگ میں دو لاکھ سے زائد افغان ہلاک ہو چکے ۔

دوسری سمت افغان حکومت کو اربوں ڈالر دیئے گئے تاکہ وہ مملکت میں ترقیاتی منصوبے شروع کر سکے۔سوال یہ ہے کہ کیا انصاف پسند اور قانون پسند سمجھنے جانے والے امریکی و یورپی حکمران طبقے نے اپنے اعلان کے مطابق افغانستان کو جدید ‘ ترقی یافتہ اور خوشحال بنا ڈالا؟سرزمین افغاناں میں بچہ بچہ  جانتا ہے کہ امریکی ونیٹو حملے سے افغان عوام غربت  ،مسائل اور آفتوں کی دلدل میں مزید دھنس گئے۔

پروفیسر نیٹا کرافورڈ امریکی بوسٹن یونیورسٹی میں شعبہ سیاسیات کی سربراہ ہیں۔انھوں نے 2011ء میں دیگر ماہرین کے ساتھ مل کر ایک پرجیکٹ’’کوسٹس آف وار‘‘ (Costs of War)شروع کیا۔وہ جاننا چاہتی تھیں امریکی حکومت اپنی جنگوں پر کتنی رقم خرچ کر رہی ہے۔اس پروجیکٹ کی تازہ رپورٹ 18 نومبر 2018ئکو شائع ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت مارچ 2019ء تک دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگوں پہ’’ 5.9ٹرلین ڈالر‘‘ (پانچ ہزار نو سو ارب ڈالر)خرچ کر چکی۔دوسری جنگ عظیم میں امریکا نے 4.1 ٹرلین ڈالر کے اخراجات برداشت کیے تھے۔گویا اکیسویں صدی میں امریکی حکمران طبقے نے بہ لحاظ جنگی اخراجات دوسری جنگ عظیم کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکی تاریخ کیی مہنگی ترین عسکری مہم جوئی بن چکی۔

5.9ٹرلین ڈالر کے اخراجات میں خالص جنگی خرچوں کے علاوہ جنگوں سے وابستہ دیگر خرچ بھی شامل ہیں۔مثال کے طور پر وہ رقومات جو اتحادی ممالک کو دی گئیں،بیرون ممالک عسکری اڈے قائم کرنے کے خرچے،معذور فوجیوں پر اٹھنے والے اخراجات،ٹھیکے داروں پر اٹھنے والا بھاری خرچ ،قرضے اور ان پہ دیا گیا سود وغیرہ۔ظاہر ہے،جنگ کا وسیع تھیٹر سجانا بچوں کا کھیل نہیں ،اس کے لیے بہت اہتمام کرنا پڑتا ہے۔

یہ تھیٹر سجانے پہ کثیر سرمایہ لگتا ہے۔’’کوسٹس آف وار‘‘پروجیکٹ کے محققوں کی رو سے 5.9 ٹرلین ڈالر میں سے تقریباً ’’دو ٹریلین ڈالر‘‘ (دو ہزار ارب ڈالر)افغان جنگ پر خرچ ہوئے۔اس رقم کی وسعت کا اندازہ یوں لگائیے کہ پاکستان پہ چڑھے کل قرضوں کی مالیت ساڑھے تین سو ڈالر ہے۔گویا جنگ عظیم دوم کے بعد افغان جنگ امریکی تاریخ میں دوسری مہنگی ترین جنگ بن چکی۔آج بھی امریکی ہر سال مختلف مدوں میں پچاس ارب ڈالر اس جنگ میں جھونک رہا ہے۔ واضح رہے، افغانستان میں انیس سال کے دوران نیٹو کے تمام اخراجات بھی مدنظر رکھیں جائیں تو افغان جنگ پر اٹھنے والے اخراجات کی مالیت ڈھائی سے تین ٹرلین ڈالر کے مابین پہنچ جاتی ہے۔بنیادی سوال مگر یہ ہے کہ افغانستان پہ کھربوں روپے خرچنے کا فائدہ کیا ہوا؟

امریکی وافغان حکومتوں کے اپنے اعدادوشمار کی رو سے افغانستان کی 60 فیصد آبادی انتہائی غریب ہے۔90 فیصد افغان معمولی ملازمیتیں کر رہے ہیں۔55 فیصد سے زیادہ آبادی کی عمر پانچ سے چودہ برس ہے اور ان بچوں کی اکثریت اسکول جانے کے بجائے کوئی نہ کوئی کام کر رہی ہے تاکہ زندگی کی گاڑی رواں رکھی جا سکے۔حقیقت یہ ہے کہ چند نہیں افغان عوام لاتعداد مسائل سے دوچار ہیں مثلاً:قانون کی حکمرانی نہ ہونے سے جرائم کی بھرمار،اسپتالوں کی کمی سے ہر سو پھیلی بیماریاں،اسکول نہ ہونے سے پھیلی جہالت،بیروگاری،آلودگی،مہنگائی،پانی وخوراک کی کمی،بڑھتی آلودگی وغیرہ۔اکثر علاقوں میں کسان افیون اگاتے ہیں کہ یہ فصل نقد آور ہے۔

غرض کروڑوں افغان نہایت کٹھن اور دشوار زندگی گذار رہے ہیں۔امریکی ویورپی حکومتوں نے افغانستان کو جو کھربوں روپے فراہم کیے،ان کا بیشتر حصہ افغان حکمران طبقہ کھا گیا یا پھر وہ مغربی ٹھیکے دار جنھوں نے افغانستان کا انتظام سنبھال رکھا ہے۔ان کھربوں روپے سے افغان عوام کو کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچا۔وزیراعظم عمران خان نے امریکی ٹی وی چینل،MSNBC کو انٹرویو دیتے ہوئے بجا فرمایا’’ امریکا نے کھربوں روپے افغان جنگ میں جھونک دئیے مگر ملکی انفراسٹرکچر بنانے پہ کوئی توجہ نہ دی۔آج میں گاڑی میں بیٹھا تو وہ چلتے ہوئے ہچکولے کھاتی رہی۔اُدھر چین نے افغانستان میں انفراسٹرکچر کھڑا کر دیا۔‘‘اس کے باوجود امریکی اسٹیبلشمنٹ کوئی سبق سیکھنے پہ آمادہ نہیں۔

28ستمبر2019ء کو افغانستان میں امریکی قبضے کے بعد چوتھے الیکشن ہوئے۔مقابلے میں پندرہ سے زائد امیدوار کھڑے تھے۔اصل مقابلہ اشرف غنی،عبداللہ عبداللہ اور گلبدین حکمت یار کے مابین تھا۔نتائج اکتوبر کے آخری ہفتے جاری ہوں گے۔دوران الیکشن فساد، دھاندلی اور کم ٹرن آؤٹ کی خبریں سامنے آئیں۔

طالبان الیکشن کے خلاف تھے لہٰذا انھوں نے سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنایا۔طالبان کی دہمکی کے سبب کئی اضلاع میں شہریوں نے ووٹ ڈالنے سے گریز کیا۔نئی حکومت آنے کے بعد امید نہیں کہ سرزمین افغاناں میں امن وامان اور معیشت و عوام کی حالت زار ٹھیک ہو جائے۔اس حکومت کو بھی امریکا مصنوعی طور پہ زندہ رکھے گااور وہ اس کے ٹکڑوں پر پلتی رہے گی۔

امریکا کی رخصتی اور خانہ جنگی ختم ہونے پر ہی افغانستان میں امن وخوشحالی کے آثار ہویدا ہوں گے۔مگر امریکی حکمران جغرافیائی و سیاسی تزویراتی لحاظ سے اہم یہ علاقہ چھوڑنے کو تیار نہیں۔لگتا ہے، افغانستان آنے والے برسوں میں بھی بدستور خانہ جنگی،قتل وغارت،غربت ،بیروزگاری، جہالت وغیرہ کی زنجیروں میں جکڑا رہے گا۔خدا جانے ،اشرف المخلوقات کو کب احساس ہو گا کہ جنگ صرف قربانیاں مانگتی ہے… بدلے میں بھی مصائب و آلام ہی دیتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔