مصباح الحق نے ٹی ٹوئنٹی ہیروز کو زیرو بنادیا

کامران سرور  جمعرات 10 اکتوبر 2019
چیف سلیکٹر کی سب سے بڑی غلطی چلے ہوئے کارتوسوں پر بھروسہ کرنا تھا۔ (تصویر: انٹرنیٹ)

چیف سلیکٹر کی سب سے بڑی غلطی چلے ہوئے کارتوسوں پر بھروسہ کرنا تھا۔ (تصویر: انٹرنیٹ)

میرے بھائی تمہارا خدشہ تو بالکل درست ثابت ہوا! کل موبائل پر دوست کا میسج موصول ہوا تو دو ہفتے قبل اس سے کہی ہوئی بات یاد آگئی۔ ’’یار ویسے میں آج بہت خوش ہوں! آخر کار پاکستان کرکٹ بورڈ نے مصباح الحق اور وقار یونس کو کوچنگ کی ذمے داریاں دے کر میرا خواب پورا کردیا، میں ہمیشہ سے یہی کہتا رہا ہوں، قومی ٹیم کی کوچنگ کی ذمے داریاں غیر ملکیوں کے بجائے اپنوں کو دینی چاہئیں اور ایسے میں حال ہی میں کرکٹ سے ریٹائرڈ ہونے والے مصباح جو قومی ٹیسٹ ٹیم اور پاکستان سپر لیگ کے کامیاب ترین کپتان ثابت ہوئے ہیں اور تینوں فارمیٹس کا بھرپور تجربہ رکھتے ہیں، میں سمجھتا ہوں ان میں اب بھی وہ صلاحیت موجود ہے وہ بطور کوچ ایک بار پھر قومی ٹیم کو ٹیسٹ اور ون ڈے میں کامیابوں کی راہ پر کامزن کردیں گے، لیکن مجھے خدشہ ہے وہ ٹی ٹوئنٹی ہیروز کو زیرو نہ بنادیں‘‘۔

پاکستان کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق کا پہلا اسائنمنٹ ان کے لیے ڈراؤنا خواب ثابت ہوا۔ قومی ٹیم ون ڈے سیریز جیتنے میں تو کامیاب رہی لیکن ٹی ٹوئنٹی میں ورلڈ نمبر ون کا اعزاز رکھنے والے شاہین جنہوں نے آسٹریلیا، نیوزی لینڈ سمیت دیگر ٹیموں کے خلاف مسلسل 11 ٹی ٹوئنٹی سیریز اپنے نام کی اور گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے ٹی ٹوئنٹی کی پہلی پوزیشن پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں لیکن انہیں سری لنکا کی ’بی‘ ٹیم کے ہاتھوں ہوم گراؤنڈ پر وائٹ واش کی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستان پر ٹی ٹوئنٹی میں وائٹ واش کا بدترین داغ لگنے کے بعد آن دی فیلڈ مسٹر کول کے نام سے اپنی پہچان بنانے والے قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق پریس کانفرنس کے دوران صحافی کے سوال پر برا مان گئے اور کچھ یوں جواب دیا، ’’مجھے لگتا ہے یہ سب کچھ میری وجہ سے ہوا۔ میں نے رائٹ ہینڈ بلے بازوں کو لیفٹ ہینڈ سے کھیلنے کا کہا اور لیفٹ آرم بولرز کو رائٹ ہینڈ سے بولنگ کرنے کا مشورہ دیا‘‘۔ انہوں نے ساتھ یہ بھی کہا کہ مجھے حیرت ہے ٹی ٹوئنٹی کی نمبر ون ٹیم 15 دن میں کیسے آٹھویں نمبر کی ٹیم سے ہار گئی۔

ہیڈ کوچ صاحب! مجھے تو آپ کے فیصلوں پر حیرت ہے اور آپ کو شاید اس نتیجے کی توقع نہیں تھی لیکن آپ کی ’سلیکٹ کردہ ٹیم‘، ارے معذرت چاہتا ہوں لفظ ’سلیکٹ‘ سے آج کل ہمارے حکمران فوراً چڑ جاتے ہیں، میرا مطلب تھا کہ آپ کی منتخب کردہ ٹیم کو دیکھتے ہوئے مجھے اس بات کا یقین ہوچکا تھا کہ قومی ٹیم اس بار ضرور کوئی کارنامہ انجام دے گی اور ہاں مصباح الحق صاحب آپ کی معلومات میں اضافہ کرتا چلوں کہ یہ ٹی ٹوئنٹی کی رینکنگ میں آٹھویں پوزیشن والی ٹیم تو تب ہوتی جب اس ٹیم میں لیستھ ملنگا، تشارا پریرا، دنشیل چندیمل، انجلیو میتھیوز، کوشال پریرا، نروشان ڈک ویلا، کونارتنے اور ڈی سلوا جیسے اہم کھلاڑی ہوتے۔ میرے خیال میں تو یہ آٹھویں پوزیشن والی سری لنکا کی ’بی‘ ٹیم تھی جس نے ٹی ٹوئنٹی چیمپئنز کو اپنے گھر میں تگنی کا ناچ نچایا اور یوں شاہینوں کو آئی لینڈرز کے ہاتھوں تاریخ کی بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

مصباح الحق کے فیصلوں پر بات کرنے سے پہلے تھوڑی بات سی پی سی بی کی کرلی جائے، جس نے فرمائشی پروگرام کے تحت مصباح الحق کو ون مین شو بنادیا۔ سلیکشن اور ہیڈ کوچ کی ذمے داری دینے تک تو ٹھیک تھا مگر غیر اعلانیہ طور پر بیٹنگ کوچ کا عہدہ بھی مصباح کے پاس ہے۔ ایسے میں ہماری بیٹنگ سے اسی کارکردگی کی امید رکھی جاسکتی ہے جو انہوں نے سری لنکا کی ’بی‘ ٹیم کے سامنے دکھائی اور اس سیریز میں بولنگ میں بھی وقار یونس کی موجودگی کا کوئی فائدہ دکھائی نہیں دیا۔

چیف سلیکٹر کی سب سے بڑی غلطی چلے ہوئے کارتوسوں پر بھروسہ کرنا تھا، جنہوں نے اپنے کیریئر میں تنازعات کے سوا پاکستان کو کچھ نہیں دیا۔ انہیں دوبارہ موقع دینا سمجھ سے بالاتر تھا۔ جی ہاں میں بات کررہا ہوں، احمد شہزاد اور عمراکمل کی۔ اگر مصباح الحق ٹی ٹوئنٹی میں بھی دفاعی پالیسی کے تحت نئے چہروں کو مواقع دینے سے خوفزدہ ہیں تو کم از کم انہیں ٹی ٹوئنٹی میں قومی ٹیم کا وننگ کمبی نیشن نہیں توڑنا چاہیے تھا اور ان دو ’’پٹے ہوئے مہروں‘‘ کے بجائے شعیب ملک اور محمد حفیظ کو ٹیم کا حصہ بنانا چاہیے تھا، جن کا ریکارڈ کم از کم ٹی ٹوئنٹی میں بہت شاندار رہا ہے اور کیریبیئن لیگ کھیلنے میں مصروف شعیب ملک کی اس فارمیٹ میں کارکردگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اور اگر ان سے کوئی مسئلہ ہے تو نئے لڑکوں کو آزمانا چاہیے تھا۔ ٹی ٹوئنٹی کےلیے ٹیم میں شامل ہونے والوں کی لمبی فہرست ہے جو پی ایس ایل میں اپنی کارکردگی کے ذریعے ٹیم میں شمولیت کی اہلیت رکھتے ہیں۔

اب اگر مصباح الحق کو احمد شہزاد اور عمر اکمل کو ایک اور موقع دے کر عوام سے گالیاں سننے کا شوق پورا کرنا ہی تھا تو کم از کم فخرزمان اور بابراعظم کا اوپننگ پیئر تو خراب نہ کرتے اور سونے پہ سہاگہ، ون ڈے میں بہترین کارکردگی دکھانے والے فخرزمان کو پہلے میچ میں ہی ڈراپ کردیا گیا اور آخری میچ میں نصف سنچری اسکور کرنے والے حارث سہیل کو دونوں میچز میں باہر بٹھائے رکھا۔ بہرحال افتخار احمد، عماد وسیم، آصف علی اور بابراعظم کی کارکردگی بھی خاطر خواہ نہیں رہی، البتہ ہر میچ میں صرف بابراعظم پر انحصار کرنا بھی ان سے زیادتی ہوگی۔ پاکستان سپر لیگ میں بطور آل راؤنڈر اپنا لوہا منوانے والے حسین طلعت کو ٹیم میں منتخب نہ کرنا بھی سمجھ سے بالاتر ہے، جو ٹی ٹوئنٹی میں تیسری پوزیشن پر اپنی بیٹنگ کا لوہا منواچکے ہیں۔

اب ذرا بولنگ کے شعبے کی بات کرلی جائے، جہاں شاہین آفریدی، حسن علی کی غیر موجودگی اور شاداب خان کے آؤٹ آف فارم ہونے کی وجہ سے بدترین بولنگ دیکھنے کو ملی۔ میرے خیال سے اب وہاب ریاض سے جان چھڑانے کا وقت آچکا ہے اور آسٹریلیا میں ہی شیڈول ورلڈکپ سے پہلے پاکستان کا اگلا دورہ بھی آسٹریلیا کا ہی ہے، لہذا وقار یونس کو میگا ایونٹ سے پہلے بولنگ کمبی نیشن بنانے کا نادر موقع میسر ہوگا۔ بولنگ اٹیک کےلیے محمد عامر کے ساتھ عثمان شنواری، شاہین شاہ آفریدی، حسن علی اور محمد حسنین کو بھرپور تیار کرنا ہوگا، جب کہ آل راؤنڈرز میں فہیم اشرف، عماد وسیم اور حسین طلعت کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی۔ البتہ بیٹنگ میں بہتری کے لیے پی سی بی کو بیٹنگ کوچ مقرر کرکے مصباح الحق کے کندھوں سے بوجھ کم کرنا ہوگا۔ میرے خیال میں اس عہدے کےلیے یونس خان سے بہتر کوئی اور نہیں ہوسکتا جو ایک بار پھر مصباح کے ساتھ مل کر قومی ٹیم کو بلندیوں پر پہنچا سکتے ہیں، جس طرح وہ بطور بلے باز اپنے ٹیسٹ کیریئر میں ہر میدان میں مصباح کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔

جہاں تک فیلڈنگ کے بات ہے تو اس کے لیے قوم صرف دعا ہی کرسکتی ہے، کیوں کہ یہ مسئلہ کئی برسوں سے حل طلب ہے لیکن پی سی بی نے اس کو کبھی سنیجدہ نہیں لیا۔

بطور کپتان سرفراز احمد کی بیٹنگ پر بھی سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں۔ ناقص کارکردگی کے وجہ سے ان پر مسلسل دباؤ بڑھ رہا ہے اور میدان میں بھی ان کے پاس افتخار احمد اور حارث سہیل کی صورت میں اسپن بولنگ کا آپشن موجود تھا لیکن وہ بھی مصباح الحق کی طرح زیادہ تجربات کرنے سے گھبراتے ہیں۔ ماضی میں بھی انہوں نے شعیب ملک کی موجودگی کا بہت کم فائدہ اٹھایا۔ بہرحال مصباح الحق اور کپتان سرفراز کو اپنی سوچ اور کارکردگی میں تبدیلی لانا ہوگی، وگرنہ میری قوم سے درخواست ہوگی کہ وہ اگلے سال آسٹریلیا میں شیڈول ورلڈکپ میں قومی ٹیم سے زیادہ امیدیں نہ رکھیں۔

آخرمیں صرف اتنا کہنا چاہوں گا، صرف ایک سیریز کے بل بوتے پر مصباح الحق پر انگلیاں اٹھانا شاید مناسب نہ ہو۔ انہیں  اپنی غلطیاں سدھارنے کا بھرپور وقت دیا جانا چاہیے اور مصباح الحق کو بھی دفاعی پالیسی چھوڑ کر جارحانہ پالیسی اپناتے ہوئے اپنے تجربے اور اختیار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شاہینوں کو صرف ٹی ٹوئنٹی میں نہیں ہر فارمیٹ میں چیمپئن بنانا چاہیے۔ خیر ابھی پانی سر سے اوپر نہیں ہوا۔ ٹیم مینجمنٹ کو اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرتے ہوئے بہترین ٹیم کا انتخاب کرنا ہوگا اور مصباح الحق کو وقار یونس کے ساتھ مل کر ایک بہترین وننگز کمبی نیشن تیار کرنا ہوگا جو سرفراز کی کپتانی میں ہی اپنی مسلسل 11 سیریز جیتنے کا ریکارڈ توڑ ڈالے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

کامران سرور

کامران سرور

بلاگر جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات سے ماسٹر کرچکے ہیں اور اِس وقت ایکسپریس نیوز میں بطور سینئر سب ایڈیٹر اپنی ذمہ داری سرانجام دے رہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔