دو روزہ لاہور سائنس میلے کا کامیاب انعقاد

 لاہور: لاہور میں دو روزہ ’لاہور سائنس میلہ‘ بچوں اور بڑوں کے دل میں سائنس کی شمع روشن کرنے کے بعد کامیابی سے ختم ہوگیا۔ اس بار اسکولوں کے بچوں کی غیرمعمولی تعداد نے اپنے بڑوں کے ساتھ میلے میں شرکت کی اور سائنس کے متعلق دلچسپ معلومات حاصل کی۔

اس کامیاب میلے کا انعقاد ایک غیر منافع بخش علمی و فلاحی تنظیم ’خوارزمی سائنس سوسائٹی‘ نے کیا تھا ۔ خوارزمی سائنس سوسائٹی (کے ایس ایس) 1997ء میں قائم کی گئی تھی۔ اس تنظیم کا مرکزی ہدف پاکستان بھر کے تعلیمی اداروں اور عام افراد میں سائنسی علوم اور ان کا شعور پیدا کرنا ہے۔

دوروزہ سائنسی میلہ لاہور کے علی انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن میں ہوا جو اساتذہ کی تربیت کے مرکزی اداروں میں شامل ہے۔ اس کا قیام 1992ء میں عمل میں آیا اور تب سے یہ ملک بھر  کے اسکولوں کو سائنس اور دیگر مضامین کے  باعمل اور تجربہ کار اساتذہ  فراہم کر رہا ہے۔

تاہم اس سائنسی میلے میں پنجاب اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے بھی خصوصی معاونت کی۔ خوارزمی سائنس سوسائٹی  نے اس برس  پنجاب بھر سے  تقریبا 70 نمائش کنندگان کی میزبانی کی جن میں سرکاری اور غیر سرکاری ادارے ، این جی او،  پاکستان ارضیاتی سروے، نیشنل سینٹر فار فزکس اسلام آباد، پاکستان اسکیل ماڈلرز ایسوسی  ایشن ، لاہور  فلکیاتی  سوسائٹی، علامہ اقبال میڈیکل کالج لاہور، فارمین کرسچئن کالج اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور شامل ہیں۔

میلے کا آغاز  صبح  نو بجے ایک پر وقار تقریب میں تلاوت کلام  پاک سے ہوا۔ اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میلے  کے روح رواں خوارزمی سائنس سوسائٹی کے جنرل سیکریٹری اور لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز میں فزکس کے سینئر پروفیسر ڈاکٹر صبیح انور نے کہا کہ چند برس پہلے تک یہ سائنس میلہ ہمارا خواب تھا مگر اب یہ پنجاب  بھر کے ہزاروں بچوں کا خواب بن چکا ہے اور ہم ملک میں تجرباتی و عملی سائنس کی ترویج کے لیے ایسے  میلے منعقد کرواتے رہیں گے۔

تقریب سے ستارہ امتیاز کے حامل زاہد حمید نے بھی خطاب کیا اور خوارزمی سائنس سوسائٹی کی کوششوں کو سراہا ۔اس موقع پر محکمۂ تعلیم پنجاب  کے اعلی ٰ عہدے دار بھی موجود تھے جنھوں نے مختلف اسکولوں کے اسٹالز کا دورہ کیا اور سا ئنسی  ماڈلز کی  کھل کر تعریف کی۔

یونیسکو کی جانب سے سال 2019ء کو کیمیا کے عناصر پر مشتمل دوری جدول کے 150 سال مکمل ہونے سے منسوب کیا گیا  لہذاٰ اس مناسبت سے سائنس میلے کا مرکزی خیال بھی ” عناصر میں ظہورِ ترتیب ” رکھا گیا تھا اور بچوں  نے دوری جدول کے عناصر اور ان کے خواص پر  ماڈل بنائے تھے۔

ان ماڈلز  میں بجلی سے چلنے والی گاڑیاں ، پاور ہاؤس، بایو ڈی گریڈیبل پلاسٹک، الیکٹرانک جگنو، ہیٹ فین وغیرہ قابل ِذکر ہیں  جبکہ صوبہ سندھ سے آئی بی اے سکھر نے اپنے پلاٹنگ ماڈل، اوباڑو سندھ  نے ڈرپ ایریگیشن، نوشہرو فیروز سے گرڈ اور آئی بی اے جیکب آباد  نے اپنے فنگر پرنٹس ماڈلز کے ساتھ  میلے میں خصوصی شرکت کی۔ پاکستان ارضیاتی سروے کے اسٹال پر پتھروں کے نمونے، فوسلز، ممالین فاسلز بون(رکازی ہڈیاں) سب کی توجہ کا مرکز رہے۔

لاہور سائنس میلے میں  ستاروں کے دور حیات، ان کی موت و پیدائش اور بناوٹ  سے متعلق ایک ورکشاپ بھی منعقد کی گئی جس میں آمنہ سلیم  نے بچوں اور بڑوں کو بہت آسان اور سہل انداز میں ان موضوعات کے علاوہ عناصر کے دوری جدول اور عالمی وسائل میں کمی کے متعلق بتایا۔

اس میلے کی سب سے بڑی خصوصیت دنیائے فزکس کی سب سے بڑی لیبارٹری ” سرن  ایس ایس” کا مجازی ٹوور اور لارج ہیڈرون کولائیڈر  سرنگ کی نمائش تھی جس کے لیے جینیوا سے سرن کی ٹیم  ممبران  نے میلے میں خصوصی شرکت کی اور مجازی ٹوور میں سرن میں کام کرنے والے پاکستانی سائنس دانوں  نے عوام و خواص کو  اپنے تجربات سے آگاہ کیا۔

سائنس میلے کے لیے ایک تصویری مقابلے کا انعقاد بھی کیا گیا تھا جس میں تین بہترین تصاویر کو نائکون کی جانب سے انعامات دیئے گئے۔ اس کے ساتھ ہی فلکیات میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے دوربین سے سولر آبزرویشن،  فلکیاتی زاوئے کا پراجیکٹ  پلینیٹیریم اور رات میں دوربین سے  ستاروں و سیاروں کے مشاہدے کا انتظام لاہور فلکیاتی سوسائٹی  نے کیا تھا۔

اس ضمن میں ٹویٹرپر لاہور سائنس میلے کے ہیش ٹیگ بھی چلتے رہے جس میں شرکا اور عوام نے اپنی رائے دی۔  رضا ہاشمی نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ان شااللہ عزو جل، یہ بچے بھی کل کو آئنسٹائن ، گلیلیو ، البیرونی ، حیان ، ڈالٹن، کیوری ، رائٹ برادران ، عبدالسلام جیسے ناموں کی فہرست  میں شامل ہوں گے۔

ڈاکٹر محمد طارق نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ وہ  انہیں سینٹرفار یورپین نیوکلیئر ریسرچ کی پریذینٹیشن دیکھ کر بہت مسرور ہوئے جس میں ہگز بوسون کے متعلق جاننے میں مدد ملی۔ یہاں موجود ایک چھوٹی سی لڑکی نے سائنس کے تمام تصورات کو بہت خوبصورتی سے پیش کیا اور مضمون پر اس کی مہارت قابلِ فخر تھی۔ حقیقت میں وہ اسلام آباد میں اے لیول طالبہ ہے۔