فن ’’مک مکا‘‘ کی غیر مطبوعہ کتاب

سعد اللہ جان برق  بدھ 16 اکتوبر 2019
barq@email.com

[email protected]

کتاب ہذا جس پر ہم اس وقت تبصرہ لانچ کر رہے ہیں، ابھی چھپی نہیں بلکہ لکھی بھی نہیں گئی ہے کیونکہ فی الحال مصنف حضرت ’’مک مکا ناپرسانی‘‘ کے کاندھوں پررکھی ہوئی’’ہانڈی‘‘میں پک رہی ہے۔ لیکن ہم نے زبردست ’’قوت شامہ‘‘ کی برکت سے اس کی ’’بھاپ‘‘ سے اندازہ کر لیا ہے کہ کتاب یقیناً بیسٹ سیلر ثابت ہوگی۔ حضرت ’’مک مکاناپرسانی‘‘ جو فن مک مکا میں مشہورعالم اور رسوائے جہان ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ دنیا میں آج تک جوسب سے بڑی ایجاد ہوئی ہے وہ ’’مک مکا‘‘ کے سوا نہ کوئی اور ہے اور نہ ہو گی۔

انھوں نے فن ’’مک مکا‘‘ کو دنیا کے ہر مسئلے کا حل ہر تالے کی کنجی اور ہر مرض کا تریاق ثابت کیا۔ لغوی اور لفظی لحاظ سے ’’مک مکا‘‘ کا مطلب تو یہ ہے کہ ’’دومکے‘‘ آپس میں بغل گیر ہو جائیں اور ’’من شدم تومن شدی‘‘کی بنیاد پر ایک ہی ’’مکا‘‘ میں تبدیل ہو جائیں اور پھر یہ ’’مکا‘‘ اس یکسر منحوس اور اکثر مقروض کالانعام کے منہ پر رسد کیا جائے جس کا ’’مکُھ‘‘ ہی اس کے لیے بنا ہے، جو  مار کھاتا ہے، پیتا ہے، پہنتا ہے اوڑھتا ہے اور بچھاتا ہے۔ وہاں ہی  رہتا ہے اور اس کا ’’مکھ‘‘ ہمیشہ ’’مکوں‘‘ کے ’’مکھو مکھ‘‘ رہتا ہے۔ لیکن یہ تو صرف ’’مک مکا‘‘ کا ایک ہی مطلب ہے جب کہ ’’مک مکا‘‘ کے اندر اور بھی لاکھوں مفاہیم جمع ہوتے ہیں:

گنجینہ معنی کا طلسم اس کو سمجھیئے

جو لفظ کہ غالبؔ مرے اشعار میں آوے

مکے بازی کو جو مک مکا کا جزو اعظم ہے، انگریزی میں باکسنگ بھی کہا جاتا ہے لیکن فارسی میں اسے جو نام دیا گیا ہے وہ نام تو ہم نہیں لکھ سکتے البتہ اردو میں اس کا ترجمہ ’’مکا ماری‘‘ بنتاہے۔ ’’مک مکا‘‘ کی اصل ابتدا کا تو پتہ نہیں کہ کب ہوئی ،کیسے ہوئی اور کس نے کی اور یہ کہ دنیا کا سب سے پہلا ’’ مک مکا‘‘ کون سا تھا لیکن قیاس کیا جاتا ہے کہ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اس کی مٹھی یعنی ’’مکا‘‘ بھی اس کے ساتھ پیدا ہوا تھا اور ’’مکھ‘‘ یعنی چہرہ بھی۔ جو آہستہ آہستہ کثرت استعمال سے مک مکا کہلایا اور انسان کا سب سے بڑا مشغلہ اور سب سے بڑا امرت دھارا بنا۔ لیکن اس کے باقاعدہ استعمال کا ہمیں پتہ ہے کہ مال مویشی کی منڈیوں سے شروع ہوا تھا لیکن پھر انسان کوبھی بحیثیت مال مویشی اس میں شامل کیا گیا۔

اس سلسلے میں پہلا سراغ ہمیں ایک پشتو کہاوت کی صورت میں ملتا ہے کہ منڈی تو ’’مکوں‘‘ کی جنگ ہے جس نے جس کو پچھاڑ دیا وہی سکندر یا محمدعلی کلے۔ اور جس کسی نے اپنا مکھ بگاڑ لیا وہی دارا اور سونی لسٹن۔ اس کا ایک قرینہ تھا بلکہ اب بھی ہے کہ دو مڈل مین جب آپس میں معاملہ کرتے ہیں تو دونوں اپنی مٹھیاں یعنی ’’مکے‘‘ چادر کے پلو کے نیچے کر کے انگلیوں کے ذریعے ’’مک مکا‘‘ کرتے ہیں، واقف اسرار لوگوں کا کہنا ہے کہ ان دلالوں کی انگلیوں کی اپنی زبان ہوتی ہے جو صرف انگلیاں یا دلال ہی سمجھ اور بول سکتے ہیں۔

باقی کسی یعنی مال کے مالک اور خریدار کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ چادر کے نیچے کیا ہے۔ پلو کے پیچھے کیا ہے جب دونوں دلالوں کی انگلیاں آپس میں مذاکرات کر لیتی ہیں تو ’’مک مکا‘‘ ہو جاتا ہے بلکہ ’’طے‘‘ اور ’’پا‘‘ جاتا ہے، خریدار اور فروخت دار دونوں ہی اپنے ’’مکھ‘‘ بلکہ ٹوٹے ہوئے ’’مکھ‘‘ لے کر۔ خیر سے بدھو گھر کو آئے۔ ہو جاتے ہیں۔ جان بچی صرف تھوبڑا تڑوا کر آئے۔ اسی سے فن ’’مک مکا‘‘ باقاعدہ ایک فن ایک ہنر اور ایک کمال کے طور پر مروج ہو گیا ہے۔

جانور بھی جگالی کرتے رہ جاتے ہیں، ان کے مالکان بھی اپنا سا ’’مکھ‘‘ لے کر رہ جاتے ہیں اور دلالوں کے درمیان ’’مک مکا‘‘ ہو جاتا ہے۔ ’’مک مکا‘‘ چونکہ بہت کام کی، دام کی اور مقام کی چیز تھی، اس لیے اسے سب سے زیادہ مقبول ’’سیاہ ست‘‘ میں ملی۔ ’’سیاہ ست‘‘ ایک خاص قسم کے ’’تریاق‘‘ کا نام ہے جو دنیا کی تمام سیاہ چیزوں اور ضمیروں کا ست نکال کر بنایا جاتاہے۔ ’’سیاہ‘‘ اور ’’ست‘‘ کے معنی تو سب جانتے ہیں۔ سیاہ ست میں ایک پتا بھی ’’مک مکا‘‘ کے بغیر نہیں ہلتا نہ ہی کوئی کاغذ نہ زبان اور نہ جھنڈا۔ سیدھا کرنے اور سلوٹیں نکالنے کے کام آتا ہے۔ جھنڈا کوئی بھی ہو، کسی بھی رنگ یا رنگوں کا ہو اس پر کچھ بھی بنا ہو اور کسی بھی ہاتھ میں ہو۔ وہ پلو ہوتا ہے۔

جس کے نیچے مک مکا ہوتے ہیں، مک مکا پلتے اور چلتے ہیں۔ کوئی بھی جھنڈا جیت جائے تو کپڑا اور اس کے رنگ ہٹا دیے جاتے ہیں اور ڈنڈا باہر نکال لیا جاتا جو پچھلے ڈنڈے یا ڈنڈوں سے ذرا بھی مختلف نہیں ہوتا اور ہو بھی کیسے کہ واسطہ تو ایک ہی قسم کے کالانعاموں سے ہے۔ انھیں چرانا اور ان کا سب کو چرانا۔ اور پھر خود سارا ہرا ہرا چرنا۔جناب ’’مک مکاناپرسانی‘‘نے اپنی اس غیرمطبوعہ اور غیر تحریر شدہ کتاب میں ثابت کیا ہے کہ دنیا کا ایسا کوئی کام نہیں جو مک مکا کا رہین منت نہ ہو۔ اس نے تو اور بھی کئی چیزوںکو اپنا موضوع بحث بنایا ہے لیکن اس باب کو ہم نے مکمل طور پر ایڈیٹ بلکہ کراس کر دیا ہے۔ کتاب لکھنے اور چھاپنے کی ضرورت ہی کیا ہے، ویسے بھی ’’پڑھنے‘‘ کا رواج آج کل رہا نہیں صرف دیکھنا ہی دیکھنا ہے ع

کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ

’’مک مکا‘‘ سے ابھرتے ہوئے ’’مکھ مکھ‘‘ کو ذرا دیکھ

جس طرف بھی نظر ڈالیے تھانیدار کی بیوی نظر آئے گی جو تھانیدار کی جیب سے روپے چراتی ہوئی پکڑی گئی ہے اور وہ اپنے شوہر کی مٹھی سے مٹھی ملا کر مک مکا کر رہی ہے۔

جگ میں آکر ادھر ادھر دیکھا

تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا

ویسے ہم کچھ ’’بڑے‘‘ مک مکوں کے بارے میں بھی جانتے ہیں لیکن ابھی اتنے بڑے نہیں ہوئے کہ بڑے ’’مک مکوں‘‘ کی بات کریں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔