مغرب میں واٹر برتھ پروسس کا تیزی سے مقبول ہوتا رجحان

فرحین شیخ  اتوار 20 اکتوبر 2019
  تکلیف بھی کم اور خرچہ بھی ! پھر ہم اس سے گریزاں کیوں؟

تکلیف بھی کم اور خرچہ بھی ! پھر ہم اس سے گریزاں کیوں؟

زمانۂ حمل کسی بھی عورت کی زندگی کا سب سے خوب صورت وقت ہوتا ہے۔

نو ماہ بعد ایک نئی زندگی عورت کی جان سے طلوع ہوتی ہی ہے، جسے دیکھ کر عورت اس درد اور تکلیف کو یکسر بھلا دیتی ہے جسے اس نے متواتر نو مہینے جھیلا ہوتا ہے۔ فی زمانہ، دورانِِ حمل، عورت کا زیادہ تر وقت اسپتال کے چکروں میں گزر جاتا ہے۔

لاتعداد دوائیں، جن کی اکثر عورت کو ضرورت بھی نہیں ہوتی وہ نسخے کے طور پر تجویز کردی جاتی ہیں۔ کسی قسم کی پیچیدگی کا شکار نہ ہونے کے باوجود عورت نفسیاتی طور پر اس دباؤ میں ڈال دی جاتی ہے کہ اگر یہ دوائیں نہ لیں اور خون اور پیشاب کے مختلف ٹیسٹ باقاعدگی سے نہ کروائے تو بے شمار مسائل جنم لے سکتے ہیں۔

اور یوں اللہ اللہ کر کے زمانۂ حمل جیسا خوب صورت وقت لاتعداد تفکرات، پریشانیوں اور اسپتالوں کے چکروں میں گزر کر اختتام پذیر ہوجاتا ہے اور پھر بچے کی پیدائش کا دن آن پہنچتا ہے ۔ وہ دن جس کا انتظار ہر جوڑے کو بے چینی سے ہوتا ہے۔ اسی خوشی کے حصول کے لیے نو ماہ کی جسمانی اور مالی مشقت کبھی خوشی سے تو کبھی مجبوراً برداشت کرلی جاتی ہے، لیکن یہ ایک دن تو گویا نو مہینوں سے زیادہ بھاری ثابت ہوتا ہے۔

سسرال والے ایک پاؤں پر کھڑے نظر آتے ہیں تو میکے والے بھی دوڑ لگاتے ہیں۔ والدین بننے والا جوڑا اس دن سب سے زیادہ پریشانی میں مبتلا ہوتا ہے۔ مرد کی نظریں اپنے آنگن میں گونجنے والی چہکار سے زیادہ اسپتال کے خرچوں پر مرکوز ہوتی ہیں تو دوسری جانب لیبر روم کے اندر انجیکشن اور ڈرپوں کے سہارے عورت کو ناقابلِ برداشت تکلیف میں مبتلا کرنے کا کام پوری تن دہی سے جاری ہوتا ہے۔

عورت کی جان اور مرد کی جیب دونوں ناقابلِ برداشت بوجھ تلے دبے ہوتے ہیں۔ اس خطرناک صورت حال کو دیکھتے ہوئے اکثر یہ سوال ذہن میں اٹھتا ہے کہ بچے کی پیدائش کا خوب صورت اور قدرتی عمل اس قدر پیچیدہ، تکلیف دہ اور مہنگا کیوں بنادیا گیا ہے ؟ کیا بے شمار ادویات اور بھاری رقوم کے بغیر نارمل ڈلیوری ہونا واقعی ممکن نہیں؟

سائنس کا ذرا سا بھی مطالعہ رکھنے والے افراد اس بات سے بہ خوبی واقف ہوں گے کہ عورت اگر صحت مند بچے کو نارمل طریقے سے جنم دے رہی ہو تو اسے کسی قسم کی ادویات کی ضرورت نہیں ہوتی، لیکن بدقسمتی سے ہمارے اور ہم جیسے پس ماندہ معاشروں میں زمانہ حمل میں اور ڈلیوری کے وقت ادویات کا بے دریغ استعمال گویا لازمی مضمون سمجھ کر کروایا جاتا ہے۔ لیکن یہ جان کر سب کو حیرت ہوگی کہ جدید سائنس کی بدولت اب مغربی معاشرہ عورت کے لیے ڈرگ فری ڈلیوری کی راہ ہموار کر چکا ہے، مگر ہمارے معاشرے میں یہ تصور محض ایک بھیانک خیال سے زیادہ کچھ نہیں۔ حتیٰ کہ ہماری آج کی تعلیم یافتہ عورت کے لیے بھی ڈرگ فری ڈلیوری کے تصور کو ہضم کرنا ناممکن ہے۔

ڈرگ فری ڈلیوری کا اس وقت سب سے تیزی سے مقبول ہوتا طریقہ واٹر برتھ پروسس( Water Birth Process ) ہے۔ پانی کے اندر بچے کی پیدائش شاید ہمارے لیے ایک اچھوتا خیال ہو لیکن یہ درحقیقت فطرت سے بے حد قریب اور عورت کے لیے نسبتاً کم تکلیف دہ طریقہ ہے۔ 1805میں فرانس میں پہلی بار واٹر برتھ پروسس کو متعارف کروایا گیا، جب ایک عورت کو اڑتالیس گھنٹے مستقل درد اٹھانے کے بعد ڈاکٹروں نے اسے گرم پانی کے ٹب میں بیٹھنے کا مشورہ دیا۔

جس کے پندرہ منٹ کے اندر اندر ہی اس نے بنا کسی پیچیدگی کے ایک صحت مند بچے کو جنم دے دیا۔ 1960میں یہ طریقہ روس کے اسپتالوں میں آزمایا گیا اور نہایت کام یاب رہا۔ روس میں واٹر برتھ کو متعارف کروانے والے ڈاکٹر نے اس تجربے کے بارے میں آگاہی دیتے ہوئے کہا کہ ٹھنڈے ماحول کے بجائے گرم پانی میں بچے کی پیدائش کا عمل نہ صرف ماں کو بہت سی تکالیف سے بچاتا ہے بلکہ یہ بچے کے دماغ اور اس کی سیکھنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ اس انکشاف کے باوجود بھی ایک عرصے تک دنیا نے اس طریقے کو خاطر خواہ اہمیت نہ دی۔

1970میں فرانس کی مڈ وائفس اور ڈاکٹروں نے اس طریقے کو مزید رواج دینے کا ارادہ کیا اور جوڑوں کو اس جانب راغب کرنے کے لیے مختلف پروگرامز بھی ترتیب دیے۔ فرانس کے ڈاکٹروں نے بتایا کہ پیدائش کا رائج الوقت طریقہ عورتوں اور نومولود بچوں کے لیے اکثر مختلف قسم کے ٹراما کا باعث بن جاتا ہے اور پیدائش کے وقت پیدا ہونے والی پیچیدگیاں اکثر ساری زندگی ماں اور بچے کا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔ فرانسیسی ڈاکٹروں کی تحقیق کے مطابق رحمِ مادر سے ماں کے بازوؤں تک پہنچنے کا یہ سفر گرم پانی میں طے ہو تو بچے کے لیے نہایت فرحت کا باعث بنتا ہے۔ اس عمل سے پیدا ہونے والے بچے دنیا میں آکر بے حد پُرسکون رہتے ہیںاور خشکی میں پیدا ہونے والے بچوں کی بہ نسبت بہت کم روتے ہیں۔

1980میں امریکا میں واٹر برتھ کے ذریعے پہلی ڈلیوری کروائی گئی، جس میں صرف نوے منٹ کے دردِزہ کے بعد صحت مند بچے نے دنیا میں آنکھیں کھولیں۔ 1989میں امریکی چرچ نے ایک رپورٹ شایع کی جس میں بتایا گیا کہ گذشتہ چار سال میں کیلیفورنیا کے اسپتال میں چار سو تراسی بچوں کی پیدائش واٹر برتھ پروسس کے ذریعے ہوئی اور ان میں سے ہر بچہ صحت مند اور محفوظ ہے۔

مختلف تحقیقی کاوشوں اور آگہی منصوبوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ نوے کی دہائی کے اختتام تک واٹر برتھ پروسس یو کے، یورپ، امریکا اور کینیڈا میں تیزی سے رواج پانے لگا۔ برطانیہ میں 1992اور 1993میں دو رپورٹیں شایع ہوئیں، جن میں واٹر برتھ پروسس کے عمل کی اہمیت کو واضح کیا گیا۔ ساتھ ہی اس بات پر بھی اصرار کیا گیا کہ ڈلیوری کے وقت عورت کو اس بات کی بھی آزادی دی جائے کہ وہ جس پوزیشن میں بھی آرام محسوس کرے، اس میں ہی رہتے ہوئے اپنے بچے کو جنم دے۔ ان رپورٹوں کے بعد برطانیہ کے اسپتالوں میں تیزی سے برتھ پُول قائم کیے جانے لگے۔

رائل کالج آف مڈوائفس نے اس طریقے کی مکمل حمایت جاری رکھی اور عملے کو واٹر برتھ کے لیے تربیت فراہم کرنے کے لیے شعبے قائم کیے گئے۔ نیز وہ جوڑے جو اسپتال کے بجائے گھر میں ڈلیوری کروانا چاہتے تھے، تربیت یافتہ عملہ ان کی مدد اور راہ نمائی کے لیے وہاں ساتھ موجود ہوتا۔

1996میں بیلجیم میں یہ طریقہ انتہائی مقبول ہوا اور وہاں ہر آٹھ ہزار میں سے ڈھائی ہزار بچے اسی طریقے سے دنیا میں آنے لگے، ان میں سے ہر کیس میں مائیں اور بچے کسی بھی قسم کے انفیکشن سے محفوظ تھے۔

نوے کی دہائی وہ دہائی تھی جس میں واٹر برتھ پر بے شمار تحقیقی کام ہوا، لیکن اب بھی پیدائش کے لیے اس عمل کا انتخاب کرنے والے جوڑوں کی تعداد بہت کم رہی۔ حتٰی کہ 2007میں بھی نارمل ڈلیوری کی حاملہ خواتین میں سے صرف تین فی صد عورتوں کا انتخاب واٹر برتھ پروسس ٹھہرا۔ رفتہ رفتہ ذہن بدلنے لگے اور یہ طریقہ قبولیت اختیار کرنے لگا اور2014 میں وہ وقت بھی آیا کہ صرف یو کے میں اس طریقے کا انتخاب کرنے والے جوڑوں کی تعداد تیس فی صد تک جاپہنچی اور اب یہ طریقہ ایشیا کی خواتین میں بھی فطری طریقے سے پیدائش کے عمل سے گزرنے کی آمادگی پیدا کر رہا ہے۔ رواں سال جولائی کے مہینے میں ابوظبی کے برجیل اسپتال میں پیدا ہونے والی ننھی عائشہ یہاں کی پہلی واٹر برتھنگ بے بی قرار پائی ہے۔

اس کیس کی نگراں ڈاکٹر سوسن عبدالرحمان نے گلف نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ طریقۂ پیدائش بے حد آسان اور عین فطری ہے اور اس میں عورت کو درد بڑھانے کی کوئی دوا دینے کی ضرورت ہی نہیں، انہوں نے کہا کہ اس طریقے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ڈلیوری کے فوراً بعد عورت اپنے معمول کے کاموں میں آسانی سے مصروف ہو جاتی ہے۔

اگست کے مہینے میں برازیلین نژاد بولی وڈ اداکارہ اور ماڈل برونا عبداللہ نے ممبئی کے ایک اسپتال میں واٹر برتھ پروسس کے ذریعے بچی کو جنم دیا۔ ”مائی برتھ اسٹوری” کے نام سے انہوں نے انسٹاگرام پر ایک تفصیلی پوسٹ بھی شیئر کی۔ برونا نے لکھا کہ ”میں فطری طریقے سے بچے کو جنم دینا چاہتی تھی، جس میں نہ کوئی دوا ہو اور نہ سرجری۔ اس لیے میں نے واٹر برتھنگ کا انتخاب کیا۔ ڈلیوری کے دوران گرم پانی نے میرے اعصاب کو بہت پرسکون رکھا اور میری تکلیف کو حد سے بڑھنے نہیں دیا۔ پیدائش کے اس طریقے نے مجھے مکمل خوشی فراہم کی۔

منٹوں میں میرا درد غائب ہوگیا اور طبیعت بحال ہوگئی۔ یوں میں نے پہلے ہی لمحے سے بیٹی کے ہونے کی خوشی کو محسوس کیا اور اس کے سارے کام اپنے ہاتھوں سے کیے، یہ سب واٹر برتھ پروسس کی وجہ سے ممکن ہوا۔” بھارت کی ہی ایک اور اداکارہ کالکی کوچلین واٹر برتھنگ کے عمل ذریعے دسمبر میں گوا کے پُرفضا مقام پر اپنے بچے کو جنم دینے کا اعلان کر چکی ہیں۔

برطانوی اور امریکی ماہرین کے نزدیک واٹر برتھ کو رواج دینا اس لیے ضروری ہے کہ یہ نہ صرف ڈلیوری کے وقت کی تکلیف کو گھٹاتا ہے بلکہ بے جا اخراجات سے بھی فرد کو محفوظ رکھتا ہے۔ اس طریقے میں سب سے زیادہ پُرسکون حاملہ عورت ہوتی ہے جسے پیدا کرنے کے وقت، جگہ اور پوزیشن کے بارے میں مکمل اختیار اور آزادی حاصل ہوتی ہے۔

یہ طریقہ ایسے معاشروں میں خصوصی ثمرات کا باعث بن سکتا ہے جہاں بچے کی پیدائش کے فطری عمل کو نہایت پیچیدہ ثابت کر کے لوٹ مار کا بازار گرم کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں اس وقت نارمل ڈلیوری کے اخراجات لاکھوں تک جاپہنچے ہیں۔ یہ وہ تلخ جام ہے جس کے گھونٹ بھلا کس نے نہیں بھریں ہوں گے؟ حمل ٹھہرنے سے لے کر پیدائش تک کا ایک ایک لمحہ صرف جوڑے پر ہی نہیں بلکہ پورے خاندان کے لیے باعث ِتشویش بنا رہتا ہے۔ ولادت کے نام پر کئی کئی دن اسپتالوں میں روکنا، درد بڑھانے کی دوائیں، ڈرپ اور انجیکشن کا استعمال اور پھر ڈلیوری مزید آسان کرنے کے نام پر کٹ مارنے کا عمل عورت کو بعد میں کتنی پیچیدگیوں میں مبتلا کردیتا ہے یہ ہم اپنے آس پاس بکھری کہانیوں میں بہ خوبی دیکھ سکتے ہیں۔

واٹر برتھ پروسس پر ہمارے جیسے معاشروں میں عمل کرنے کی بے حد ضرورت ہے، جہاں نصف سے زائد آبادی معاشی تنگ دستی میں مبتلا ہے۔ اولاد کے حصول کے لیے کوئی مقروض ہوجاتا ہے، تو کوئی اپنی جمع پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ کوئی بھاری اخراجات کے ڈر سے مزید اولاد کی خواہش کو ہمیشہ کی نیند سلادیتا ہے۔ ماں بننے والی عورتوں کے ساتھ الگ ظلم ہوتا ہے۔

درد بڑھانے کی دوائیں دے کر طویل گھنٹوں تک اسپتال کے بستر پر تڑپنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے، یہ عورتیں بچہ پیدا کرنے کی قیامت خیز اذیت سے گزر کر ادھ موئی ہوجاتی ہیں، نارمل بچہ پیدا کر نے کے باوجود بھی کئی کئی دن بستر سے اٹھنے کے قابل نہیں رہتیں۔ بدقسمتی سے صرف اسپتال ہی نہیں بلکہ ناتجربہ کار دائیوں اور مڈوائفس سب نے مل کر پیدائش کے پرسکون اور فطری عمل کو ایک گھن چکر بنا کر رکھ دیا ہے۔

مغربی ممالک میں اس وقت نئی ماں بننے والی عورتوں کی اولین خواہش واٹر برتھنگ بن چکی ہے۔ انڈیا میں بھی اس طریقے کی کافی آمادگی پائی جارہی ہے۔ عام عورتیں ہی نہیں بلکہ سیلیبریٹیز بھی اسی طریقے سے ماں بننے کو ترجیح دے رہی ہیں۔ ان سب کے نزدیک اس طریقے کو اپنانے کی سب سے بڑی وجہ اس کا ڈرگ فری ہونا ہے۔ ڈاکٹر امیت دھرندر ممبئی میں واٹر برتھنگ کے بانی مانے جاتے ہیں۔ وہ گذشتہ پانچ سال سے اس پروسس کی پریکٹس کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پیدائش کے وقت عورت کے لیے آس پاس کے ماحول کو جس قدر آرام دہ بنایا جائے گا عورت اتنے ہی فطری طریقے سے بچے کو جنم دے گی۔ اس کے جسم میں اینڈورفنز اور اوکسیٹوکن جیسے مثبت ہارمونز داخل ہوں گے جو ولادت کے فطری طریقے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ دوسری جانب اگر اطراف کا ماحول عورت کے لیے آرام دہ نہ ہو اور وہ اس سے مطابقت حاصل نہ کر سکے تو اس کے جسم میں اینڈرینالین جیسے منفی ہارمونز داخل ہونے لگتے ہیں جو ولادت کے عمل میں مختلف پیچیدگیوں کا باعث بنتے ہیں۔

واٹر برتھنگ کا عام ہونا بے شک اس وقت کی ایک بڑے ضرورت ہے، لیکن تمام فوائد صرف اسی صورت میں سامنے آئیں گے جب یہ کام ماہرین کی نگرانی میں کیا جائے۔ پانی بہت صاف اور زیادہ مقدار میں ہو اور اس بات کا یقین ہو کہ حمل کسی بھی پیچیدگی کا شکار نہیں اور ڈلیوری بالکل نارمل متوقع ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔