سندھ حکومت کا جانوروں کی پناہ گاہ بنانے کا فیصلہ

وکیل راؤ  اتوار 20 اکتوبر 2019
25 ایکڑ اراضی پر اینمل سینکچوری نجی شعبے کے تعاون 50کروڑ روپے کی لاگت سے قائم کی جائے گی۔ فوٹو: ایکسپریس

25 ایکڑ اراضی پر اینمل سینکچوری نجی شعبے کے تعاون 50کروڑ روپے کی لاگت سے قائم کی جائے گی۔ فوٹو: ایکسپریس

کراچی: حکومت سندھ نے جانوروں کے تحفظ کے لیے کراچی میں اینیمل سینکچوری بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

محکمہ بلدیات نے کراچی میں اپنی نوعیت کی اینیمل سینچری بنانے کا فیصلہ کیاگیا ہے جس کے لیے 25 ایکڑ اراضی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جہاں پالتو اور دیگر جانوروں کو جزوقتی اور کل وقتی بنیاد پر رکھا جاسکے گا۔

سیکریٹری محکمہ بلدیات سندھ روشن علی شیخ نے ایکسپریس کو بتایا کہ سندھ حکومت کی مجوزہ اینیمل سینکچوری میں تمام سہولیات سے آراستہ جانور اسپتال ہوگا جبکہ موبائل اسپتال کی سہولت بھی میسر ہوگی جس میں تمام جانوروں کا علاج کیاجاسکے گا اور بے رحمانہ تشددسے متاثرہ جانوروں کو بھی طبی سہولت دی جائیں گی ،25 ایکڑ اراضی پر مشتمل مجوزہ اینیمل سینچری میں بڑا حصہ جانور ہاسٹل کے لیے مختص ہوگا اگر کوئی شخص اندرون ملک یا بیرون ملک سفر کے سبب اپنے پالتو جانوروں کی دیکھ بھال کرنے سے قاصر ہو تو وہ اپنے پالتو جانوروں کو اینیمل سینکچوری کے ہاسٹل میں رکھواسکے گا اور اس کے لیے معقول فیس ادا کرنی ہوگی۔

اینیمل سینکچوری میں زخمی اور آوارہ جانوروں کو بھی رکھا جائے گا سندھ حکومت نجی شعبے کے اشتراک سے اینیمل سینکچوری قائم کرے گی اور مالی اخراجات بھی نجی شعبے کی مدد سے پورے کیے جائیں گے شیلٹر فار اینمیل اور اسپار نامی غیر سرکاری تنظیموں نے سندھ حکومت کو جانوروں کے تحفظ وطبی سہولیات کی فراہمی کے لیے تکنیکی تعاون کی پیشکش کی ہے۔

عالمی معیار کے مطابق جانوروں کے حقوق وفرائض کے لیے بنائی جارہی اینیمل سینکچوری میں موبائل اینیمل اسپتال بھی ہوگا اور طبی عملے کو پالتو جانوروں کی دیکھ بھال وعلاج سے متعلق خصوصی تربیت فراہم کی جائے گی سندھ حکومت نے جانوروں پر بے رحمانہ تشدد کو روکنے اور جانوروں کے حقوق کو یقینی بنانے کے لیے مروجہ قوانین میں بھی تبدیلی کا فیصلہ کیاہے جانوروں کی لڑائیاں کرانے،ان کوسرکس میں استعمال کرنے اور جانوروں پر تشدد کرنیوالوں کے خلاف سزا وجرمانے بڑھانے کی تجویز ہے۔

جانوروں کے حقوق سے متعلق مسودہ قانون ماہرین کی حتمی سفارشات کے ساتھ جلد صوبائی کابینہ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ جسکی منظوری کے بعد اسے سندھ اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔