صلیبی جنگوں کی طرف

ظہیر اختر بیدری  جمعـء 11 اکتوبر 2013
zaheerakhtar_beedri@yahoo.com

[email protected]

اگر کوئی قوم سپر پاور بننا چاہتی ہے تو اس کا یہ حق ہے لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ کوئی قوم سپر پاور بننا یعنی دنیا پر غالب آنا کیوں چاہتی ہے اور دنیا پر کس طریقے سے غالب آنا چاہتی ہے؟ بیسویں صدی میں روس اور امریکا دو سپر پاور تھے اور ان دونوں ملکوں نے اقتصادی اور فوجی برتری کے ذریعے یہ مقام حاصل کیا۔ روس سے دنیا کے خواہ کتنے ہی نظریاتی اختلاف ہوں لیکن دنیا یہ تسلیم کرتی ہے کہ روس امریکا کی بے لگام سپر پاوری کی ناک میں نکیل کا کام انجام دیتا رہا۔ روس اور امریکا میں زمین اور آسمان کا نظریاتی اختلاف تھا لیکن دونوں ملک اس بات پر متفق تھے کہ دنیا کے تمام مذاہب کا احترام کیا جانا چاہیے، حتیٰ کہ روس پر لادینیت کے الزام کے باوجود روس کی ترقی اور خارجہ پالیسی تمام مذاہب کے احترام پر استوار تھی، خاص طور پر ہر مذہب کی عبادت گاہوں، مذہبی اکابرین اور ہر مذہب کی مقدس کتابوں کے احترام پر روس، امریکا ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کے ممالک متفق تھے اور ہیں۔ اگر کبھی کسی انتہاپسند گروہ یا جماعت کی طرف سے ان بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی تو ساری دنیا اس کے خلاف احتجاج کرتی ہے۔

اس تناظر میں جب ہم مسلم ملکوں کے مذہبی انتہا پسندوں کی منطق پر نظر ڈالتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلم ملکوں خصوصاً افغانستان اور پاکستان کے انتہاپسند اپنی انتہاپسندی میں خود اپنے ملکوں اور اپنے مذہب کو دنیا میں رسوا کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور اس حوالے سے اس قدر آگے بڑھ گئے ہیں کہ خود اپنا نفع نقصان بھلا بیٹھے ہیں۔ آج اس موضوع پر بات کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ پاکستان کے ایک انتہاپسند گروہ کی جانب سے یہ کہا گیا ہے کہ پشاور کے ایک چرچ پر جو خودکش حملہ کیا گیا تھا وہ ’’شریعت کے عین مطابق تھا‘‘۔ اس گروہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہماری تنظیم سے بہت سارے گروہ منسلک ہیں لیکن ان سارے گروہوں کا نظریہ ایک ہے، وہ یہ ہے کہ ہم دوسرے تمام مذاہب پر اسلام کو غالب کرنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لیے ہم نے تمام گروہوں کو مکمل آزادی دی ہوئی ہے۔ اس آزادی کا استعمال دھڑلے سے ہورہا ہے، اس پر ساری دنیا بے چینی کا شکار اور پاکستان کے پچاس ہزار بے گناہ مسلمان اس آزادی کا شکار ہوچکے ہیں۔

مسئلہ صرف مذہبی انتہا پسندی کی مخالفت کا نہیں بلکہ اس کے گہرے مضمرات پر سنجیدگی سے نظر ڈالنے کا ہے کہ یہ انتہاپسندی خود اپنی صفوں، اپنی قوم، اپنے مذہب میں کتنی دراڑیں ڈال رہی ہے اور ساری دنیا میں خود ہماری قوم ہمارے ملک، ہمارے مذہب کی کس قدر رسوائی کا سبب بن رہی ہے؟ مذہبی انتہاپسندوں کے اس موقف کے اعلان کے بعد قومی سطح پر مذہبی قیادت کی طرف سے جو ردعمل آیا ہے وہ نہ صرف منطقی ہے بلکہ مذہبی اقدار کے عین مطابق ہے۔ علمائے کرام کی اکثریت نے کہا ہے کہ اسلامی ریاست اپنی اقلیتوں، ان کے عقائد، ان کی عبادت گاہوں، ان کی جان و مال کے تحفظ کا ذمے دار ہے۔ اسلام میں کسی بے گناہ کا قتل خواہ اس کا کسی مذہب سے تعلق ہو ہرگز جائز نہیں۔ اسلام میں خودکشی حرام ہے، اسلام نے ایک بے گناہ انسان کے قتل کو قتل عالم قرار دیا ہے، اسلام واضح طور پر یہ حکم دیتا ہے کہ ’’دین میں جبر نہیں‘‘۔ ہماری مذہبی جماعتوں میں جماعت اسلامی کو کٹر مذہبی جماعت سمجھا جاتا ہے لیکن اس جماعت کے امیر نے واضح طور پر کہا ہے کہ خودکش حملے خلاف اسلام ہیں، شریعت کو صرف انتخابات کے ذریعے نافذ کیا جاسکتا ہے، اگر طالبان شریعت سے مخلص ہوتے تو اب تک وہ شریعت نافذ کرچکے ہوتے؟ جماعت اسلامی کے امیر نے جمہوری طریقے سے شریعت کے نفاذ کی نہ صرف حمایت کی ہے بلکہ جماعت اور دوسری تمام مذہبی جماعتیں 66 سال سے جمہوریت ہی کے ذریعے شریعت نافذ کرنے کی کوشش کررہی ہیں جو ایک مثبت فکر ہے، لیکن امیر جماعت جب یہ کہتے ہیں کہ طالبان اگر شریعت سے مخلص ہوتے تو اب تک شریعت نافذ کرچکے ہوتے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ طالبان کس طرح شریعت نافذ کرچکے ہوتے؟

انتہاپسندی، عقل شعور اور خود اپنے نفع نقصان سے بے بہرہ ایک ایسی روش ہے جو صرف خود اپنی قوم کو تقسیم کردیتی ہے، بلکہ ساری دنیا کو اپنا مخالف بنادیتی ہے۔ ہمارے خطہ اور عالم اسلام میں رائج انتہاپسندی کا ایک افسوسناک اور خطرناک پہلو یہ ہے کہ وہ نہ صرف فقہی اختلافات کے حوالے سے مخالف فقہ کے ماننے والوں کو واجب القتل سمجھتی ہے بلکہ دوسرے فقہ کے ماننے والوں کو چن چن کر قتل کررہی ہے۔

پاکستان کے علاوہ بعض دوسرے مسلم ملکوں میں فقہی بنیادوں پر مسلمانوں کا قتل عام جاری ہے، خاص طور پر عراق میں روزانہ سیکڑوں مسلمان فقہی نفرتوں کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں اور ایک دوسرے کو جس سفاکی سے قتل کررہے ہیں اس کی مثال 1947کے ہندو مسلم فسادات میں بھی نہیں مل سکتی۔ یہ بات انتہائی دکھ اور افسوس کے ساتھ کہی جارہی ہے کہ بعض مسلم ملکوں کے حکمران فقہی نفرتوں کو گہرا کرنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں اور فقہی انتہاپسندوں کی بڑے پیمانے پر مالی مدد کررہے ہیں اور انھیں بھاری اور جدید اسلحہ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ہزاروں کی تعداد میں مذہبی انتہاپسند جنگجو بھی فراہم کررہے ہیں۔ اس حوالے سے شام کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں جمہوریت کے نام پر فرقہ وارانہ جنگ کے شعلے بھڑکائے جارہے ہیں اور اس نیک کام میں امریکا کے ساتھ ساتھ بعض عرب ملک بھی شامل ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فرقہ وارانہ بنیادوں پر لڑی جانے والی اس جنگ کے مقاصد کیا ہیں؟ مشرق وسطیٰ میں خاندانی حکمرانوں اور سرمایہ دارانہ نظام کی معاشی ناانصافیوں اور کرپشن کی انتہا کے خلاف جو تحریک اٹھی ہے اس کی زد میں کون آرہے ہیں؟ تیونس، لیبیا اور مصر کے بعد باقی عرب ملکوں خصوصاً ان ملکوں میں جہاں اب تک بادشاہتیں یا شیوخ کی حکمرانیاں قائم ہیں اس انقلابی لہر کی زد میں ہیں۔ اسے اتفاق کہیں یا حسن اتفاق کہ مشرق وسطیٰ کی انقلابی لہر کے اہداف میں خاندانی حکمرانیوں کے ساتھ ساتھ معاشی نا انصافیاں بھی شامل ہیں جس کی وجہ سامراجی ملک خصوصاً امریکا بہت خوفزدہ ہے۔ تیونس، لیبیا اور مصر کی غیر منظم اور بے سمت تحریکوں میں ایک نیا عنصر آئی ایم ایف کا شائی لاکی کردار بھی نمایاں ہورہا ہے۔ سوڈان کے بعد مراکش میں آئی ایم ایف کے خلاف لاکھوں عوام سڑکوں پر آرہے ہیں، اس نئی صورت حال سے عرب کے خاندانی حکمران اور امریکا سخت بدحواس ہیں اور فطری طور پر ان کی کوشش یہی ہوسکتی ہے کہ اس انقلابی لہر کا رخ موڑا جائے۔ کیا فقہی قتل و غارت اس سازش کا حصہ نہیں ہوسکتی؟ کیا فقہی اور مذہبی انتہاپسند ان سازشی طاقتوں کے ہاتھوں میں نہیں کھیل رہے ہیں؟ کیا مسلمانوں کو تقسیم کرکے ان کی اجتماعی طاقت کو کمزور کرنا استحصالی طاقتوں کی سازش نہیں ہوسکتی؟

کسی بھی مذہب کے رہنما ہمیشہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو پرامن تبلیغی طریقوں سے اپنے عقائد کی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یہ سلسلہ مدتوں سے جاری ہے لیکن اپنے مذہب کی برتری اور اپنے مذہب کو دوسرے تمام مذاہب پر دہشت گردی کے ساتھ مسلط کرنے کا جو کلچر ہمارے مذہبی انتہاپسند متعارف کرارہے ہیں اور خود بلا امتیاز فقہ، رنگ، نسل، زبان اور قومیت جس طرح بے گناہ مسلمانوں کا خون بہا رہے ہیں کیا اس کا کوئی تعلق مذہب سے ہوسکتاہے؟ اس کا جواب خود ہمارے مذہبی اکابرین دے رہے ہیں کہ کسی بھی مذہب کی عبادت گاہوں کو تباہ کرنا، کسی بھی بے گناہ انسان کو قتل کرنا دوسرے مذاہب پر اپنے مذہب کو جبر و ظلم کے ساتھ مسلط کرنا اور خودکش حملے کرنا اسلام اور شریعت کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ جو علما دہشت گردی کی مذمت کررہے ہیں وہ بھی اپنے ملک میں شرعی نظام قائم کرنے کی 66 سال سے جدوجہد کررہے ہیں لیکن ان کی یہ جدوجہد پرامن اور جمہوری حدود میں جاری ہے۔

گرجائوں، مندروں کو تباہ کرنا اور اپنے دینی بھائیوں کے ساتھ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو قتل کرنا اگر شرعی ضرورت مان لی جائے تو کیا دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو ہم یہ ترغیب نہیں فراہم کررہے ہیں کہ وہ ہماری مسجدوں، ہماری امام بارگاہوں کو تباہ کریں؟ اور اگر ایک بار یہ ہوا چل پڑی تو پھر کیا ساری دنیا ایک بار پھر صلیبی جنگوں کی طرح مذاہب کی جنگوں کی لپیٹ میں نہیں آجائے گی؟ اگر ہر ملک کے عوام مذہبی اور فرقہ وارانہ قتل و غارت میں الجھ جائیںگے تو کیا دنیا کو جہنم بننے سے روکا جاسکے گا اور ایسا ہوا تو اس کی ذمے داری کن گروہوں پر عائد ہوگی؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔