بوجھ بجھکڑ نما

خرم علی راؤ  بدھ 23 اکتوبر 2019

کتنی آسانیاں ہوا کرتی ہیں ، اس ملک میں سیاسی اداکاروں، اداکاراؤں اور ہدایت کاروں کے لیے کہ جب انتخاب یا الیکشن نما ایک مرحلے کے اختتام پر اگر سلیکٹ ہو جاؤ تو آتے ہی خزانہ خالی ہے کا نعرہ مستانہ لگاؤ اور فورا عوام کو طفل تسلیوں اور وعدوں کے لالی پاپ دینا شروع کر دو۔

ایک دو نمائشی قسم کے اقدامات بھی عوامی تسلی کے لیے کر ڈالو ، جیسے دوچار پیسے کی پٹرول کی قیمتوں میں کمی وغیرہ اور پھر آیندہ پانچ سال حکومت کے نام پر حکومت برائے عوامی خدمت کرنے کے سوا باقی سب کچھ کرو۔ جو بھی سمجھ میں ، مزاج یار میں آئے یا جیسے کوئی پیا چاہے ، نت نئی دانش مندانہ نما بوجھ بجھکڑانہ پالیسیاں بنائیں، بچے کچے خزانے کو بے دردی سے لٹائیں اورکشکول اٹھائیں۔

پھرکبھی بیرونی اورکبھی اندرونی اشاروں پرکبھی تو نیشلائزیشن کی پالیسیاں اپنا لیں توکبھی نجکاری کے گھوڑے دوڑانا شروع کر دیں اور اگر قسمت سے اپنا دور حکومت پورا کر جائیں تو بنا سوچے سمجھے اورغوروغوض کیے جو بھی اقدامات کرلیے تھے جو پالیسیاں اگر انھیں پالیسیاں کہا جاسکے، اختیارکی تھیں ، تو ان کے بدترین نتائج بڑی خوبصورتی سے آنے والی حکومت کو بھگتنے کے لیے چھوڑ کرچلتے بنیں اورآیندہ پانچ سال کے لیے اپوزیشن کا کردار سنبھال کر نئی حکومت کو دباؤ میں رکھ کر اپنے کام نکلواتے رہیں۔

عوام کو خوش رکھنے کے لیے گرم گفتاری کی ڈفلی اور جوش وخروش سے بھرے تنقیدی بیانات، مظاہرے، جلسی اور جلوسی اور گرما گرم ٹی وی پروگرام وغیرہ کرتے رہیں اور صبر سے اپنی باری کا انتظارکرتے رہیں اور پھر باری مل جائے تو پھر وہی بلے بلے۔ دہائیوں سے تو ایسا ہی ہوتا آیا ہے اور اب بھی نئی نویلی تبدیلی کا پہلا سال ختم ہونے کے بعد یار لوگوں کو کچھ کچھ ایسی ہی فیلنگزآنا شروع ہوگئی ہیں اور محسوس ہونا شروع ہوگیا ہے اور لگ رہا ہے ہاتھ ہوگیا اور جیسے کہ نئی بوتل میں ساقی نے ایک بار پھر استادی داؤ دکھا کر مے کشوں کو وہی پرانی شراب پلا دی ہے جس کا تیز اورگہرا نشہ اب کچھ کچھ مہنگائی کے لیموں کی ترشی سے اترنا شروع ہوگیا ہے۔

نجکاری کی برکتیں ہوں یا نیشلائزیشن کے فضائل یا دیگر معاشی حکمت عملیاں ، تجوریاں تو بھیا صرف ان ہی کی بھرا کرتی ہیں جو پہلے ہی ہندسوں کے کھیل کے بڑے کھلاڑی کہلایا کرتے اور ہوا کرتے ہیں۔ عوام کے حصے میں تو روز افزوں مہنگائی ، بیروزگاری ، بد امنی، اسٹریٹ کرائمز اور جذباتی باتوں ، ولولہ انگیز بیانات اور نعروں کے سوا کچھ نہیں آیا کرتا۔ ویسے اتنے صابر شاکر اور بھولے بھالے عوام میں نہیں سمجھتا کسی اورملک میں پائے جاتے ہوں گے جوکئی بار ، بار بار بلکہ ہر بار ایک ہی طرح کے سوراخوں سے ڈسے گئے ہیں لیکن نہ ان کا بھول پن دورہوتا ہے نہ ان کا صبر ٹوٹتا ہے۔ پیوستہ رہ شجرسے امید بہار رکھ پر خود کو استوارکیے بس جئے چلے جا رہے ہیں اور ہمارے بوجھ بجھکڑ نما انھیں نت نئی حکمت عملیوں اور دلاسوں کے تعویزگھول گھول کر پلائے جا رہے ہیں۔

بوجھ بجھکڑ قصبوں اور دیہاتوں میں ایسے لوگوں کوکہا جاتا ہے جو بظاہر بڑے عقلمند اور اندھوں میں کانا راجا کی مثال ہوا کرتے ہیں۔ یہ اب شہروں میں بھی ملتے ہیں اور ملکی و بین الاقوامی اقسام میں سستے مہنگے ہر داموں میں دستیاب ہو جاتے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ وطن عزیزکے سرکاری شعبوں میں وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں لیکن غیر سرکاری بھی ہوتے ہیں اورکبھی کبھی بوقت ضرورت باہر سے بھی درآمدکیے جاتے ہیں۔ یہ دنگ کر دینے والی ذہانت کے مالک ہوتے ہیں اور حیرت انگیز منصوبے بنانے میں ید طولیٰ رکھتے ہیں یہ اور بات ہے کہ ان منصوبوں کو عملی جامہ پہنانا اتنا ہی مشکل ہوا کرتا ہے جتنا کوے کو نہلا نہلا کر سفید کر پانا۔ ان بوجھ بجھکڑوں نے دہائیوں سے عجیب وغریب پالیساں اور طویل وقلیل المدتی منصوبے بناکر قوم کے بیڑے کوغرق کرنے کی کاوشوں میں جس بے مثال کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے وہ لائق صد تحسین ہے۔

ایک گاؤں میں کوئی بھولا بھالا سا دیہاتی بالکل ویسا ہی جیسے ہم عوام ہیں، کسی درخت پرکسی نہ کسی طرح پھلوں کی لالچ میں چڑھ توگیا لیکن اترا نہیں جا رہا تھا اس نے چیخنا چلانا شروع کر دیا جیسے کہ اب ہم نے بھی چیخنا چلانا شروع کردیا ہے توگاؤں کے پنچ اور سر پنچ سب جمع ہوگئے اورکمیٹی بنا کر غور غوض میں لگ گئے کہ اسے نیچے اتاریں توکیسے اتاریں ؟

آخرکمیٹی کے ایک معزز ممبر نے بہت سوچ بچار کے بعد فرمایا کہ’’ اے لوگوں! کیوں پریشان ہوتے ہو؟ بھول گئے کہ ہمارے اس چھوٹے سے گاؤں میں جناب بوجھ بجھکڑ بھی رہتے ہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ آپ نے کیسے کیسے مشکل مسائل پچھلے سالوں میں چٹکی بجاتے ہی حل کر دیے ہیں چلو ان سے جا کر عرض کرتے ہیں۔‘‘ چنانچہ معززکمیٹی ممبران کا ایک وفد ترتیب دیا گیا اور وہ بوجھ بجھکڑ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے جو درویشانہ طور ایک کٹیا میں رہا کرتے اور حیات وکائنات کے مسائل پر غور و فکرکرنے میں منہمک رہاکرتے تھے۔

وفد نے جا کر مسئلہ بیان کیا تو وہ فورا لنگوٹی کس کر ان کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے اور ایک طائرانہ نظر پہلے مجمعے پر اور پھر اس درخت پر چڑھے مصیبت زدہ پر ڈالی اور جھٹ سے کہا کہ ’’ اوئے پاگلوں! یہ بھی کوئی مسئلہ ہے؟ جاؤ، ایک رسی لاؤ۔‘‘ رسی لائی گئی توکہا کہ ’’ اس کا پھندہ بناؤ‘‘ وہ بھی بن گیا ، پھر فرمایا ’’ اسے اس درخت زدہ تک اچھال دو‘‘ ایسا ہی کیا گیا۔ پھر آپ نے بڑی شفقت سے اس درخت پر پھنسے ہوئے سے کہا کہ ’’ بیٹا اسے کمر میں پھنسا لے‘‘ اس بے چارے نے بھی جلدی سے فورا حکم کی تعمیل کی۔

اب آپ نے نیچے کھڑے لوگوں سے کہا کہ ’’دوسرا سرا پکڑو اور زور سے کھینچو‘‘ انھوں نے ایسا ہی کیا تو وہ درخت پر چڑھا بندہ ہوا میں قلابازیاں کھاتا ہوا نیچے آیا اور زمیں سے ٹکرا کر جاں بحق ہوگیا۔ بوجھ بجھکڑ صاحب نے تعجب اور تاسف سے اسے دیکھا اور حیرت سے بت بنے پنچوں سے فرمایا کہ’’ ارے یہ تو مرگیا ! ارے بھئی اس کی قسمت میں ہی مرنا لکھا تھا ورنہ تم لوگوں کو یاد نہیں کہ پچھلے سال اسی طرح رسے والی ترکیب سے ہم نے بھینس کوکنویں سے کامیابی سے نکال لیا تھا۔‘‘

تو جس طرح بوجھ بجھکڑ صاحب نے درخت کی اونچائی کو کنویں کی گہرائی پر قیاس کرلیا اور اپنی ترکیب کو بے دھڑک آزما ڈالا بالکل ویسے ہی ہمارے بھی بہت سے بوجھ بجھکڑ بہت سے چھوٹے بڑے، قومی بین الاقوامی اور داخلی معاملات میں کچھ کا کچھ سمجھ کر نت نئی ترکیبیں لڑاتے اورکاوشیں کرتے نظر آرہے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ انھیں اس بات پر بلا کا یقین بھی ہے کہ اگر ترکیب نمبر اکیس نے کام نہیں کیا تو بائیس نمبر توکرے گی ہی، اور اگر وہ بھی کام نہ آئی تو ترپ کا اکہ یعنی ترکیب نمبر چار سو بیس تو بھی ناکام ہوئی ہی نہیں، اسے ہی آزما دیں گے۔

دہائیاں اور سال بیت گئے یہ ترکیبیں آزماتے آزماتے لیکن عوام کا کچھ بھلا نہ ہوا ہاں بقول حبیب جالب وہی حالات ہیں فقیروں کے، دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے، ہر بلاول ہے قوم کا مقروض، پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے۔ نہ جانے ہمارے دن کب پھریں گے اور پھریں گے بھی کہ نہیں۔ لیکن مجھے امید ہے کہ امید رکھنے کے سوا چارہ بھی کیا ہے کہ ہمارے جدید بوجھ بجھکڑ اب وہ پرانے زمانے والے نہیں ہیں بلکہ تعلیم جدید سے بہرہ مند اور بین الاقوامی تجربے کے حامل ہیں وہ تبدیلی لاکر دکھائیں گے اور ہم جیسے شکی مزاج اور بس ہر وقت شکوے شکایت ہی کرتے رہنے والوں کا منہ ضرور بند کردیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔