افغانستان میں جہاد کے باوجود پاکستان اپنے لئے وہاں جگہ نہیں بناسکا، مولانا فضل الرحمان

ویب ڈیسک  پير 14 اکتوبر 2013
پاکستان کی سفارتکاری جو کئی سال میں حاصل نہ کرسکی وہ میں نے 3 دن میں حاصل کرلیا، مولانا فضل الرحمان  فوٹو: ایکسپریس نیوز

پاکستان کی سفارتکاری جو کئی سال میں حاصل نہ کرسکی وہ میں نے 3 دن میں حاصل کرلیا، مولانا فضل الرحمان فوٹو: ایکسپریس نیوز

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فصل الرحمان نے کہا ہے کہ افغان جہاد میں ہم نے کئی قربانیاں دیں لیکن اس کے باوجود ہم وہاں اپنے لئے جگہ نہیں بناسکے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ان کی افغانستان کے دورے میں صدر حامد کرزئی سے ملاقات کے دوران خطے اور بالخصوص افغانستان کے داخلی معاملات پر بات ہوئی جبکہ طالبان سے مذاکرات کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ انہوں نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات میں بنیادی کردار پاکستان کا ہوگا اور ان کی جماعت امریکا اور طالبان کے مذاکرات کی بھرپور حمایت کرتی ہے کیونکہ افغانستان میں اتفاق رائے مذاکرات کے نتیجے میں ہی ہوگا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان کے افغانستان کی موجودہ حکومت کے حوالے سے اپنے بھی تحفظات ہیں، 2001 کے بعد ہم یہ بات کہتے رہے ہیں کہ افغانستان طالبان حکومت کے دور میں پاکستان کا حامی تھا لیکن طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد وہاں بھارتی لابی سرگرم ہوگئی تاہم وہ اس سے متعلق تمام تفصیلات حکومت کے سامنے رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں جہاد کے باوجود ہم وہاں جگہ نہیں بناسکے، گزشتہ 8 سالوں میں پاکستان کی سفارتکاری جو حاصل نہ کرسکی وہ ہم نے کابل میں 3 دن رہ کر حاصل کرلیا تاہم آگے حکومت کی مرضی ہے کہ وہ اس سے فائدہ حاصل کرتی ہے کہ نہیں اور وہ اس سلسلے میں وزیر اعظم نوازشریف اور ان کی ٹیم سے بھی بات کریں گے اور تمام صورتحال سے آگاہ کریں گے تاکہ ہم خطے میں قیام امن کے لیے ایک بڑا کردار ادا کر سکیں۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ان کی صدر کرزئی سے ملاقات میں افغان صدر نے اپنے ملک میں قید تمام پاکستانی قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کیا، اب حکومت کو اس سلسلے میں بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے کیونکہ یہ بھی ملک کا مسئلہ ہے اور وہاں جو قیدی ہیں وہ بھی پاکستانی بچے ہیں، افغان صدر نے ہم سے وعدہ کیا ہے کہ وہ تمام پاکستانی قیدیوں کو رہا کردیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔