کرتار پور راہداری کھولنے کا فیصلہ… امن کی جانب بڑا قدم!!

’’پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی رواداری‘‘ کے حوالے سے فیصل آباد میں منعقدہ ’’ایکسپریس فورم‘‘ کی رپورٹ

’’پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی رواداری‘‘ کے حوالے سے فیصل آباد میں منعقدہ ’’ایکسپریس فورم‘‘ کی رپورٹ

جمعرات کو پاکستان اور بھارت کے مابین کرتار پور راہداری سے متعلق معاہدہ طے پاگیا ہے جس کی مدت پانچ سال ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان 9نومبرکو اس راہداری کا افتتاح کریں گے۔

پاکستان اوربھارت کے درمیان تاریخی کرتار پور صاحب راہداری کھولے جانے کے حوالے سے معاہدے پر دستخط ہونا خطے میں ایک اہم تزویراتی ٹرننگ پوائنٹ ہے۔ اس معاہدے کے مطابق روزانہ 5 ہزار سکھ یاتری بغیر ویزا گوردوارہ کرتار پور صاحب میں اپنی مذہبی رسومات ادا کر سکیں گے۔

کرتارپور راہداری پاکستان حکومت کا بھارت سمیت پوری دنیا کی اقلیتوں کے لیے ایک آفاقی پیغام ہے کہ اس خطے کو امن واستحکام کی ضرورت ہے۔ اس اہم پیش رفت کو دیکھتے ہوئے ’’کرتارپور راہداری اور پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی و رواداری ‘‘ کے حوالے سے ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ایک مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میںمختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ فورم میں ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

 اجمل چیمہ
(وزیر اعلیٰ پنجاب انسپکشن ٹیم کے سربراہ و رہنما پاکستان تحریک انصاف)

پاکستانی معاشرہ مذہبی رواداری کی عظیم مثال ہے۔ محرم الحرام، ربیع الاول، کرسمس ، نئے سال کی تقریبات و دیگر مذاہب کی تقاریب میں رواداری دکھائی جاتی ہے اور سب ایک دوسرے کی خوشی میں شریک ہوتے ہیں۔ حکومتی سطح پر بھی مذہبی تہوار منائے جاتے ہیں تاکہ رواداری اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جاسکے۔ سکھ برداری کے مذہبی تہوار پر پاکستان دنیا بھر کے سکھوں کو خوش آمدید کہتا ہے۔

ان کیلئے سہولیات و دیگر انتظامات کا بندوبست کیا جاتا ہے جو پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی و رواداری کا مظہر ہے۔بعض حلقوں کی جانب سے بلا وجہ تنقید کی جاتی ہے جو درست نہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے جس انداز میں اقوام متحدہ میںدین اسلام کی بات کی اور مسلمانوں کو دہشت گردی کے الزام سے باہر نکالا وہ قابل تعریف ہے۔

ان اس تقریر سے اسلام کا مثبت چہرہ اجاگر ہوا ہے۔ کرتار پور راہداری کے تاریخی معاہدے سے دنیا کو مثبت پیغام گیا، وزیراعظم عمران خان خود 9 نومبر کو کرتار پور راہداری کا افتتاح کریں گے۔ کرتارپور راہداری پر مثالی اقدامات کیے جارہے ہیں،سکھوں کے لیے کوئی ویزا نہیں ہو گا ، انہیں عالمی معیار کی سہولیات فراہم کی جائیں گی اور سکیورٹی کے بھی بہترین انتظامات کیے جائیں گے۔

پاکستان کلمے کے نام پر بنا ہے مگر جب پاکستان کی بنیا درکھی گئی تو مسیحی براردری نے پاکستان کے حق میں ووٹ دیا اور دیگر اقلیتوں نے بھی پاکستان میں رہنے کو ترجیح دی یہی وجہ ہے کہ پاکستانی پرچم صرف سبز رنگ سے نہیں بنایا گیا بلکہ چاند تارہ و سفید رنگ یہ واضح کرتا ہے کہ یہ ملک سب کا ہے اور یہاں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ اقلیتیں بھی موجود ہیں جو مکمل آزاد ہیں۔اس کے برعکس بھارت میں تمام مذاہب کے لوگ مشکلات اور ظلم کا شکار ہیں۔ نریندر مودی ہٹلر کا پیروکار ہے جو تمام آوازوں کو دبانا چاہتا ہے۔ اسے سمجھنا چاہیے کہ ظلم سے آواز بند نہیں کی جاسکتی لہٰذا اسے خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

 جارج کلیمنٹ
( سابق وزیر مملکت و نیشنل کووارڈینیٹر مینارٹی ونگ پاکستان تحریک انصاف)

کسی بھی شخص کو اس کے مذہبی معاملا ت سے دور رکھنا دہشت گردی ہے۔ مذہبی آزادی انسانی حقوق کا حصہ ہے اور ہمیں خوشی ہے کہ پاکستان میں سب کو یہ آزادی حاصل ہے۔پاکستان کی اقلیتی برادری پاکستانی قیادت کے مذہبی رواداری کے جذبے کو سراہتی ہے۔ میرے نزدیک کرتار پور راہداری کھولنا ایک عہد ساز فیصلہ ہے جس کے دیر پا اثرات مرتب ہوں گے، یہ فیصلہ نہ صرف ملکی ثقافت کو بدل دے گا بلکہ اس سے امن و امان کی صورتحال میں بھی بہتری آئے گی۔

حکومت پاکستان کے اس فیصلے سے سکھ کمیونٹی کو نئی جلا ملی ہے۔اس وقت پاکستان مثبت اقدامات جبکہ بھارت منفی اقدامات کی طرف بڑھ رہا ہے اور مودی کی سیاسی بصیرت نہ ہونے کی وجہ سے آج بھارت مشکل سے دوچار ہے۔ مودی کو وقت کا تقاضہ سمجھنا چاہیے اور اپنے ملک میں بسنے والے تمام شہریوں کو مذہبی آزادی دینی چاہیے۔

ایک بات واضح ہونی چاہیے کہ کرتارپور راہداری کھولنے کا مقصد مودی کو نیچا دکھانا نہیں بلکہ سکھوں کو ان کے حقوق فراہم کرنا ہے۔ اس اقدام سے پاکستان کی ثقافت بھی بہتر ہوگی کیونکہ بابا گرونانک کا ہماری دھرتی پر زندگی گزارنا ہماری ثقافت کا حصہ ہے جو ایک ا عزاز ہے۔ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے۔

میں وزیراعظم عمران خان کے دل میں دیگر مذاہب کیلئے موجود احترام کو سراہتا ہوں۔حکومت پاکستان کی جانب سے کرتارپور راہداری کھولناقابل تعریف ہے جس کے دو پہلو ہیں۔ پہلا انسانیت جبکہ دوسرا پاکستان کے مثبت امیج کے حوالے سے ہے۔ اس سے دنیا کو اچھا پیغام گیا ہے کہ پاکستان میں سب کے حقوق کا خیال رکھا جاتا ہے۔ پاکستان نے اقلیتوں کے لئے اپنی باہیں پھیلا دی ہیں اور اپنے دل کے دروازے کھول دیے ہیں۔ جس سے حالات بھی تبدیل ہورہے ہیں۔ ہمیں فخر ہے کہ یہاں اقلیتوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔

صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی
(معروف مذہبی رہنما )

کرتارپور راہداری کھول کر ریاست پاکستان نے بہت بڑا قدم اٹھایا ہے،اس سے ثابت ہوگیا کہ پاکستان میں اقلیتیں مکمل آزاد ہیں اور یہی ہمارے معاشرے کا حسن ہے۔ سکھ کمیونٹی پہلے بھی ننکانہ صاحب ،پنجہ صاحب آتی ہے، کرتار پور راہداری کھولنے سے عالمی سازشوں پر پانی پھر گیا ہے، اب مسلم سکھ دوستی مزید مضبوط ہوگی۔

میں نے بابا گرو نانک کے بارے میں کتابیں پڑھیں اور ان کا قریب سے مطالعہ کیا ، وہ بہت پرامن شخصیت تھے اور مسلمانوں کے دوست تھے۔ ہندوستان انتہا پسندی پر اتر ا ہوا ہے، بھارت میں مذہبی رواداری نہیں، کشمیر میں مظالم ڈھائے جا رہے ہیں اور نہتے کشمیریوں کو کسی قسم کے حقوق حاصل نہیں بلکہ وہاں تو تمام عبادت گاہوں میں عبادت پر قدغن ہے ،جنازہ بھی نہیں پڑھانے دیا جاتا جو افسوسناک عمل ہے۔ بھارت میں دیگر مذاہب کے لوگوں کو بھی تنگی کا سامنا ہے۔آر ایس ایس کے لوگ اپنے ملک میں صرف اپنے مذہب کی بات کرتے ہیں اور دیگر مذاہب کے لوگوں کو کچلنے کی کوشش کرتے ہیں۔کرتار پور راہداری کھولنے کے اقدام سے عالمی سازشوں پر بھی پانی پھر گیا ہے۔

دنیا کو معلوم ہوگیا کہ پاکستان پرامن ملک ہے اور یہاں سب کو حقوق حاصل ہیں۔ ہم اپنی جماعت کی جانب سے بین المذاہب ہم آہنگی کے پروگرام منعقد کراتے ہیں اور گزشتہ کئی برسوں سے مذہبی رواداری کوفروغ دے رہے ہیں۔ہم اقلیتی بھائیوں کے تہواروں کے کامیاب انعقاد میں ان کی مدد کرتے ہیں،ا سی طرح ہمارے تہواروں پر وہ ہماری مدد کرتے ہیں۔ خدانخواستہ اگر کوئی مسئلہ درپیش ہو توہم اس کے حل میں پیش پیش ہوتے ہیں تاکہ تصادم کی صورتحال پیدا نہ  ہو۔ ہمیں سمجھنا چاہیے کہ یہ ملک سب کا ہے، ہم نے مل کر اس کی حفاظت کرنی ہے اور اسے امن کا گہوارہ بنانا ہے۔

گرمیت سنگھ
(رہنما ہیومینیٹی بی فور ریلیجن )

سکھ برداری دن رات دعائیں کرتی تھی کہ کرتار پور بارڈر کھل جائے اور اب ہماری دعا قبول ہوگئی ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ اب ننکانہ صاحب کو دوربین سے دیکھنے کے بجائے تمام سکھ وہاں جاکر ماتھا ٹیک سکیں گے۔ ہم ہر قسم کی سیاست کو نظر انداز کرتے ہیں اور کرتار پور راہداری کے راستے میں آنے والی کسی رکاوٹ کو خاطر میں نہیں لائیں گے۔

مودی اور آرایس ایس کو ڈر ہے کہ کرتار پور راہداری کھلنے سے سکھ مسلم دوستی مزید گہری ہوجائے گی۔بھارت ہماری آواز بند کرنے کی کوشش کر رہا ہے مگر اسے سمجھنا چاہیے کہ وہ جتنا دبائے گا یہ آواز اتنی ہی مضبوط ہوگی اور زیادہ ردعمل آئے گا، بھارت مزید ظلم کرکے دیکھ لے، اب خالصتان اور کشمیر کی آزادی قریب ہے۔ کرتار پور راہداری کھولنے کے اقدام سے برصغیر کی سیاست بدل گئی ہے۔

پاکستان کے اس اقدام کے خلاف پراپیگنڈہ کیا جارہا ہے جس کا مقصد بدنام کرنا ہے لیکن ہمیں خوشی ہے کہ پاکستان نے ٹھنڈے دماغ کے ساتھ درست فیصلہ کیا ہے، نریندر مودی کو بھی چاہیے کہ نفرت کے بجائے محبت کو فروغ دے۔ وزیراعظم عمران خان نے ہمارا دیرینہ مطالبہ پورا کر دیا لہٰذا ان کا نام سکھوں کی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ کرتارپور راہداری کھولنے سے پاکستان میں مذہبی سیاحت کو فروغ ملے گا جس سے ملکی معیشت بھی مستحکم ہوگی۔

 شاہنواز خان
(نمائندہ سول سوسائٹی)

پاکستان کے بارے میں بیرون ملک بیٹھے لوگوں کا تاثر یہ ہے کہ یہاں شدت پسندی ہے اور مذہبی رواداری نہیں ہے جو غلط ہے۔آج یہاں تمام مذاہب کے لوگ موجود ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سب ایک ہیں اور سب کو ہی مکمل آزادی حاصل ہے۔ کرتارپور بارڈر کھولنا بہت اہم اقدام ہے، اس سے پاکستان پر ایک خاص قسم کا لیبل لگانے کی عالمی سازشیں دم توڑ گئی ہیں۔

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے اپنی تقریر میں مذہبی رواداری کی تلقین کی، آئین پاکستان بھی ہر شخص کی آزادی کی گارنٹی دیتا ہے۔ پاکستان پرامن ملک ہے ، یہاں اکثریت اور اقلیت کو مساوی حقوق حاصل ہیں، عالمی دنیا دیکھ لے کہ وطن عزیز اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے پیش پیش ہے۔ پاکستان کا مثبت چہرہ دنیا کو نظر آرہا ہے۔ اس معاہدے سے دنیا کو یہ پیغام گیا ہے کہ پاکستان میں اقلتیں محفوظ ہیں۔

پاکستانی بابا گرونانک کے 585 ویں جنم دن پر سکھ بھائیوں کو خوش آمدید کہنے کیلئے تیار ہیں۔پاکستان میں مذہبی مقامات کا احترام ہے۔ ہر کسی کو مسجد ،مندر، گرجا گھر و اپنی اپنی عبادت گاہوں میں جانے کی آزادی حاصل ہے۔ یہاں تمام شہریوں کو بلا تفریق رنگ، نسل مذہب مکمل آزادی اور حقوق حاصل ہیں۔ امید کرتے ہیں کہ تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اور سول سوسائٹی مل کر دنیا میں پاکستان کا مثبت چہرہ اجاگر کرنے کیلئے کردار ادا کرے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔