معصومہ راجپوت

سحرش پرویز  منگل 29 اکتوبر 2019
کینسر حیاتیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے والی بلوچستان کی پہلی خاتون

کینسر حیاتیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے والی بلوچستان کی پہلی خاتون

بہت سی پاکستانی خواتین ایسی ہیں، جنہوں نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔ بڑے بڑے شہروں سے لے کر چھوٹے چھوٹے پس ماندہ دیہاتوں سے بھی کام یاب خواتین ابھر کے سامنے آئی ہیں۔

معصومہ راجپوت بھی انہی میں سے ایک ہیں، جس پر پورے پاکستان کو فخر محسوس ہوتا ہے۔ معصومہ راجپوت بلوچستان سے تعلق رکھنے والی پہلی خاتون ہیں، جنہوں نے رواں سال جولائی میں جرمنی کی مشہور یونیورسٹی ہیڈلبرگ انسٹیٹیوٹ آف ریسرچ (HEIDELBURG INSTITUTE OF RESEARCH) سے کینسر حیاتیات (CANCER BIOLOGY) میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر کے تاریخ رقم کر دی ہے۔

مجموعی طور پر معصومہ راجپوت ہیڈلبرگ سے کینسر حیاتیات میں ماسٹرز کرنے والی دنیا کی 25 ویں خاتون ہیں۔ معصومہ کا تعلق بلوچستان کے پس ماندہ علاقے  سے ہے، لیکن اپنی محنت اور لگن سے انہوں نے اپنے آپ کو منوایا ۔اس سے پہلے معصومہ نے ہیڈلبرگ سے ملنے والی ’اسکالر شپ‘ پر اپنے بیچلر کی ڈگری مکمل کی اور اب انہیں ہارورڈ یونیورسٹی (HARWARD UNIVERSITY) سے کینسر ریسرچ میں انٹرن شپ سے بھی نوازا گیا ہے۔

معصومہ کے مطابق ’’یہاں تک آنے میں کسی ایک فرد نے بھی ان کی راہ نمائی نہیں کی، لیکن اس کے شوق نے اسے تقدیر کا راستہ دکھایا۔ جب بھی کوئی شخص فیصلہ کرتا ہے اور کچھ کرنا چاہتا ہے تو پھر کچھ بھی نا ممکن نہیں ہوتا۔ معصومہ کا تعلیمی سفر عام اسکولوں سے ہوتا ہوا آگے بڑھا ہے، لیکن وہ غیر روایتی طور پر کچھ کرنے کا عزم  رکھتی تھیں۔

انہوں نے کسی اسکول سے او لیول کی تعلیم حاصل نہیں کی بلکہ پرائیویٹ امتحانات کے لیے خود کو تیار کیا۔ معصومہ راجپوت بچپن سے نرس بننے کا شوق رکھتی تھیں، لیکن جسیے جیسے ان کی زندگی آگے بڑھتی رہی، ان کی سوچ بدلنے لگی اور پھر انہوں نے کچھ ایسا کرنا چاہا، جو بالکل نیا ہو۔ معصومہ نے ’او‘ اور ’اے‘ لیول میں BIO COMMASTARIUMکو ترجیح دی۔

انہیں 14 مضامین میں ’اے‘ گریڈ ملا۔ اسی طرح اے لیول میں بھی ان کی کارکردگی شان دار رہی۔ معصومہ کہتی ہیںکہ ’’انہیں واقعی ہر معاملے میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، کیوں کہ انہیں اس حوالے سے آگے کی راہیں بتانے والا کوئی نہ تھا، اور نہ ہی کسی اور نے اس شعبے کو اپنایا تھا۔ تحقیق کرنا ایک الگ چیز ہے اور کسی مریض کا علاج کرنا الگ بات ہے۔ یہ نوکری نہیں، بلکہ ایک اہم ترین کام ہے۔

اگر حکو مت اس حوالے سے کوئی اہم اقدام اٹھائے گی، تو میں خوشی خوشی پاکستان میں تحقیق کرنا چاہوں گی۔‘‘ معصومہ آگے جا کے ہارورڈ یونیورسٹی میں اسکالر شپ لینے کی خواہش مند ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ پہلے تحقیق کریں، پھر لوگوں کی خدمت کریں۔

معصومہ کی دل چسپی بلڈ کینسراور امیونولوجی (IMMUNOLOGY) میں تحقیق کرنے میں ہے۔ معصومہ کے لیے اس شعبے میں جانے کا فیصلہ آسان نہیں تھا، کیوں کہ کسی بھی لڑکی کے لیے یہ سب کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، لیکن جب معصومہ نے یہ فیصلہ کیا تو انہیں کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا، لیکن خاندان کے کچھ لوگوں کی مدد سے انہیں ملک سے باہر جانے میں مدد ملی۔ اس سے پہلے وہ کبھی تنہا ملک سے باہر نہیں نکلی تھیں۔ معصومہ کے عزائم پختہ تھے، تبھی انہیں منزل کو پانے میں زیادہ دشورایوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور کام یابی کے دروازے معصومہ کے لیے خود بخود کھلتے گئے۔

پاکستان میں اکثر خواتین گھریلو کاموںتک ہی محدود رہتی ہیں اور انہیں اپنی صلاحیتوں سے منہ پھیرنے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔ تاہم زیادہ سے زیادہ خواتین مقامی اور بین الاقوامی سطح پر کام یابیاں سمیٹ کر اس تصور کو توڑ رہی ہیں اور یہ تمام پاکستانیوں کے لیے اعزاز کی بات ہے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔