شدید خود پسندی سے اعصابی تناؤ اور ڈپریشن میں کمی

ویب ڈیسک  منگل 29 اکتوبر 2019
شدید خود پسندی یا ’’گرینڈوئز نارسسزم‘‘ میں انسان خود کو سب سے زیادہ اہم سمجھتا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

شدید خود پسندی یا ’’گرینڈوئز نارسسزم‘‘ میں انسان خود کو سب سے زیادہ اہم سمجھتا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

لندن: ویسے تو خود پسندی کو شخصیت کے منفی پہلوؤں میں شمار کیا جاتا ہے لیکن حال ہی میں 700 افراد پر کیے گئے ایک مطالعے میں انکشاف ہوا ہے کہ ’’شدید خود پسندی‘‘ والے مزاج سے نہ صرف اعصابی تناؤ میں کمی واقع ہوتی ہے بلکہ ڈپریشن میں مبتلا ہونے کے امکانات بھی خاصے کم رہ جاتے ہیں۔

کوینز یونیورسٹی بیلفاسٹ، برطانیہ میں اسکول آف سائیکولوجی کے لیکچرار اور انٹریکٹ لیب کے سربراہ، ڈاکٹر کوستاس پاپا گیورگیو نے اپنے تازہ تحقیقی مقالوں میں بتایا ہے کہ خود پسندی یا نرگسیت کی ایک قسم ’’شدید خود پسندی‘‘ میں مبتلا افراد میں اعصابی تناؤ کم رہتا ہے جبکہ وہ بدترین حالات میں بھی بہت کم ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں۔

شدید خود پسندی یا ’’گرینڈوئز نارسسزم‘‘ میں انسان خود کو سب سے زیادہ اہم سمجھتا ہے اور اسے یوں لگتا ہے جیسے اس کے بغیر دنیا کا چلنا محال ہے۔ اپنے مقابلے میں دوسرے اسے حقیر نظر آتے ہیں جبکہ اسے اپنا مقام و مرتبہ سب سے بلند محسوس ہوتا ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ شدید خود پسندی میں مبتلا انسان اتنی زیادہ خود اعتمادی کا شکار ہوتا ہے کہ وہ کسی کو اپنا حریف بننے کے قابل ہی نہیں سمجھتا۔

لیکن اپنے اسی رویّے کی وجہ سے وہ اپنی زندگی کی مشکلوں کو بھی بہت حقیر جانتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ وہ ان مشکلات پر قابو پاسکتا ہے؛ اور اپنے تمام مسائل بخوبی حل کرسکتا ہے۔

یہ کیفیت حقیقی ہو یا غیر حقیقی، لیکن اس میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اس شخص پر اعصابی تناؤ کا حملہ بھی بہت کم ہوتا ہے اور نتیجتاً وہ ڈپریشن کا شکار بھی بہت کم ہو پاتا ہے۔

شدید خود پسندی کے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہوئی مذکورہ تحقیق ’’پرسنیلٹی اینڈ انڈیویجوئل ڈفرینسز‘‘ اور ’’یورپین سائیکیٹری‘‘ نامی ریسرچ جرنلز کے تازہ شماروں میں شائع ہوئی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔