پی سی بی نے کرپٹ عامرکی واپسی کیلیے کوشش تیز کردی

اسپورٹس رپورٹر  منگل 15 اکتوبر 2013
پیسر کے کیس کا از سر نو جائزہ لینے کیلیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ۔فوٹو : آن لائن.فائل

پیسر کے کیس کا از سر نو جائزہ لینے کیلیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ۔فوٹو : آن لائن.فائل

لاہور:  پی سی بی نے کرپٹ کرکٹر عامرکی ڈومیسٹک کرکٹ میں واپسی کیلیے کوشش تیز کردی۔

اسپاٹ فکسنگ میں جیل کی ہوا کھانے والے پیسر کے حوالے سے لندن لا فرم کی تیار کردہ رپورٹ آئی سی سی کو ارسال کردی گئی، کیس 17 اکتوبر کو شروع ہونے والے ایگزیکٹیو بورڈ اجلاس کے دوران زیر غور لایا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کے عبوری چیئرمین نجم سیٹھی نے آئی سی سی ایگزیکٹیو بورڈ کے گزشتہ اجلاس میں محمد عامر کو این سی اے میں موجود سہولتوں اور کوچز سے استفادے کی اجازت دینے کی درخواست کردی تھی، پیسر کے کیس کا از سر نو جائزہ لینے کیلیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ۔

جس کی رپورٹ تاحال منظر عام پر نہیں آسکی، پی سی بی نے اس دوران امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا، ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بورڈ نے محمد عامرکی سزا میں رعایت سے متعلق قانونی امور کا جائزہ لینے کیلیے لندن کی ایک لا فرم کی خدمات حاصل کی تھیں، اس کی تیار کردہ رپورٹ آئی سی سی کو ارسال بھی کردی گئی۔

جس پر 17سے 19اکتوبر تک شیڈول ایگزیکٹو بورڈ اجلاس میں غور کیا جائے گا، اس موقع پر قبل ازیں بنائی جانے والی کمیٹی کے سربراہ جائلز کلارک بھی اپنی رپورٹ پیش کریں گے، لندن میں ہونے والی میٹنگ میں پاکستان کی نمائندگی نجم سیٹھی اورچیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد کریں گے۔

ان کی کوشش ہوگی کہ ستمبر 2015 میں سزا ختم ہونے تک محمد عامر کو کم از کم این سی اے میں موجود سہولیات اور کوچنگ اسٹاف کی خدمات سے فائدہ اٹھانے کی اجازت مل جائے، بورڈ کا خیال ہے کہ ڈومیسٹک سطح پر کھیلنے کا موقع ملنے سے پیسر کیلیے انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کی تیاری آسان ہوجائے گی۔ دوسری طرف محمد عامر کا کہنا ہے کہ مجھے اپنی غلطی کا احساس ہے، جرم قبول کرکے معافی بھی مانگ چکا،بحالی پروگرام کے تحت آئی سی سی اور پی سی بی سے تعاون کررہا ہوں، کم عمری میں ہی بڑا سبق سیکھ لیا، دوبارہ کرکٹ کھیلنا چاہتا ہوں، وعدہ کرتا ہوں کہ عوام کے جذبات کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچاؤں گا، امید ہے کہ آئی سی سی مجھے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت دیدے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔