شائقین نے سڈنی کو منی پاکستان بنا دیا

سلیم خالق  پير 4 نومبر 2019
میدان میں کارکردگی اچھی نہ رہی مگر کھلاڑیوں کو شائقین کی بھرپور سپورٹ حاصل تھی۔

میدان میں کارکردگی اچھی نہ رہی مگر کھلاڑیوں کو شائقین کی بھرپور سپورٹ حاصل تھی۔

آج جب سڈنی کرکٹ گراؤنڈ پہنچا تو بالکل پاکستان جیسا ماحول پایا، ہزاروں ہم وطن قومی پرچم تھامے گرین شرٹس پہنے  موجود تھے،کوئی ڈانس کر رہا تھا تو کسی کی کوشش تھی کہ جلدی سے چہرے پر قومی پرچم پینٹ کرا لے،بڑے ہی زبردست مناظر تھے،میری کئی لوگوں سے بات ہوئی، وہ دور دور سے  میچ دیکھنے آئے ہوئے تھے، ان کا کہنا تھا کہ ’’ٹیم جیتے یا ہارے ہم اسے ہمیشہ سپورٹ کرتے  رہیں گے‘‘، اس دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات تھے، گھڑسوار پولیس اہلکار بھی گشت کرتے رہے.

آسٹریلیا میں ہی آئندہ سال ٹوئنٹی 20 ورلڈکپ ہونا ہے، میری آج ورلڈ کپ کے سی ای او نک ہوکلے سے ملاقات طے تھی،  میچ والے دن اسٹیڈیم کے اندر ویڈیو بنانے کی اجازت نہیں ہوتی اس لیے میں نے انھیں باہر بلا لیا جہاں کافی دیر تک بات چیت ہوتی رہی، میں نے پاک بھارت میچ نہ ہونے کا پوچھا تو وہ کہنے لگے کہ ’’یہ سوال ہر کوئی مجھ سے کرتا ہے، واقعی ان دونوں ممالک جیسی کرکٹ میں رقابت کسی اور کی نہیں، اس بار ابتدائی راؤنڈ میں تو دونوں کا کوئی میچ نہیں ہوتا، شاید ناک آؤٹ اسٹیج میں ایسا ہو‘‘، میں نے جب پوچھا کہ کیا پاکستان اور بھارت کا وارم اپ میچ ہو سکتا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’’ابھی اس کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا‘‘۔

میچ شروع ہونے سے چند منٹ قبل بارش ہوئی مگر فوراً ہی رک گئی جس کی وجہ سے وقت پر آغاز ہوا، بعد میں بھی موسم کی مداخلت کا سلسلہ جاری رہا،اس دوران اسٹیڈیم کے کچھ حصے کی لائٹ چلی گئی جس نے بڑی اسکرین  کے ساتھ ساؤنڈ سسٹم بھی بند کرا دیا، پاکستانی ٹیم نے اچھی بیٹنگ نہیں کی، ہر بار کی طرح بابر اعظم نے ہی نصف سنچری بنا کر اسکور کچھ بہتر مقام تک پہنچایا، عمررسیدہ عرفان کو نوجوانوں کی کرکٹ میں مصباح الحق  واپس لائے ہیں مگر فنچ نے  ان کی بْری طرح پٹائی کر دی، اگر پورا میچ ہوتا تب بھی آسٹریلیا بہت جلد  ہدف حاصل کر لیتا، اس میچ سے ثابت ہو گیا کہ ٹی ٹوئنٹی میں ٹیم کی پہلی پوزیشن خطرے میں ہے۔

میدان میں کارکردگی اچھی نہ رہی مگر کھلاڑیوں کو شائقین کی بھرپور سپورٹ حاصل تھی، ہر اچھے شاٹ پر انھیں بھرپور داد ملتی رہی، آسٹریلیا میں  میچ کے دوران کراؤڈ کو بہترین  ماحول  فراہم کیا جاتا ہے، اسٹیڈیم کے باہر مختلف  کیمپس لگے تھے، ایک جگہ بچوں کو ڈائیو لگا کر کیچ لینے کا موقع دیا جا رہا تھا، فیس پینٹ  و دیگر تفریح کی چیزیں بھی موجود تھیں، بچوں کو وقفے کے دوران میدان میں کھیلنے کا موقع بھی دیا گیا، جس  طرح آئی سی سی سے آنے والے ڈائریکٹر میڈیا آسٹریلیا، انگلینڈ اور دیگر بورڈز کو میڈیا کے کاموں میں فالوکر رہے ہیں، دیگر شعبوں میں بھی غیرملکی بورڈز کی کچھ نقالی کر لی جائے تو غلط نہ ہو گا، خیر آج تو بارش نے شکست سے بچا لیا،اب دیکھتے ہیں کینبرا میں کیا ہوتا ہے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔