مولانا کا دھرنا اور آخری پہر کا خواب

آصف محمود  بدھ 6 نومبر 2019
مولانا بڑبڑائے تو کیا میں یہ سب خواب دیکھ رہا تھا؟ (فوٹو: انٹرنیٹ)

مولانا بڑبڑائے تو کیا میں یہ سب خواب دیکھ رہا تھا؟ (فوٹو: انٹرنیٹ)

دھرنے کا چھٹا روز تھا۔ مولانا رات 12 بجے کے قریب دھرنے کے شرکا سے خطاب کے بعد واپس اپنے کنٹینر میں آچکے تھے۔ مولانا کے چہرے پر چھائی پریشانی اور تشویش پڑھی جاسکتی تھی۔ وہ کسی گہری سوچ میں گم نظر آرہے تھے۔ مولانا کے ذہن میں کراچی سے شروع ہونے والے آزادی مارچ، 5 دن کے طویل سفر کے بعد اسلام آباد پہنچنے اور پھر یہاں دھرنا دینے کے مناظر ان کے دماغ کی اسکرین پر دوڑ رہے تھے۔ مولانا کو مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کا رویہ بھی بدلتا محسوس ہورہا تھا۔ ن لیگ والوں نے لاہور میں بالکل لفٹ نہیں کروائی تھی۔ دھرنے میں دونوں پارٹیوں کا کوئی کارکن نظر نہیں آیا۔

جمعیت علما پاکستان، مرکزی جمعیت اہل حدیث وہ کہاں ہیں۔ مولانا نے سوچا۔ پھر خود ہی سوچا وہ تو خود تانگہ پارٹیاں ہیں۔ ان سے کیا گلہ۔ مگر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے ان کے ساتھ کیا کیا ہے؟ یہ کہیں میرے ساتھ ڈبل گیم تونہیں کررہیں؟ میرے آزادی مارچ اور دھرنے کے دباؤ کی وجہ سے ن لیگ نے ریلیف لے لیا، نوازشریف اورمریم کی ضمانتیں ہوگئیں۔ اگر اب وہ بیرون ملک چلے گئے تو پھر میرا کیا ہوگا؟

اور وہ بلاول، اس نے ذرا بھی لحاظ نہیں کیا میری سیاست، میری بزرگی کا۔ میں اتنا بڑاعالم دین ہوں۔ کس طرح دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا کہ ہم دھرنے اور احتجاج میں تو ساتھ ہیں مگر اس سے آگے نہیں جائیں گے۔ اگر ان پارٹیوں نے ساتھ نہ دیا تو پھر کیا بنے گا اس دھرنے کا، اس تحریک کا؟ کیا مجھے بھی ڈاکٹر طاہرالقادری کی طرح واپس لوٹنا پڑے گا، بغیر کسی کامیابی کے۔ میں نے تو عمران خان سے استعفیٰ لینے کا بول رکھا ہے، اسے وزیراعظم ہاؤس سے گرفتار کرنا ہے۔ میرے ان اعلانات کا کیا ہوگا؟ مولانا نے کچھ توقف کیا۔ قریب پڑی ٹیبل سے پانی کا گلاس اٹھایا اور ایک ہی گھونٹ میں گلاس ختم کردیا۔

وہ پھر سوچنے لگے، جو دعوے میں نے اس لاکھوں کے مجمعے کے سامنے کیے ہیں وہ پورے نہ ہوئے تو پھر کیا کروں گا؟ کیا مجھے بھی عمران خان کی طرح یوٹرن لینا پڑے گا۔ نہیں… نہیں میں یوٹرن نہیں لے سکتا۔ میں تو پاکستان میں سب سے منجھا ہوا سیاستدان ہوں، میں ہار نہیں مانوں گا۔ پیپلزپارٹی، ن لیگ کوئی ساتھ دے یا نہ دے میں اکیلا ہی استعفیٰ لے کر دکھاؤں گا۔

مولانا اسی سوچ میں گم تھے کہ کنٹینر کے دروازے پر ہلکی دستک ہوئی۔ ان کا پی اے ہاتھ میں موبائل فون پکڑے اندر آنے کی اجازت مانگ رہا تھا۔ مولانا نے سر کی جنبش سے اندر آنے کا اشارہ کیا۔ پی اے نے قریب آکر کہا حضرت! نامعلوم نمبر سے کال ہے۔ آرمی چیف آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔

آرمی چیف کا نام سنتے ہی مولانا کی آنکھوں میں چمک آگئی۔ انہوں نے فوراً فون پکڑ کر کان سے لگایا اور پی اے کو باہر جانے کا اشارہ کیا۔ مولانا چند منٹ تک دوسری طرف سے آنے والی آواز سنتے رہے۔ آخر میں بس اتنا بولے۔ جی ٹھیک ہے۔ میں بس آدھے گھنٹے میں پہنچتا ہوں۔ ٹیلی فون کال سننے کے بعد مولانا کے چہرے کے تاثرات بدل گئے تھے۔ چند منٹ پہلے جہاں پریشانی اور تشویش تھی اب خوشی کے آثار نظر آنے لگے تھے، آنکھوں کی چمک بھی بڑھ گئی تھی۔ ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے مولانا کی مراد پوری ہونے جارہی ہے۔ انہوں نے جلدی سے تیاری شروع کردی۔ تیاری کیا کرنا تھی، منہ ہاتھ دھویا، شیروانی تبدیل کی اور پی اے کو بلاکر چند ہدایات دیں۔ تھوڑی دیر میں ہی پی اے دوبارہ حاضرہوا اور بولا حضرت گاڑی تیار ہے۔

مولانا کنٹینر سے باہر نکلے تو پارٹی کے چند سینئر رہنما بھی موجود تھے۔ ان میں سے تین سینئر ترین ساتھیوں کو ساتھ لیا اور کہا کہ وہ ایک خاص ملاقات کے لیے جارہے ہیں، بہتر ہے آپ لوگ بھی ساتھ چلیں۔ مولانا اور ان کے ساتھ کنٹینر سے اتر کر پیچھے کھڑی لینڈکروزر میں بیٹھ گئے اور دھرنے کی جگہ سے باہر نکل آئے۔

جیسے ہی ان کی گاڑی دھرنے کے مقام سے باہر نکلی ایک سیکیورٹی گارڈ قریب آیا اور اشارے سے گاڑی روکنے کو کہا۔ مولانا کے ڈرائیور نے گاڑی روک دی تو سیکیورٹی گارڈ بولا کہ چند مہمان مولانا سے ملنے آئے ہوئے ہیں، وہ انہیں لینے کےلیے آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مولانا صاحب کسی سے ملاقات کےلیے جارہے ہیں اور وہ انہیں لینے آئے ہیں۔ ڈرائیور نے پیچھے بیٹھے مولانا صاحب کو اس بارے میں بتایا تو انہوں نے کہا ٹھیک ہے، ان گاڑی والوں کو کہیں کہ وہ اپنی گاڑی ہمارے آگے لگالیں، ہم ان کو فالو کرتے ہیں۔ وہ بھی بلیک کلر کی لینڈکروزر ہی تھی۔ اس میں کتنے لوگ سوار تھے مولانا یہ نہیں دیکھ سکے۔ یہ قافلہ 20 منٹ کی مسافت کے بعد ایک بڑی عمارت کے سامنے موجود تھا۔ عمارت کے باہر آرمی کی سیکیورٹی نظر آرہی تھی۔ مولانا کے ساتھ آنے والی سیکیورٹی کی گاڑی کو یہاں روک لیا گیا، جبکہ شناخت کے بعد مولانا کی گاڑی کو اندر جانے کی اجازت مل گئی۔

مولانا گاڑی سے باہر نکلے تو ایک وسیع وعریض عمارت میں تھے۔ اطراف میں فوجی وردی اور کچھ سول کپڑوں میں محافظ نظر آرہے تھے۔ مولانا نے اندازہ لگالیا کہ شاید یہ عمارت کسی خفیہ ایجنسی کا دفتر ہے۔ یہاں پہلے ہی کئی گاڑیاں موجود تھیں۔ آرمی چیف، وزیراعظم کے اسٹاف سمیت کئی دیگر لوگ بھی موجود تھے۔ مولانا تمکنت سے چلتے ہوئے ایک کمرے میں پہنچے جہاں چند نامعلوم افراد نے ان کا استقبال کیا۔ تھری پیس پہنے ایک شخص نے مولانا سے کہا کہ اپنے ساتھیوں سے کہیں کہ وہ یہاں تشریف رکھیں، آپ اکیلے اندر تشریف لے آئیں۔

مولانا کے اشارے پر ان کے ساتھ جانے والے پارٹی کے سینئر رہنما اسی کمرے میں بیٹھ گئے، جبکہ مولانا خود اس تھری پیس پہنے شخص کے ساتھ چلے گئے۔ ایک راہداری کراس کرنے کے بعد اس شخص نے ایک دروازے پر ہلکی دستک دی اور پھر مولانا کو لے کر اندر داخل ہوگیا۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی مولانا حیران رہ گئے۔ کمرے میں آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی آئی ایس پی آر، چوہدری شجاعت، پرویزخٹک، پرویزالٰہی سمیت چند ایسے لوگ موجود تھے جن کو مولانا پہچانتے نہیں تھے۔ آرمی چیف نے کھڑے ہوکر مولانا کا خیر مقدم کیا اور انہیں خوش آمدید کہا۔ چوہدری شجاعت اور دیگر نے بھی مولانا سے حال احوال دریافت کیا۔ اس دوران پشاوری قہوہ بھی آگیا، ساتھ گرم میوہ جات کی پلیٹیں تھیں۔

چند منٹوں بعد گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا۔ چوہدری شجاعت حسین بولے ’’جی مولانا فرمائیے کیا چاہتے ہیں آپ؟‘‘

مولانا نے فوراً دو ٹوک جواب دیا۔ ’’وزیراعظم کا استعفیٰ!‘‘

’’اور اگر وہ استعفیٰ نہ دیں تو پھر؟‘‘

’’پھر کیا… ہم لوگ بیٹھے ہیں، دھرنا جاری رہے گا۔‘‘

اس دوران ڈی جی آئی ایس آئی بولے۔ حضرت آپ ایسا کیوں نہیں کرتے کہ ملک کے کسی بھی حصے سے اپنے یا اپنی اتحادی جماعتوں میں سے کسی ایک کے رکن قومی اسمبلی کا استعفیٰ دلوائیں، اس کی جگہ خود الیکشن لڑیں، جیت کر اسمبلی میں آئیں، آپ کو آپ کی من پسند وزارت دے دی جائے گی۔

مولانا بولے ’‘نہیں یہ نہیں ہوسکتا۔ دوبارہ الیکشن میں مجھے پھر ہروایا دیا جائے گا۔‘‘

دوسری آفر یہ ہوئی کہ چلیں آپ پی ٹی آئی میں شامل چند اراکین اسمبلی جو پہلے آزاد تھے، بعد میں حکومتی جماعت کا حصہ بنے اور ان کی وجہ سے پی ٹی آئی حکومت بناسکی، آپ ان کو ساتھ ملالیں۔ وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائیں اور وزیراعظم کو فارغ کردیں۔

مولانا نے کچھ دیر سوچا اور پھر بولے ’’نہیں، یہ بھی مشکل ہے، کوئی ہمارے ساتھ نہیں آئےگا، بلکہ ممکن ہے میرے اتحادیوں کے کچھ لوگ الٹا حکومت کے ساتھ مل جائیں اور ان کے ووٹ پہلے سے بھی بڑھ جائیں۔‘‘

چلیں پھر ایسا کرتے ہیں کہ آپ کی جماعت اور آپ کے اتحادی اسمبلیوں سے مستعفی ہوجائیں۔ اتنی بڑی تعداد میں اراکین کے مستعفی ہونے پر الیکشن کمیشن نئے سرے سے الیکشن کروانے کا اعلان کردے گا۔ مولانا اس پیش کش پر پھر گہری سوچ میں چلے گئے۔ انہوں نے آنکھیں بند کرلیں اور اس ساری صورتحال اور پیش کشوں کا جائزہ لینے لگے۔ ان کےلیے فیصلہ کرنا مشکل ہورہا تھا۔ ان کی آنکھیں بند تھیں۔ وہ مسلسل سوچ رہے تھے۔ گہری سوچ۔ اتنے میں انہوں نے محسوس کیا کہ کوئی ان کے پاؤں ہلا رہا ہے۔ ان کے کانوں میں ہلکی سی آواز آئی ’’حضرت اٹھ جائیں تہجد کا وقت ہونے کو ہے، وضو بنالیں۔‘‘

مولانا کی اچانک آنکھ کھل گئی۔ مگر اب منظربدل چکا تھا۔ وہ کسی کمرے کے بجائے اپنے اسی کنٹینر میں ہی موجود تھے اور شاید تھکاوٹ کی وجہ سے انہیں یہاں بیٹھے نیند آگئی تھی۔

مولانا بڑبڑائے تو کیا میں یہ سب خواب دیکھ رہا تھا؟ آرمی چیف کا فون، ان سے ملاقات، کیا یہ سب خواب تھا؟ مولانا نے کنٹنیر کی دیوار کے ساتھ لگی گھڑی میں وقت دیکھا۔ رات کے ساڑھے تین بجنے والے تھے۔ کنٹینر کے باہر پنڈال اسپیکر پر اعلان ہورہا تھا۔ ساتھیو اٹھ جاؤ، نماز کی تیاری کرو۔ دیکھنا شیطان تمھیں نماز سے غافل نہ کرے۔ مولانا نے ہاتھ اٹھا لیے اور بولے۔ پرودگار سنا ہے رات کے آخری پہر کا خواب سچا ہوتا ہے۔ یااللہ تو میرے اس خواب کو سچا کردے۔ یہ دعا کرکے مولانا نماز کی تیاری میں مشغول ہوگئے۔

(نوٹ: خواب میں دیکھے گئے تمام کردار، واقعات اور گفت وشنید فرضی ہے، اسے موجودہ سیاسی ماحول سے تشبیہ نہ دی جائے، کسی بھی قسم کی مماثلت محض اتفاقیہ ہے، جس کےلیے بلاگر ذمے دار نہیں ہے۔)

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

آصف محمود

آصف محمود

بلاگر کا تعلق لاہور سے ہے اور وہ 2009 سے ایکسپریس میڈیا گروپ کے ساتھ وابستہ ہیں۔ پاک بھارت تعلقات، بین المذاہب ہم آہنگی اورسماجی موضوعات پرلکھتے ہیں۔ بلاگر سے اِس ای میل [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔