کراچی سے 150کلو میٹر دور گاؤں میں تیز بخار کی وبا، 3 بچے جاں بحق

طفیل احمد  جمعـء 8 نومبر 2019
بچوں کے طبی ٹیسٹ نہیں ہوئے، ڈنگی، ملیریا، ٹائیفائیڈکا شبہ ظاہر کیاجارہا ہے، ڈائریکٹر صحت۔ فوٹوَ: فائل

بچوں کے طبی ٹیسٹ نہیں ہوئے، ڈنگی، ملیریا، ٹائیفائیڈکا شبہ ظاہر کیاجارہا ہے، ڈائریکٹر صحت۔ فوٹوَ: فائل

کراچی: کراچی سے ڈیڑھ سوکلو میٹردورخاں محمد خاصخیلی میں تیز بخارکی وبا پھیل گئی، تیز بخارکی وجہ سے 3بچے دم توڑگئے۔

کراچی اور حب ڈیم کے درمیان واقع موئیدان گاؤں خاں محمد خاصخیلی میں پراسرار تیز بخار وبائی صورت اختیارکرگیا ہے جس کی وجہ سے گاؤں میں شدید خوف وہراس پھیل گیا ہے،  گاؤں میں تیز بخار کی وبا کئی روز سے جاری ہے جس کی لپیٹ میں بڑی عمر کے افراد سمیت بچے بھی آگئے ہیں۔

بدھ کے روز تیز بخار میں مبتلا 8سالہ بسمہ دختربھورو،5سالہ اختر علی ولد نورل اور12سالہ ثمینہ دختر رزاق تینوں بچے دم توڑ گئے ، ان میں سے اخترکو عباسی شہیداسپتال علاج کے لیے لایاگیا تھا، بسمہ قومی ادارہ امراض اطفال میں زیر علاج تھی جبکہ ثمینہ تیز بخار میں اپنے گھر پر دم توڑگئی۔

ان تینوں بچوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کراچی کے ڈائریکٹرصحت ڈاکٹرسید ہاشم شاہ اور ضلع ملیرکے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسرڈاکٹر احمد علی میمن نے ایکسپریس ٹریبیون سے جمعرات کو گفتگو کرتے ہوئے کی، ان دونوں افسران کا کہنا تھا کہ بدھ کوہمیں اطلاع ملی کہ مذکورہ گاؤں میں تیز بخار کی وجہ سے 3 بچے جاں بحق ہوگئے جس پر بدھ کو متاثرہ علاقے پہنچے جہاں بڑی عمر کے افراد بھی تیز بخار کی لپیٹ میں تھے۔

جاں بحق ہونے والے تینوں بچوں کے کوئی طبی ٹیسٹ نہیں کرائے گئے تھے اس لیے کلینکلی طورپر ڈنگی ، ملیریا اورٹائیفائیڈ کے مرض کا شبہ ہی ظاہر کیاجارہا ہے تاہم متاثرہ گاؤں سے بخار میں مبتلا افراد کے خون کے نمونے حاصل کرلیے گئے ہیں۔

دریں اثنا جمعرات کو ڈائریکٹر صحت کراچی ڈاکٹر سید ہاشم شاہ نے واقعے کی تفصیلی رپورٹ سیکریٹری صحت کو ارسال کردی ہے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔