آسٹریلوی میڈیا کی پاکستانی ٹیم کو ’’نو لفٹ‘‘

سلیم خالق  جمعـء 8 نومبر 2019
تمہاری ٹیم کی کارکردگی ایسی ہے کہ مقامی شائقین نہ ہی صحافی اس میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

تمہاری ٹیم کی کارکردگی ایسی ہے کہ مقامی شائقین نہ ہی صحافی اس میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

میں پہلی بار پرتھ آ رہا تھا، ٹکٹ بک کرنے کیلیے کونٹس ایئر لائنز کا ویب پیج کھولا تو 14طبق روشن ہو گئے، ایک تو سڈنی سے سفر 5 گھنٹے کا تھا دوسرا ٹکٹ کے نرخ بھی بہت زیادہ تھے، البتہ سفر اچھا گزرا جہاز میں کئی نشستیں خالی تھیں اس لیے آرام سے بیٹھ کر گیا، ہر سیٹ کے سامنے ایک آئی پیڈ رکھا تھا جس میں موویز دیکھ سکتے تھے۔

ایئرپورٹ سے باہر آتے ہی گرمی کا شدید احساس ہوا، آسٹریلیا کا موسم بھی عجیب ہے، سڈنی میں معتدل اور کینبرا میں سخت سرد تھا، پاکستانی ٹیم کی پریکٹس جمعرات کی صبح تھی، ماضی میں واکا پرتھ کو فاسٹ بولرز کی جنت قرار دیا جاتا تھا بڑے بڑے بیٹسمینوں کے یہاں کھیلتے ہوئے پاؤں کانپتے تھے مگر پھر نہ ماضی جیسے بولرز رہے اور پچ میں بھی ویسی جان نہ رہی، اب تو نئے پرتھ اسٹیڈیم میں میچز ہوتے ہیں، میں جب وہاں گیا تو خوبصورتی دیکھ کر دنگ رہ گیا، ساتھ ہی سوان لیک موجود ہے۔

یہ اسٹیڈیم کرکٹ کے ساتھ رگبی اور آسٹریلوی رولز فٹبال کیلیے بھی استعمال ہوتا ہے، اندر داخل تو ہوگیا لیکن بیشتر دروازے بند اور اسٹاف بہت کم موجود تھا، گراؤنڈ میں پاکستانی ٹیم نہیں دکھائی دی، پتا چلا کہ وہ عقبی ایریا میں نیٹ پریکٹس کر رہی ہے، میں وہاں گیا  تو دیکھا کہ موسیٰ خان پر کوچز کی خاص توجہ تھی، نیٹ کے پیچھے سے میں نے دیکھا ان کی رفتار واقعی بہت تیز ہے، دیکھتے ہیں موقع ملنے پر وہ کیسا پرفارم کرتے ہیں، پریکٹس کے بعد وہاب ریاض پریس کانفرنس کے لیے آئے اور وہاں صرف تین،چار صحافی ہی موجود تھے۔

ایسے مناظر کم ہی نظر آتے ہیں، پیسر کی گفتگو کا سلسلہ جلد ہی ختم ہو جاتا مگر شاید پہلے سے ہی پلان کر لیا گیا تھا اس لیے براڈ کاسٹر کی ٹیکنیکل ٹیم کی رکن بھی سوال کرتی دکھائی دیں، اس پوری سیریز میں آسٹریلوی میڈیا کی  جانب سے پاکستانی ٹیم کیلیے ’’نولفٹ‘‘ کا بورڈ نظر آیا، میں  نے بہت عرصے بعد کوئی ایسی انٹرنیشنل سیریز کور کی جس میں چند ہی صحافی موجود تھے۔

ایک آسٹریلوی سے وجہ پوچھی تو وہ کہنے لگا کہ ’’تمہاری ٹیم کی کارکردگی ایسی ہے کہ مقامی شائقین نہ ہی صحافی اس میں دلچسپی لے رہے ہیں، بھارت اور انگلینڈ سے میچ ہو تو رونق دیکھنا‘‘ یہ سن کر مجھے بڑا افسوس ہوا اور میں خاموش ہو گیا، ماضی میں جب کبھی آسٹریلیا آیا پریس کانفرنس اور میچ کے دوران صحافیوں کی بڑی تعداد موجود ہوا کرتی تھی مگر اب ایسا نہیں رہا، میری خبروں سے نیا پی سی بی بھی ناراض ہوگیا ہے۔

دبئی سے آئے ہوئے ڈائریکٹر میڈیا نے پہلا قدم اٹھاتے ہوئے میڈیا منیجرکوسختی سے ہدایت دی کہ مجھے کسی کھلاڑی کا انٹرویو نہیں کرنے دیا جائے، خیر قارئین جانتے ہیں ایسی باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتااور میں اپنا کام جاری رکھتا ہوں ورنہ سابقہ بورڈ انتظامیہ نے بھی ایسے کئی کام کیے تھے اب ان کا کوئی نام بھی نہیں لیتا، خیر موجودہ بورڈ میں اتنی زیادہ بدانتظامیاں نظر آئی ہیں کہ خبریں تو آتی رہتی ہیں، بجائے اپنے معاملات درست کرنے کے آفیشلز میڈیا سے ناراض ہوتے ہیں، خیر اب آخری ٹی ٹوئنٹی ہونے جا رہا ہے، ہماری تو یہی دعا ہے کہ ٹیم جیتے تاکہ نمبر ون پوزیشن کی کچھ تو لاج رکھی جائے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔