آئی ایم ایف ریونیو اہداف پر نظرثانی کیلیے آمادہ نہ ہوا

ارشاد انصاری  ہفتہ 9 نومبر 2019
مذاکرات کے بعد جائزہ مشن واپس چلاگیا،ٹیکسوں میں غیر ضروری چھوٹ ،مراعات ،ترجیحی برتاؤ ختم ، ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا ہوگی(فوٹو: فائل)

مذاکرات کے بعد جائزہ مشن واپس چلاگیا،ٹیکسوں میں غیر ضروری چھوٹ ،مراعات ،ترجیحی برتاؤ ختم ، ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا ہوگی(فوٹو: فائل)

اسلام آباد: پاکستان اور آئی ایم ایف جائزہ مشن کے درمیان 6ارب ڈالر قرض کی 45 کروڑ ڈالر کی دوسری قسط کے لیے مذاکرات مکمل ہوگئے ہیں، جس کے بعد پاکستان ا ور آئی ایم ایف جائزہ مشن کے درمیان دوسری قسط کے اجرا کے لیے معاہدہ طے پاگیا۔

مذاکرات کی تکمیل کے بعد آئی ایم ایف جائزہ مشن واپس روانہ ہوگیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے ریونیو اہداف پر نظر ثانی کے لیے آمادگی ظاہر نہیں کی اور کہا ہے کہ اضافی ریونیو اکٹھا کیا جائے اور اہداف حاصل کیے جائیں۔

آئی ایم ایف کا مزید کہنا ہے کہ منی لانڈرنگ کی روک تھام اور ٹیررازم فنانسنگ کی روک تھام کے حوالے سے بھی پیشرفت ہوئی ہے البتہ مارچ 2020 سے پہلے پہلے منی لانڈرنگ کی روک تھام اور ٹیررازم فنانسنگ کی روک تھام کے حوالے سے مزید بہت کچھ کرنا ہوگا۔

دوسری جانب آئی ایم ایف کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا بیرونی اور مالیاتی خسارہ کم ہو رہا ہے، ملک میں مہنگائی کم ہونے کی بھی امید ہے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔