مقبوضہ کشمیر، بھارت مخالف مظاہرے کے دوران پاکستانی پرچم لہرادیا گیا

خبر ایجنسیاں  پير 21 اکتوبر 2013
ضلع گاندر بل کا علاقہ پاکستان زندہ باد، اسلام زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا،فوٹو: فائل

ضلع گاندر بل کا علاقہ پاکستان زندہ باد، اسلام زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا،فوٹو: فائل

سری نگر: مقبوضہ کشمیرکے ضلع گاندر بل میں کشمیری نوجوانوں نے ایک بھارت مخالف احتجاجی مظاہرے کے دوران محکمہ بجلی کے ٹاور پر پاکستان کا پرچم لہرا دیا، سامبا میں ایک شہری کو شہید کردیا گیا، گرفتاریوں کے خلاف شوپیاںمیں ہڑتال کی گئی۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نوجوانوں نے پولیس  پر پتھرائو کیا اور پٹرول بم پھینکے، پولیس نے نوجوانوں کو منتشر کرنے کیلیے آنسو گیس کی شدید شیلنگ کی، اویس احمد بٹ نامی ایک نوجوان کو گرفتار کیا گیا، احتجاجی نوجوانوں نے بارسو کراسنگ، کھرہامہ اور کوندہ بل کے نزدیک جمع ہو گرفتار نوجوان کی رہائی کا مطالبہ کیا، پولیس سے جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوگئے جبکہ پولیس نے درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا، کشمیری نوجوانوں نے آزادی کے حق میں بھر پور نعروںکی گونج میں محکمہ بجلی کے دفتر پر پاکستان کا پرچم لہرایا، اس موقع پر ضلع گاندر بل کا علاقہ پاکستان زندہ باد، اسلام زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔ پولیس سے تصادم میں متعدد نوجوان زخمی ہو گئے۔ پولیس نے پرچم کو ہٹانے کیلیے بھارتی فوج سے مدد لی۔

دریں اثنا بارہ مولہ میں بھی لوگوں نے نوجوانوں کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے۔ قصبے میں پولیس سے تصادم میں 3 شہری زخمی ہو گئے۔ ایک شدید زخمی شخص کو سری نگر کے اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ بھارتی پولیس نے بارہ مولہ قصبے میں جمعے کو متعدد نوجوان گرفتار کیے تھے۔دریں اثنا بھارتی فوجیوں نے ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران ضلع سامبامیں ایک شہری کو شہید کردیا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس نے اس شہری کو سچیت گڑھ میں شہید کیا۔ اے پی پی کے مطابق حریت رہنما محمد یوسف فلاحی کی کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت مسلسل غیر قانونی نظر بندی اور نوجوانوں کی گرفتاری کے خلاف شوپیاں قصبے میں مکمل ہڑتال کی گئی۔ علاوہ ازیں چیئرمین فریڈم پارٹی شبیر احمد شاہ کو 3 دن بعد رہا کردیاگیا۔ شبیر  شاہ کو عید کے روز درگارہ حضرت بل میں نماز عید کی ادائیگی کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ ایڈووکیٹ میر شفقت حسین نے تحصیل دار نارتھ سری نگر کے سامنے ایک ضمانتی درخواست پیش کی جسے انھوں نے منظور کیا اور شبیر شاہ کو سینٹرل جیل سری نگر سے رہا کردیا گیا۔ واضح رہے کہ شبیر شاہ نماز عید ادا کرنے کیلیے درگاہ حضرت بل گئے تھے اور نماز عید کی ادائیگی کے دوران وزیر اعلیٰ کی موجودگی میں انھیں حراست میں لیا گیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔