’ہمپشائر ویٹ لیفٹنگ‘

سحرش پرویز  منگل 12 نومبر 2019
میں پاکستان کے لیے سونے کاتمغہ جیتنے والی کم عمر ترین ’ویٹ لفٹر‘ رابعہ شہزاد۔ فوٹو: فائل

میں پاکستان کے لیے سونے کاتمغہ جیتنے والی کم عمر ترین ’ویٹ لفٹر‘ رابعہ شہزاد۔ فوٹو: فائل

’ویٹ لیفٹنگ‘ کا نام سنتے ہی ہمارے ذہن میں مضبوط جسامت کے مالک مردحضرات آتے ہیں، کیوں کہ عام تاثر یہی ہے کہ مشقت کے کام اور بھاری وزن اٹھانا مردوں کا ہی کام ہے۔

خواتین تو کہلاتی ہی ’صنف نازک‘ ہیں، کہیں جو ذرا سا بھی وزن اٹھا لیں، تو ہاتھ پاؤں لے کر بیٹھ جاتی ہیں، بیمار ہو جاتی ہیں، لیکن پاکستانی ویٹ لفٹر رابعہ شہزاد نے 13 اکتوبر 2019ء کو ’ہمپشائر ویٹ لیفٹنگ‘ کے مقابلوں میں سب سے زیادہ وزن اٹھا کے سونے کا تمغا جیتا اور پاکستان کا نام روشن کیا۔

رابعہ شہزاد، جو کہ 49کلو گرام کی کیٹیگری میں شامل تھیں، 9 کلو ویٹ لفٹر کے گروپ میں اسنیچ (SNATCH)) اسنیچ میں لفٹر باربل کوزمین سے سر تک لے جاتا ہے( میں 40 کلو گرام اور کلین اینڈ جرک  (CLEAN AND JERK)میں 52 کلو گرام وزن اٹھایا ۔ ’کلین اینڈ جرک‘ دو حصوں کی لفٹنگ ہے، باربل کو کندھوں تک اٹھانے کے بعد، لفٹر اس کو بازو کی لمبائی کے اوپر لے جاتا ہے۔ رابعہ شہزاد سب سے کم عمر اور سب سے زیادہ مہم جوئی کرنے والی پاکستانی خواتین ویٹ لفٹرہیں۔ جنہوں نے بہت کم عمری میں بہترین فتوحات حاصل کی ہیں۔

21سالہ رابعہ شہزاد کا تعلق کراچی سے ہے۔ وہ بچپن سے ہی ’پہلوان‘ بننا چاہتی تھیں اور اس شوق کو بطور پیشہ اختیار کرنا چاہتی تھیں۔ چھوٹی سی عمر سے ہی رابعہ اپنے والد کے ساتھ کشتی کی مشق کیا کرتی تھیں، لیکن پھر انہوں نے ’ویٹ لفٹنگ‘ کے شعبے کو اپنانے کا فیصلہ کیا اور اب وہ پوری دنیا میں پاکستان کا نا م روشن کر رہی ہیں۔ انہیں پاکستان میں سب سے کم عمر ویٹ لفٹر کا اعزاز بھی حاصل ہے۔رابعہ شہزاد کے مطابق، انہیں بچپن سے ہی مختلف کھیلوں کا شوق تھا۔

رابعہ کا تعلق با صلاحیت، ہنر مند اور قابل خاندان سے ہے۔ رابعہ کے والد شہزاد بھی کھیلوں سے جڑے ہیں اور کشتی رانی کرتے ہیں، جب کہ رابعہ کی بڑی بہن ماہ نور شہزاد پاکستان کی بیڈ منٹن کھلاڑیوں میں سب سے نمایاں شمار ہوتی ہیں، وہ  قومی سطح پر بہت سے میچ جیت چکی ہیں۔ دونوں بہنوں نے دوسرے ممالک میں جا کر جس طرح پاکستان کا نام فخر سے بلند کیا ہے، جس کی مثال نہیں ملتی گویا ہنر اور صلاحیت ان کے خون میں شامل ہے۔ اپنے ملک کا نام بین الاقوامی سطح پر روشن کرنے والے علاوہ رابعہ شہزاد IBA(انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن) میں زیرِ تعلیم ہیں اور اس وقت کراچی کی واحد ویٹ لفٹر ہیں۔

ویٹ لفٹر بننے سے پہلے رابعہ شہزاد پانچ ہزار میٹر سے لے کر دس ہزار میٹر تک ریسنگ بھی کر چکی ہیں۔ 2016ء میں رابعہ شہزاد نے پانچ ہزار میٹر ریس کی دوڑ میں اپنی یونیورسٹی کی نمائندگی کی، جس میں انہوں نے سونے کا تمغا حاصل کیا اور دس ہزار میٹر کی ریس میں سلور میڈل حاصل کیا۔ اس مقابلے میں حصہ لینے کے لیے پوری دنیا سے ایتھلیٹ مدعو کیے گئے تھے، جس میں رابعہ کو بھی یہ اعزاز حاصل ہوا۔ 9 مارچ 2019ء کو ’سنگاپور نیشنل اوپن ویٹ لفٹنگ‘ میں رابعہ نے چاندی کا تمغا جیتا،جو اس کے لیے بہت اہمیت کا حامل تھا، کیوں کہ رابعہ نے بغیر کسی سر پرست اور سپر وائزر کے اس چیلنج کو قبول کیا تھا اور کافی حد تک اس میں کام یاب بھی ہوئی۔

رابعہ نے سنگاپور میں مجموعی طور پر 106کلو گرام وزن اٹھایا، جب کہ ہانگ کانگ چمپئن شپ میں رابعہ نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ مقابلوں سے پہلے رابعہ نے کراچی میں اپنے لیے ایک لاؤنج ایریا تیار کیا، جس میں کسی کی مدد کے بغیر اس نے مشق کی۔ رابعہ کا ہدف 2024ء کے اولمپکس میں شرکت کرنا ہے۔ رابعہ کا کہنا ہے کہ ’’ان کے لیے وہاں پہنچنا بہت ضروری ہے اور وہ اس کے لیے بہت محنت بھی کر رہی ہیں۔ وہاں پہنچنے کے لیے انہیں کسی کی مدد کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے اور وہ اس کے لیے سر توڑ کوشش کر رہی ہیں۔ انہیں امید ہے کہ وہ 2024ء کے اولمپکس میںسونے کا تمغا جیتنے میں کام یاب ہو جائیںگی۔

رابعہ کو شکایت ہے کہ خواتین پلیئر فیڈریشن مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے ہماری بالکل مدد نہیں کرتی۔ وہ ایشین پاور چیمپئن شپ میں شرکت کرنا چاہتی تھیں، لیکن فیڈریشن کے کسی فرد کی مدد نہ ہونے کی وجہ سے وہ مقابلے سے دست بردار ہو گئیں۔ حکومت بھی اس حوالے سے ہماری مدد نہیں کرتی، ہم جو کرتے ہیں، خود کرتے ہیں۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو ’فیڈریشن‘ کو متحرک کرنے کے لیے فوری توجہ دینا چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔