حمزہ شہباز اور احتساب عدالت کے جج کے درمیان تلخ کلامی

ویب ڈیسک  منگل 12 نومبر 2019
آپ کیا کررہے ہیں یہ پریس کانفرنس نہیں، جج کا حمزہ شہباز پر برہمی کا اظہار فوٹو:فائل

آپ کیا کررہے ہیں یہ پریس کانفرنس نہیں، جج کا حمزہ شہباز پر برہمی کا اظہار فوٹو:فائل

 لاہور: مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز اور احتساب عدالت کے جج کے درمیان نیب ریفرنس کی سماعت کے دوران گرما گرمی ہوئی۔

احتساب عدالت لاہور میں رمضان شوگر ملز کیس کی سماعت ہوئی تو ملزم حمزہ شہباز کو پیش کیا گیا جبکہ شہباز شریف کی حاضری معافی کی درخواست جمع کرائی گئی۔نیب وکیل نے بتایا کہ رمضان شوگر ملز کیس میں ضمنی ریفرنس دائر کردیا گیا ہے۔

عدالت نے نیب کو حکم دیا کہ آپ ملزم کو کٹہرے میں لیکر آئیں، جب حمزہ عدالت میں آئیں تو فوری کٹہرے میں آئیں تاکہ عدالت کا تقدس خراب نہ ہو۔ جج نے حمزہ شہباز پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کیا کررہے ہیں یہ پریس کانفرنس نہیں۔

حمزہ شہباز نے بھی جج کو جواب دیا کہ آپ مجھ سے کس طرح بات کررہے، میں نے ہمیشہ عدالت کا احترام کیا ہے، آپ اپنا رویہ ٹھیک کریں، اگر مجھے کسی نے سلام کیا تو اس کا جواب دینا اسلام میں فرض ہے، میں ان سے بات کرنا چاہتا تھا، آپ کے بات کرنے کا طریقہ مجھے مناسب نہیں لگا۔

حمزہ شہباز سے سخت لہجے میں بات کرنے پر عدالت میں ن لیگ کے وکلا نے احتجاج کیا۔ نیب نے ضمنی ریفرنس کی نقول شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے وکلا کو دیدی اور حمزہ شہباز کے جوڈیشل ریمانڈ میں 28 نومبر تک توسیع کردی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔