ایکسپریس انٹرٹینمنٹ کی ڈرامہ سیریل ، مغرب کی عشاء

ایکسپریس اردو  ہفتہ 7 جولائ 2012
ایکسپریس نے اپنے ناظرین کے لیے ایسی سیریلز اور موضوعات کا انتخاب کیا ہے

ایکسپریس نے اپنے ناظرین کے لیے ایسی سیریلز اور موضوعات کا انتخاب کیا ہے

پرویز مظہر: ایکسپریس انٹرٹینمنٹ پر پیش کی جانے والی ڈرامہ سیریلز ان دنوں اپنے منفرد موضوع کی وجہ سے ناظرین کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں، ایکسپریس نے اپنے ناظرین کے لیے ایسی سیریلز اور موضوعات کا انتخاب کیا ہے جو انھیں بامقصد تفریح فراہم کرسکے، اس سیریل کے رائٹر عاطف علی کا شمار ہمارے ملک کے ان نوجوان لکھاریوں میں ہوتا ہے جو آج کی نئی نسل کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کی سیریل ’’وی آر فیملی‘‘ ان دنوں ایکسپریس انٹرٹینمنٹ سے پیش کی جارہی ہے جبکہ ان کی اور ڈرامہ سیریل ’’ مغرب کی عشاء‘‘ گزشتہ دنوں شروع ہوئی جو اپنے دلچسپ موضوع کی وجہ سے ان دنوں ناظرین کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

اس سیریل کے ڈائریکٹر نعیم قریشی جبکہ سلیم شیخ، بدر خلیل، حبا علی، سہیل اصغر، عصمت زیدی، ردا اصفہانی،انتھونی،انعم عقیل نے کردار ادا کیے ہیں۔ فنکاروں نے اس سیریل میں بہترین ادکاری کا مظاہرہ کیا ہے، مغرب کی عشاء کہانی نہیں زندگی ہے،ایسی زندگی جو دریا کی مانند بہتی ہے۔ ایک تجربہ ہے اجنبی نگاہوں سے خود کو دیکھنے کا،اپنی خوبیوں اور خامیوں کا بھرپور تجزیہ کرنے کا کہ وہ بات جس پر ہم فخر کرتے ہیں،ایک تجزیہ ہے معاشرے میں قائم اُن فرسودہ رسم و رواج کا کہ جس کو ہم نے گلے سڑے ہونے کے باوجود اپنے سینے سے لگا رکھا ہے اور ان تمام جذبوں کو لیے ایک ایسا گھرانہ آپ کے سامنے آرہا ہے جو جانتے ہیں

جیا کیسے جاتا ہے، اپنے ایک غیر ملکی قریبی رشتہ دار کے ساتھ جو ہمارے دہرے معیار کا بھانڈا ایسے شگفتہ انداز میں پھوڑے گا کہ یقینا آپ کو بھی کہیں نہ کہیں اُس میں اپنا آپ دِکھائی دے گا، مغرب کی عشاء کہانی ہے اسلام کی جس کی اصل روح کو ہم نے کہیں گُم کردیا ہے۔ ایک ایسا سیریل جو تجربہ ہے آج کل کے ساس بہو کے روایتی ڈراموں سے ہٹ کر،خاندان درخت کی طرح ہوتا ہے، بظاہر تو اُس کی شاخیں مختلف سمتوں میں جاتی دِکھائی دیتی ہیں مگر اُن کی جڑیں ہمیشہ مضبوطی سے ایک ساتھ رہتی ہیں

’’مغرب کی عشاء‘‘ایک ایسے خاندان کی کہانی ہے جو ابھی تک مشترکہ خاندان کی مشرقی روایات کو گلے سے لگائے ہنسی خوشی کراچی کی ایک اپر کلاس آبادی میں رہائش پذیر ہے۔ بی اماں اپنے تین بیٹوں حمایت علی خان، شرافت علی خان اور سلامت علی خان کے ساتھ ایک بڑی سی عمارت میں رہتی ہیں، جسے قصرِ ممتاز کہا جاتا ہے۔ حمایت علی خان 58 سال کے ایک تندرست اور بارعب شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ عمارت کے ایک پورشن میں اپنی بیوی سلمیٰ اور جوان بیٹی ایمان کے ساتھ رہتے ہیں، گھر کے تمام فیصلے اُن کی رضامندی اور مرضی سے کیے جاتے ہیں۔ شرافت علی منجھلے بیٹے ہیں، وہ عمر کی 48 بہاریں دیکھ چکے ہیں، وہ اپنی بیوی شہلا اور چار بچوں کے ساتھ ایک پورشن میں رہتے ہیں۔ شادی پہلے اُن کی ہوگئی تھی، لہٰذا بڑا بیٹا شاہ زیب گھر کی سب سے بڑی اولاد ہے، دوسری بیٹی فلزا ہے، اُس سے چھوٹی حبہ اور آخر میں گھر کا بی بی سی شیزی (شہریار) ہے جو پورے گھر میں ہر کسی کی ٹوہ میں لگا رہتا ہے۔بی اماں کے تیسرے بیٹے سلامت علی ہیں، یہ 40 سال کے ہیں اور ابھی تک کنوارے ہیں، پاریش راول کے ڈائی ہارٹ فین ہیں جب کہ کسی بھی نئی آنے والی فلم کے کردار کو پسند کرکے خود بھی اُس کردار میں ڈھلنے کی کوشش کرتے ہیں۔

بی اماں گھر کی سب سے بڑی اور قابلِ احترام ہستی ہیں، جن کے سامنے پُررعب حمایت علی بھی سر جھکاتے ہیں، بی اماں اس گھر کی زبیدہ طارق ہیں، ہر مسئلے کا اُن کے پاس کوئی نہ کوئی ٹوٹکا ضرور ہوتا ہے، وہ گھر کے ایک بڑے کمرے میں اپنی مرحومہ بیٹی کے دو بچوں راحیل اور بیٹی آمنہ کے ساتھ رہتی ہیں، راحیل اور آمنہ کے والد بیرونِ ملک مقیم ہیں‘ جبکہ آمنہ کے تو سب گرویدہ ہیں، آمنہ ایک ڈرپوک اور جلدی سہم جانے والی معصوم لڑکی ہے جب کہ راحیل اور شاہ زیب ایک دوسرے کے گہرے دوست ہیں جبکہ آمنہ اور حبہ میں بہت بنتی ہے‘ شاہ زیب اپنے تایا کی بیٹی ایمان کو پسند کرتا ہے جب کہ راحیل اپنے ماموں شرافت علی کی بیٹی اور شاہ زیب کی بہن فلزا میں دلچسپی رکھتا ہے، حمایت علی اور شرافت علی کپڑوں کے اپنے خاندانی بزنس سے منسلک ہیں اور طارق روڈ پر کپڑے کی ایک بڑی اور مشہور دُکان کے مالک ہیں،

چھوٹا بھائی سلامت علی کیونکہ بزنس سے زیادہ شوبزنس میں انٹرسٹ رکھتے ہیں، اسی لیے اُن کے ذمے گھر کے کام کاج اور روز دوپہر کو دُکان پر کھانا پہنچانے کی ڈیوٹی لگی ہوئی ہے۔ حمایت علی کی بیوی سلمیٰ گھر کی بڑی بہو ہیں اور بڑی امی کہلاتی ہیں وہ ایک سوبر اور سمجھ دار خاتون ہیں جو سب کی ہر دلعزیز ہیں جب کہ شرافت علی کی بیوی شہلا تھوڑی تیز مزاج اور حرص کرنے والی خاتون ہیں، بجو یعنی ایمان ڈیزائننگ کے کورس کے لیے پچھلے ایک سال سے لندن میں مقیم ہے اور تین دن بعد پاکستان آرہی ہیں، اس لیے پورے گھر میں جوش کی سی کیفیت ہے، حمایت علی بھی دل ہی دل میں بہت خوش اور بیٹی کے منتظر ہیں، وہ اپنی اکلوتی بیٹی سے بہت محبت کرتے ہیں

غرض کہ تمام کزنز خصوصاً شہریار ایمان کا بہت منتظر ہے اور اس دفعہ وہ پکا ارادہ کر بیٹھا ہے کہ وہ ایمان سے اظہارِ محبت کر بیٹھے گا مگر پورا گھر اُس وقت شاک کی کیفیت میں آجاتا ہے جب ایمان اپنے ساتھ ایک خوبصورت انگریز لڑکے کے ساتھ آکر اُس کا تعارف عبدالمستقیم کے نام سے کراتی ہے ۔حمایت علی انتہائی سخت ردّعمل کا اظہار کرتے ہیں لیکن بی اماں اور شرافت آڑے آکر معاملے کو ٹھنڈا کرتے ہیں، اس طرح گورا صاحب گھر میں رہنا شروع کردیتے ہیں، وہ اپنے سسر حمایت علی کو منانے کے لیے جدوجہد کرنا شروع کردیتے ہیں، دوسری جانب گھر کے افراد کے لیے گوراصاحب ایک عجوبہ ہوتے ہیں اور پھر انسانی رویوں اور محبتوں کے واقعات کا ایک دلچسپ سلسلہ شروع ہوجائے گا۔اب پاکستانی معاشرے کے اس خاندان کو گورے کی آنکھ سے دِکھایا بھی جائے گا اور وہ سوالات بھی اُٹھائے جائیں گے جن کو ہم اکثر نظرانداز کردیتے ہیں،روایتی ڈرامے سے ہٹ کر ایک بالکل نئی جہت کی جانب اشارہ کرنے والا سیریل، جس میں خاندان اور معاشرے کی قدروں کو اجاگر کیا جائے گا، جس کی ان دنوں بہت ضرورت ہے

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔