ایواکاڈو سے ٹائپ 2 ذیابیطس میں بھی کمی آتی ہے

ویب ڈیسک  بدھ 13 نومبر 2019
ایواکاڈو میں ایک کمپاؤنڈ ’’ایوو بی‘‘ پایا جاتا ہے جو ذیابیطس کے خلاف لڑنے میں مدد دیتا ہے۔ (فوٹو: فائل)

ایواکاڈو میں ایک کمپاؤنڈ ’’ایوو بی‘‘ پایا جاتا ہے جو ذیابیطس کے خلاف لڑنے میں مدد دیتا ہے۔ (فوٹو: فائل)

اونٹاریو: چوہوں پر کی گئی ایک تازہ تحقیق میں یونیورسٹی آف گیلف، کینیڈا میں سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ ایواکاڈو (مگر ناشپاتی) میں ایک خاص طرح کا مرکب پایا جاتا ہے جو انسولین سے حساسیت بڑھاتے ہوئے، ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔

یہ دریافت مذکورہ یونیورسٹی میں فوڈ سائنسز کے طالب علم نواز احمد کی پی ایچ ڈی تحقیق کا نتیجہ ہے۔ ذیابیطس میں چوہوں کو فائدہ پہنچانے والے اس مرکب (کمپاؤنڈ) کا پورا نام ’’ایووکاٹن بی‘‘ یا مختصراً ’’ایوو بی‘‘ (AvoB) رکھا گیا ہے جو دراصل چکنائی کی ایک قسم ہے۔

تجربات کی غرض سے ’’ایوو بی‘‘ کو خالص حالت میں علیحدہ کیا گیا اور پھر اس کی مختلف مقداریں، موٹاپے اور ذیابیطس میں مبتلا کیے گئے چوہوں پر آزمائی گئیں۔ 13 ہفتے تک جاری رہنے والے اس تجربے میں چوہوں کو روزانہ چکنائی سے بھرپور غذائیں دی گئیں، جبکہ آخری 5 ہفتوں کے دوران چوہوں کی نصف تعداد کی غذا میں ’’ایوو بی‘‘ شامل کردیا گیا۔

یہ خبر بھی پڑھیے: روزانہ ایک ایواکاڈو کولیسٹرول کم کرنے کا بہترین نسخہ

نتائج سے معلوم ہوا کہ جن چوہوں کی غذا میں ’’ایوو بی‘‘ شامل کیا گیا تھا، وہ تجربے کے اختتام تک اپنے بڑھتے وزن پر خاصا قابو پا چکے تھے جبکہ ان میں انسولین سے حساسیت بھی نمایاں طور پر بڑھ چکی تھی، جو اس مرکب کے مفید ہونے کا ثبوت تھی کیونکہ ان چوہوں کے معمولات اور غذا، دونوں میں سوائے اس ایک مرکب کے، کوئی اور تبدیلی نہیں کی گئی تھی۔

ریسرچ جرنل ’’مالیکیولر نیوٹریشن اینڈ فوڈ ریسرچ‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں ماہرین نے ایواکاڈو میں پائے جانے والے ’’ایوو بی‘‘ کو بہت مفید قرار دیا ہے اور جلد ہی اس کی آزمائشیں انسانوں پر بھی شروع کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے؛ جس کےلیے انہیں ’’ہیلتھ کینیڈا‘‘ (کینیڈا میں امورِ صحت کی نگرانی کرنے والے سرکاری ادارے) سے بھی باقاعدہ اجازت نامہ موصول ہوچکا ہے۔

یعنی امید کی جاسکتی ہے کہ آئندہ چند برسوں میں ’’ایوو بی‘‘ کسی دوا کے طور پر نہ سہی لیکن ایک فوڈ سپلیمنٹ کے طور پر ضرور ذیابیطس کے مریضوں کےلیے دستیاب ہوگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔