عالمی اردو کانفرنس اور دانشوروں کے گردے

علیم احمد  ہفتہ 30 نومبر 2019
اردو زبان میں سائنسی و علمی اصطلاح سازی کے کام کی بات کی جائے تو یوں دیکھتے ہیں جیسے  گردے مانگ لیے ہوں۔ (فوٹو: فائل)

اردو زبان میں سائنسی و علمی اصطلاح سازی کے کام کی بات کی جائے تو یوں دیکھتے ہیں جیسے گردے مانگ لیے ہوں۔ (فوٹو: فائل)

’’جناب! اردو زبان میں سائنسی و علمی اصطلاح سازی کا کام برسوں سے تقریباً رکا ہوا ہے۔ اسے دوبارہ شروع کرنے کی کوئی کوشش ضرور ہونی چاہیے۔‘‘ میری بات سن کر حضرتِ دانشور نے میری طرف ایسے دیکھا جیسے میں نے موصوف کے دونوں گردے مانگ لیے ہوں۔ جھٹ سے بولے ’’ابھی تو جلدی میں ہوں، بعد میں بات کرتے ہیں۔ خدا حافظ!‘‘ یہ کہہ کر تیز قدمی سے چلتے ہوئے یوں غائب ہوئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ ادبی میلے (لٹریچر فیسٹیول) میں اس کے بعد کم از کم مجھے ان کی صورت دوبارہ دکھائی نہیں دی۔

میرے ساتھ یہ پہلا واقعہ نہیں تھا۔ معدودے چند کو چھوڑ کر بیشتر ’’اردو پرست‘‘ دانشوروں کا یہی حال ہے کہ اردو میں سائنسی اصطلاح سازی سمیت، کسی بھی سنجیدہ علمی موضوع پر بحث کو اپنی اقلیمِ دانشوری پر حملہ تصور کرتے ہیں؛ اور کیونکہ ان کے پاس گفتگو آگے بڑھانے کےلیے کچھ نہیں ہوتا، اس لیے عزتِ سادات بچانے میں عافیت جانتے ہیں اور معذرت کرکے کھسک لیتے ہیں۔

جب بھی اردو کے بارے میں کسی کانفرنس یا علمی تقریب کی خبر سامنے آتی ہے تو یہ اور اس جیسے نہ جانے کتنے ہی واقعات میرے ذہن میں گردش کرنا شروع ہوجاتے ہیں۔ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی… اُردو کی شامِ غریباں برپا کرنے والوں کے پاس صرف شکایتیں ہوتی ہیں، مرثیے ہوتے ہیں اور مطالباتِ محض کا پلندہ ہوتا ہے۔ لیکن اُردو کو درپیش حقیقی مسائل حل کرنے کے ذیل میں ان کے پاس نہ تو کوئی تجویز ہے اور نہ ہی کوئی لائحہ عمل۔

کراچی آرٹس کونسل میں سالانہ بنیادوں پر منعقد ہونے والی ’’عالمی اردو کانفرنس‘‘ کا معاملہ بھی اس سے کچھ مختلف نہیں۔ ویسے تو اس کا اصل مقصد، آرٹس کونسل کے انتخابات جیتنا ہوتا ہے لیکن ’’ووٹ پکے‘‘ کرنے کےلیے ’’اسپانسرز‘‘ کے خرچے پر، اردو زبان کا ’’چِیر ہرن‘‘ کردیا جاتا ہے۔ کچھ معروف مصنفین کی تقریریں، کچھ طنز و مزاح، کچھ تنقیدی نشستیں، کچھ نئی پرانی کتابوں پر باتیں، کچھ تازہ مرحومین کی فاتحہ خوانی اور کچھ منتخب عظیم ہستیوں کی پذیرائی اور مدح سرائی۔ شامِ افسانہ ہو یا نہ ہو، شامِ موسیقی ضرور ہوتی ہے… دل لبھانا بھی تو ضروری ہے بھئی، ورنہ اسپانسر کو کیا جواب دیں گے؟ سب سے آخر میں اختتامی نشست ہوتی ہے جس میں ایک لگی بندھی قرارداد پیش کردی جاتی ہے، جس میں اربابِ اقتدار سے اردو کے فروغ و نفاذ کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔

اس طرح انجمن ہائے ستائشِ باہمی کا یہ سالانہ میلہٴ ……. اختتام پذیر ہوجاتا ہے۔ (پورے سات نقطے ہیں۔ جو حروف مناسب سمجھیں، ان کی جگہ لکھ لیجیے گا، آپ کی صوابدید ہے!) اردو زبان کا بھلا ہو یا نہ ہو، کراچی آرٹس کونسل پر قابض ایک مخصوص لابی کا ضرور فائدہ ہوجاتا ہے کہ چند روز بعد ہونے والے سالانہ انتخابات میں وہی ٹولہ ایک بار پھر فاتح قرار پاتا ہے۔ کئی سال سے یہی معمول ہے، جو اتنا لگا بندھا ہے کہ اب تو زبانی یاد ہوچکا ہے۔

صاحبو! یہ ناچیز تو سائنسی صحافت کی وادیٴ پُرخار کا ایک معمولی سا مسافر ہے جو اس دشت کی سیاحی میں بتیس (32) سال گزار چکا ہے۔ ہرچند کہ ادب میرا میدان نہیں، لیکن مؤثر ابلاغ کے تمام راستے یہیں سے ہوکر گزرتے ہیں، اس لیے مفر بھی ممکن نہیں۔ بات اگر علمی ابلاغ کی ہو تو مفہوم واضح کرنے کےلیے سادہ اور سپاٹ زبان ہی کافی رہتی ہے، لیکن اگر کسی نکتے کو شعور کی گہرائیوں تک منتقل کرنا ہو تو پھر ادب کی سیڑھی کے بغیر یہ نزول ممکن ہی نہیں۔ مگر یوں لگتا ہے جیسے ادبی نشستوں کے باہر ’’کتوں اور علمی موضوعات کا داخلہ ممنوع ہے‘‘ کا غیر مرئی بورڈ لگا دیا گیا ہو۔

اگر ان حلقوں میں علم و ادب کے سنگم پر کبھی کوئی گفتگو ہوتی بھی ہے تو وہ بھی صرف ادب ہی کے مخصوص و مجرّد (ایبسٹریکٹ) تصورات اور اصطلاحات کے گرد گھومتی ہے، جس میں گنتی کے چند نقاد ہی شریک ہوتے ہیں (کیونکہ وہی شریک ہوسکتے ہیں)۔ ان بحثوں سے کچھ دانشوروں کی علمی انا کو تسکین ضرور پہنچتی ہوگی لیکن عملی محاذ پر کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

اردو زبان کے فروغ کی حکمتِ عملی کیا ہونی چاہیے؟ نئے قلم کاروں کی عملی تربیت کیسے ہوگی؟ ذرائع ابلاغ میں برتی جانے والی اُردو کیونکر بہتر بنائی جاسکے گی؟ مضمون نگاری اور کتب نویسی کا عمومی معیار کیسے بلند کیا جائے گا؟ مختلف اصنافِ ادب میں نئے چہرے (قابلیت کی بنیاد پر) کیسے متعارف کروائے جائیں گے؟ اس بارے میں کوئی بات کرنا گوارا ہی نہیں کرتا… شاید اس لیے کیونکہ یہ بڑے لوگوں کے مقام اور مرتبے سے گری ہوئی باتیں ہیں۔

شاید ہمارا دانشور طبقہ آج تک یہ بات سمجھنے سے قاصر ہے کہ کسی بھی زبان کی تشکیل میں افسانوی ادب (فکشن) کے ساتھ ساتھ غیر افسانوی ادب (نان فکشن) بھی مساوی مقام رکھتا ہے۔ شعر و شاعری، افسانہ، ناول، ناولٹ، ڈرامہ اور افسانوی ادب کی دیگر اصناف کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ معاشرے میں مختلف علوم کی ترویج اور نفوذ میں اپنی زبان کے استعمال پر پابندی عائد کردیں؟

عالمی اردو کانفرنس میں لمبی لمبی تقریر کرنے والے دانشور اگرچہ اسی معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں مگر یوں لگتا ہے جیسے سماجی اشرافیہ کی طرح ان کی دنیا بھی بالکل الگ ہے، جہاں اردو میں کام کرنے والے ’’قلم مزدوروں‘‘ کا تذکرہ کرنا بھی حرام ہے۔ اصطلاح سازی تو خیر اپنے آپ میں ایک وسیع میدان ہے جو ایک علیحدہ بحث کا متقاضی ہے لیکن اس سے ہٹ کر، اردو کے بہت سے دوسرے ’’زمینی معاملات‘‘ بھی ہیں جو صرف توجہ طلب ہی نہیں بلکہ حل طلب بھی ہیں۔ ملاحظہ کیجیے:

  • انگریزی سے اردو ترجمے کی ادارہ سازی (انسٹی ٹیوشنلائزیشن)، عملی تربیت سمیت؛
  • صحافیوں کےلیے درست اردو ابلاغ کی تربیت؛
  • صحافت میں برتی جانے والی اردو کی معیار بندی (اسٹینڈرڈائزیشن)؛
  • صحافیوں، قلم کاروں اور پیشہ ور مترجمین کےلیے درست/ جائز معاوضے کا تعین؛
  • ڈیجیٹل انقلاب اور ’’مفت پی ڈی ایف‘‘ کے دور میں اردو کتاب کا احیاء؛
  • اردو بلاگنگ/ وی لاگنگ کا حال اور مستقبل (کثیر جہتی نقطہ نگاہ سے)؛
  • اردو میں علم کے ابلاغ میں ادب سے استفادہ؛ اور
  • اردو کے عوامی ابلاغ پر سوشل میڈیا کے اثرات۔

یہ تو صرف چند نکات تھے جو فوری طور پر ذہن میں آگئے، ورنہ اگر اس بارے میں سوچ سمجھ کر عالمی اردو کانفرنس کا ایجنڈا طے کیا جائے تو اسے صحیح معنوں میں نتیجہ خیز اور اردو کے حق میں مفید بنایا جاسکتا ہے۔

لیکن بات پھر وہیں آجاتی ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے؟ جن کے پاس وسائل ہیں، وہ ذمے داری تفویض کرنے کو تیار ہیں مگر ذمے داری قبول کرنے والا سب کچھ ’’فی سبیل اللہ‘‘ انجام دے۔ یعنی اسپانسر کا پیسہ ان کی جیب میں، اور خجل خواری دوسرے کے نصیب میں۔ بھئی معاف کیجیے گا، کوئی بھی زبان اس فیوڈل مزاج کے ساتھ کبھی ترقی نہیں کرسکتی۔

مجھے معلوم ہے کہ چند دن بعد ہونے والی عالمی اردو کانفرنس کا ایجنڈا بھی کچھ خاص مختلف نہ ہوگا۔ کچھ بھی کہہ لیجیے! ہمارے دانشور اپنے علم دشمن مزاج میں اتنے پختہ ہوچکے ہیں کہ وہ اپنے گردے کسی کو بھی عطیہ کرنا نہیں چاہیں گے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

علیم احمد

علیم احمد

بلاگر 1987ء سے سائنسی صحافت کررہے ہیں، ماہنامہ گلوبل سائنس سے پہلے وہ سائنس میگزین اور سائنس ڈائجسٹ کے مدیر رہ چکے ہیں، ریڈیو پاکستان سے سائنس کا ہفت روزہ پروگرام کرتے رہے ہیں۔ آپ ورلڈ کانفرنس آف سائنس جرنلسٹس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے پہلے صحافی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔